لیلۃ القدر کی اہمیت اور فضیلت
- منگل 07 / جولائی / 2015
- 11461
خوش بختی ہماری ہے کہ پھر آیا ہے رمضاں
حق اس کا ادا کرنے کی توفیق دے رحماں
رمضان المبارک کی ایک مقدس رات کا نام لیلۃ القدرہے ۔ یہ رات بڑی برکتوں و رحمتوں والی اور اہمیت و عظمت کے لحا ظ سے اس کا بڑا اہم مقام و مرتبہ ہے۔ لیلۃ القدر کے لغوی معانی:(۱) قسمت والی رات (۲)حرمت والی رات (۳) قوت والی رات (۴)وقار والی رات (۵) سہولت والی رات اور تقدیر کی رات۔
لیلۃ القدر کے اصطلا حاََمعانی ہیں: رمضان المبارک کی وہ رات جس میں قرآن کریم کے نزول کی ابتدا ہوئی۔ جیسا کہ رب العزت خدا تعا لیٰ فرماتا ہے:۔ انّا انزلنہ فی لیلۃ القدر (سورۃ القدر۔۲) یقیناََ ہم نے اسے لیلۃ القدر میں نازل کیا ہے۔ پھر فرمایا:۔وما ادرٰ ک ما لیلۃ القدر( سورۃ القدر۔۳)۔ اور اے مخاطب !تجھے کیا معلوم ہے کہ یہ عظیم الشان رات جسمیں تقدیریں اترتی ہیں ۔کیا شے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نبی کا زمانہ رات کی طرح ہوتا ہے مگر رات بھی ایسی جسمیں آئندہ زمانہ کے متعلق خدا تعالیٰ کے فیصلے اترتے ہیں۔ چنانچہ اس سورۃ میں یہ بتایا گیا ہے کہ قرآن کریم کو ہم نے تقدیریں نازل کرنے والی رات میں اتارا ہے یعنی آئندہ زمانہ میں جوکچھ اس دنیا میں پیش آنے والا ہے، وہ قرآن میں بیان کر دیا گیا ہے۔
رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں سے ایک رات جس میں اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کے لئے خاص اپنی تجلّی فرماتا ہے اور ان کو اندھیروں سے روشنی میں بدل دیتا ہے ۔ جس طرح رمضان قرآن کے نزول کا مقدس مہینہ ہے اسی طرح یہ خاص رات آغازِ نزول قرآن کی رات ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے نزول قرآن کی رات کو برکت والی رات قرار دیا اور فرمایا:۔انّا انزلنٰہ فی لیلۃِ مبارکہ (سورۃالدخان۔۴) یعنی ہم نے قرآن کو ایک برکت والی رات میں نازل کیا ہے ۔ااسی طرح قرآن کریم نے سورۃ الدخان۔ ۵ میں لیلۃ القدر کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا:۔ فیھا یفرق کل امر حکیم یعنی کہ اس رات میں ہر حکمت والی بات اور امر کا فیصلہ کیا جاتا ہے ۔ گویا یہ فیصلوں کی رات بھی ہے۔اس لئے اسے دعاؤں اور عبادات کے ساتھ گزارنا چاہئے۔ تا کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے ہمارے حق میں ہوں اور پھر ان پر دوام اختیار کرنا چاہئے۔
پھر فرمایا:۔ لیلۃاقدر خیر مّن الفِ شھر (القدر۔۴) یعنی کہ لیلۃ القدر تو ہزار مہینے سے بھی بہتر ہے ۔ اس رات کی عبادات ہزار مہینے کی عبادات سے بہتر اور اس رات کی نیکیوں سے افضل ہیں۔ اور اس رات کے نتیجے میں پیدا ہونے والا انقلاب ساری زندگی سے بہتر ہے ۔ لیلۃ القدر کی ہی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا (القدر۔۵) ترجمہ!اس رات کے فرشتے اور روح القدس بھی اللہ کے حکم سے ہر امر لے کر اترتے ہیں۔ یہ کیا ہی بابرکت اور بختوں والی رات ہے ۔
آنحضرت ﷺ نے لیلۃ القدر کی فضیلت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جس شخص نے اپنے ایمان و احتساب کے ساتھ لیلۃالقدر کی رات عبادت میں گزاری اس کے تمام گزشتہ گناہ معاف کر دئے جاتے ہیں یعنی لیلۃ القدر سے فائدہ اٹھانے کے لئے آنحضرت ﷺ نے دو شرائط فرمائی ہیں ایک یہ ایمان صحیح، صاف اور کھرا ہو ۔دوسرا انسان اپنے نفس ایمان اور اقوال و اعمال کا محاسبہ کر کے ان کی بہتری اور اصلاح کی کوشش کر رہا ہو۔ تب برکات لیلۃ القدر کو سمیٹنے والا ہو گا۔ لیلۃ القدر کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اسے تلاش کرنے اور اس سے استفادہ کرنے کی ہدایت فرمائی ہے۔(حوالہ صحیح بخاری کتاب فضل لیلۃ القدرباب فضل لیلۃ القدر)
لیلۃالقدر رمضان کی کس تاریخ کو آتی ہے: اس کے متعلق متفرق روایات ملتی ہیں ۔ ایک تو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں سے کوئی رات ہو سکتی ہے یعنی رمضان کی 27.25.23.21 یا 29ویں رات مزید یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اس رات کی تاریخ کو معین نہیں فرمایا ہے۔یہ قدر کی رات مختلف سالوں میں مختلف ملکوں میں اور افراد کیلئے مختلف تاریخوں پر بھی ہو سکتی ہے ۔ کیونکہ وسعت دنیا اور فرق افق کی وجہ سے بعض ممالک ایک دن پہلے روزہ شروع کر دیتے ہیں کوئی دو دن پہلے۔ اس طرح ان ملکوں کی طاق راتیں اکٹھی نہیں ہو سکتیں۔
لیلۃ القدر کی پہچان: بعض روایات بزرگان امت کی تحریر کے مطابق رات کو بارش ہوتی ہے۔ ہوا چلتی ہے۔ بجلی چمکتی ہے۔ اور زمین و آسمان کے درمیان نور کی لہریں نظر آتی ہیں ۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ اسکی روحانی کیفیت کو تمام لوگ ایک ہی بار یا ہر کوئی دیکھ سکے۔ کیونکہ یہ ایک روحانی کشفی نظارہ ہوتا ہے۔ اکثر ایسا ہی ہوتا کہ لوگ ہر رات کے انتظار اور تلاش میں ہی رہتے ہیں مگر بغیر کسی ظاہری تجلی کے سارا رمضان گزر جاتا ہے ۔ لہذا انسان کو چاہئے کہ وہ پورے اخلاص و وفا کیساتھ روزے رکھے۔اور سارا رمضان خلوص نیت کیساتھ دعاؤں میں لگا رہے۔ نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے۔ تاکہ اس کو کسی وقت لیلتہ القدر کی تجلی نصیب ہو جائے۔
لیلتہ القدر کے لئے خاص دعا: حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے آنحضرتﷺ سے دریافت فرمایا کہ اگرمجھے معلوم ہوجائے کہ یہ رات لیلتہ القدر ہے تو میں اس میں کیا دعا مانگوں؟ جس پر آپﷺ نے فرمایا کہ یوں دعا کرنا ترجمہ:۔ کہ اے میرے اللہ تو عفو و بخشش والا ہے ۔ عفو و بخشش کو پسند کرتا ہے۔ پس تو مجھ سے بھی عفو و درگزر کا سلو ک فرما ۔( حوالہ جامع ترمذی کتاب الدعوت )
قیام لیلتہ القدر من الایمان:۔لیلتہ القدر میں تہجد کیلئے اٹھنا بھی ایمان سے ہی ہے۔ حضرت ابوہریرہؓسے روایت ہے۔رسول کریم ﷺ فرماتے تھے ۔جو لیلتہ القدر میں ایمان کی وجہ اور اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کی خاطر اٹھتا ہے تو جو بھی گناہ اس کے پہلے ہو چکے ہیں ان سے اسکی مغفرت کر دی جاتی ہے ۔(باب 25 حدیث نمبر 35 صحیح بخاری) ۔امام بخاری ؒ نے اسکی تشریح یوں کی ہے کہ لیلتہ القدر کی گھڑی پانے کی خاطر جسمیں دعا قبول ہوتی ہے، نماز تہجد کے لئے اٹھنا خدا تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنا ہے۔ خوش دلی سے رمضان میں تہجد کیلئے اٹھنا رمضان کے روزے رکھنا یہ سب باتیں ایمان کی ہی وجہ سے میسر ہوتی ہیں۔جیساکہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ لیلتہ القدر ہزار مہینے سے بھی بہتر ہے ۔ یہ ہزار مہینے 83 سال اور 4 ماہ ہیں جو ایک انسان کی مناسب عمر ہے ۔اسکا مطلب یہ ہوا لیلتہ القدر انسان کی ساری عمر سے بہتر ہے۔
کیا ہی وہ خوش نصیب ہے وہ انسان جسے اپنی زندگی میں لیلتہ القدر میسر آجائے ۔ اللہ کرے ہمیں اپنی زندگی کے ابتدائی سالوں میں یہ روحانی رات نصیب ہو جائے اور ہم ہمیشہ کیلئے عبادالرحمان میں داخل ہو جائیں۔ آمین ثم آمین