لفظوں کا بوجھ

  • ہفتہ 11 / جولائی / 2015
  • 4140

جب کہا گیا کہ “ جمہوریت بہترین انتقام ہے “ تو ہر ذی شعور سمجھ چکا تھا کہ اب عوام سے ایسا انتقام لیا جائے گا کہ وہ واویلا بھی نہیں کر پائیں گے۔ اور وقت نے ثابت کیا کہ معاہدہ مری سے جمہوریت کو انتقام بنانے کی بنیاد رکھ دی گئی ۔ شاید عوام سے اس بات کا انتقام لیا گیا کہ تم ہی ہو جو آمروں کے آنے پرمٹھائیاں تقسیم کرتے تھے۔ اور ایسا انتقام لیا گیا کہ لوگ اپنے پیاروں کی لاشوں کے ٹکڑے چنتے رہے۔ لیکن انتقام جاری رہا۔

اس بات میں دو رائے نہیں کہ پاکستانی قوم پہلے شخصیت پرست(زندہ) تھی، اب مردہ پرست بھی ہے۔ آج تک ہم ان سیاستدانوں کو مردہ ماننے پر تیار نہیں جن کی ہڈیا ں بھی خاک ہو چکی ہیں۔ لیکن ہم بضد ہیں کہ “ وہ کل بھی زندہ تھے اور وہ آج بھی زندہ ہیں “ ۔ شاید تب تک زندہ رہیں گے جب تک عوام کی جیبوں میں ایک دھیلا بھی باقی ہے۔ مرتے تو صرف عوام ہیں۔ وہ بھی گمنامی کی موت ۔ ایسی موت کہ کسی اخبار کی صرف ایک کالمی خبر ہی بنتی ہے۔ اور بس۔

دوسری جانب 80کی دہائی کے ابتدائی حصے میں خزانہ، دوسرے حصے یعنی85 سے 90 تک وزارت اعلیٰ، 90ء کی دہائی میں میوزیکل چیئر میں دو دفعہ وزارت عظمیٰ، 2009-10 میں وفاق کا حصہ، 2013 کے عام انتخابات کے بعد وفاق میں حکومت، پنجاب میں حکومت، بلوچستان میں مخلوط حکومت، اس کے علاوہ کم و بیش وسائل کے اعتبار سے ملک کے سب سے بڑے صوبے کے پچھلے تیس سالوں میں آدھے سے زیادہ وقت مطلق العنان حاکم رہنے والے بھی دوبارہ سے دعویٰ کر رہے ہیں کہ اگر انہیں مزید وقت دیا جائے تو تبدیلی لے آئیں گے۔ معلوم نہیں وہ کیسی تبدیلی ہو گی جو وہ پچھلے 35 سالوں کے اختیار میں نہیں لا سکے اور اب لائیں گے۔

اب تصویر کا دوسرا رخ ملاحظہ کریں۔ دو سال میں لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کرنے کے دعوے داروں نے لفظوں کے ایسے تیر چلائے کہ یہ بیوقوف قوم سمجھ بیٹھی کہ شاید ان کے آتے ہی کرپشن کے بڑے گروو اقعی چاک گریباں لئے سڑکوں پر پریشان حال ہوں گے ۔ کیوں کہ مائیک توڑ دعویٰ تو یہی تھا کہ سڑکوں پر گھسیٹیں گے۔ لیکن جب اقتدار کا ہما سر بیٹھ گیا تو عوام کو ٹھینگا دکھایا گیا ۔ اور سیاسی گرو(خود ساختہ) کے گھر جا کر نہ صرف معافی تلافی کی گئی بلکہ یہ تاثر دیا گیا کہ وہ تو بس جذبات کی رو میں کہہ دیا گیا تھا۔ اورمقصد صرف عوام کو بے وقوف بنانا تھا۔ ورنہ ہماری یہ جرات کہ آپ کو سڑکوں پر گھسیٹیں۔ آپ تو جیسے چاہیں اس ملک کو نوچیں۔ ایک حصہ آپ نوچیے ۔ دوسرا حصہ ہم نوچتے ہیں۔ حساب برابر۔ لفظوں کی مار دونوں نے ایک دوسرے کو دی ۔ اور دونوں نے ہی اپنے لفظوں کا پاس بھی نہیں رکھا۔ جھوٹے لفظوں کا ان دیکھا بوجھ ہمارے سیاستدانوں کے سرچڑھتا جا رہا ہے۔ اب دیکھیں کون اس بوجھ کے نیچے دب جاتا ہے۔ اور کون بوجھ اتارنے کی ہمت کرتا ہے۔

مری معاہدے کے مطابق ایک طرف ایک بھائی ہوائی سڑکیں بنا رہا ہے تو دوسری طرف بڑا بھائی (سب پہ بھاری بھائی ) مسکراہٹیں بکھیر رہا تھا۔ پھر نہ جانے رینجرز کو کیا سوجھی کہ دہشت گردی اور لاقانونیت کو جڑ سے اکھاڑنے کا کام اپنے ذمے لے لیا۔ رینجرز نے ان ہستیوں کو بھی لپیٹنا شروع کر دیا جو بڑے صاحب بنے پھرتے تھے۔ نازک اندام ہمراز جیل یاترا پر گئے تو جلتی پہ تیل کا کام ہوا۔ کبھی گھر سے انکل سام کی تصویر والے کاغذ برآمد ہوئے تو کبھی لاوارث کشتی کے وارثوں کا پتہ چل گیا۔ بات سنورنے کے بجائے بگڑتی چلی گئی۔

ہمیشہ کہا گیا کہ سیاسی گرو کی سیاست سمجھنے کے لیے پی ایچ ڈی کرنی پڑے گی تو شاید گمان ان کو یہ ہوا کہ واقعی ہم سیاست کے کوئی مہان ہیں۔اسی زعم میں کچھ لفظ ادا ہو گئے۔ جو اب باوجود کوشش کے واپس نہیں ہو پا رہے۔ لفظ کیا ادا ہوئے ہنگامہ برپا ہو گیا۔ چھوٹے بھائی نے بھی فوراً ہاتھ کھڑے کر دئے ۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ وہ اپنی جگہ پر خوفزدہ ہیں کہ کہیں اگلی باری ہماری نہ آ جائے۔ شنید ہے کہ منہ بولے بڑے بھائی کے بیان کی وجہ سے چھوڑے بھائی کو سپہ سالار سے ملاقات کے لئے کافی پاپڑ بیلنے پڑے اور ملاقات کے بعد شاید جواب ملاwho cares۔

ملاقات میں شاید کہا گیا ہو کہ جناب بڑے بھائی کو پتہ نہیں کیا سوجھی جو ایسے لفظ کہہ بیٹھے ہمارا اس میں نہ تو قصور ہے نہ ہی ہم سے رائے لی گئی۔ اور شاید افطار پارٹی میں نہ جانا بھی اپنی کارکردگی گنوائی گئی ہو گی۔ لفظوں کا بوجھ بھائیوں کے ساتھ ساتھ اقرباء اور مقربین کو بھی ڈبو رہا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اپنے کہے گئے لفظوں کے بوجھ سے ہی گردن میں ایسا خم آئے کہ باوجود حکیمی نسخوں کے بھی سیدھا نہ ہوسکے ۔۔لفظوں کا بوجھ اٹھائے قافلہ مع اہل و عیال پرائے دیس سدھار چکا ہے۔کچھ بعید نہیں کہ لفظوں کے بوجھ تلے آج سائیں دبے ہیں تو باری میاں جی کی بھی آجائے۔ باری تو یقیناًآنی ہی ہے ۔ کیوں کہ آثار بتاتے ہیں کہ حالات اچھے نہیں۔ رینجرز ، فوج اور دیگر اداروں کے اندر بھی یقیناًخرابیاں موجود ہیں شاید اسی لئے ان اداروں کے اندر بھی جاری احتساب کا قصہ زبان زدعام ہو رہا ہے۔

رینجرز و ملکی دفاع کے ضامن ادارے بس سن رہے ہیں ان کا کام بیانات پر توجہ دینا تو ہے ہی نہیں۔ خبری خبریں دے رہے ہیں کہ وہ تو شاید دہشت گردی کے عفریت سے نجات دلانے کا تہیہ کئے بیٹھے ہیں۔ سونے پہ سہاگہ یہ کہ فوج کے اندر بھی صفائی مہم کا آغاز ہو چکاہے۔ سابق فوجی سربراہ کے بھائی پہلے ہی زیر عتاب ہیں۔ قرائن بتاتے ہیں کہ خرابی وردی میں ہو یا اچکن میں دور کر کے ہی دم لیا جائے گا۔ ایک مصمم ارادہ۔ اب اس ارادے میں کوئی اچکن آئے، شیروانی، واسکٹ، تھری پیس سوٹ یا خاکی وردی، انہیں پروا نہیں۔ اور پرواہ اسی لئے نہیں کہ انہیں پرواہ ہے۔