عمران خان کی مقبولیت کی الٹی گنتی

  • ہفتہ 11 / جولائی / 2015
  • 4356

شہید بے نظیر بھٹو کے سیاسی منظر سے اچانک چلے جانے سے سیاست میں جو خلا پیدا ہؤا اسے عمران خان نے بڑی مہارت سے پر کرنے کی کوشش کی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس خلا میں عمران خان کی جگہ بنانے کے لئے ظاہری اور خفیہ ہا تھوں نے نہ صرف بھرپور کردار ادا کیا بلکہ پانی کی طرح پیسہ بھی بہایا۔ زرداری حکومت کی ناقص کارکردگی، پی پی پی قیادت کی نا اہلی اور نام نہاد مفاہمت کی پالیسی نے عمران خان کے آگے بڑھنے کے لئے راہ ہموار کی۔

2013 کے الیکشن میں عمران خان ایک مقبول لیڈر اور تحریک انصاف ملکی سیاسی منظر پر ایک بڑی پارٹی بن کر ابھری۔ اس سے قبل عمران خان کی زیر قیادت تحریک انصاف دو الیکشنوں میں حصہ لے چکی تھی مگر اسے مکمل شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ سوائے قومی اسمبلی کی ایک نشست لینے کے جوعمران خان نے جنرل مشرف کے زیراہتمام منعقد ہونے والے 2002 کے الیکشن میں مشرف حکومت کی حمایت کرنے کے صلہ میں حاصل کی تھی۔ 

2013 کے انتخابات میں عمران خان اپنی مقبولیت کے اس مقام پر پہنچ گئے جہاں تک پہنچنا ہر سیاسی لیڈر کی خواہش ہوتی ہے۔ مگر ہر سیاسی راہنما کےلئے ایسے مقام تک پینچنے کا خواب شرمندہ تعبیر نیہں ہوپاتا۔ عمران خان کی مقبولیت اسے اقتدرا کے ایوانوں تک پہنچانے میں مددگار ثابت نہ ہو سکی۔ سوائے صوبہ پختون خواہ میں پی ٹی آئی کی حکومت کے۔

64 سال کی عمر میں اپنے وقت کے پاپولرلیڈر بننے کے بعد اقتدارتک نہ پہنچنا عمران خان کے لئے فرسٹریشن کا سبب بن گیا۔ اگلےانتخابات تک یعنی تقریبا سترسال کےعمر رسیدہ شخص کو اقتدار کا حصول ناممکن دکھائی دینے لگا۔ پانچ سال کا طویل عرصہ، تیزی سی بدلتی ملکی اور بین الاقوامی صورت حال کےعلاوہ ستر سالہ بزرگ لیڈر کے مد مقابل مقتدر خاندانوں کے نوجوان لیڈروں بلاول بھٹو اور مریم نواز  کے چیلنجز بن کر آنے کے خدشے نے کپتان کی ذہن میں ہلچل پرپا کر رکھی ہے۔ 

اس حالت میں سیاسی ناپختگی اور فرسٹریشن کے عالم میں عمران خان غلطیوں پر غلطیاں کرتے جا رہے ہیں۔
اسی فرسٹریشن میں 2013 کے الیکشن میں منظم دھاندلی کا نظریہ گھڑا گیا اور یہ کہا گیا کہ تحریک انصاف کو ایک منظم دھاندلی کے ذریعے شکست سے دوچار کیا گیا اور اسطرح عمران خان کے وزیر اعظم بننے کے راستے میں بند باندھ دیا۔ یہ الزام لگایا گیا کہ اسوقت کے چیف جسٹس آف پاکستان افتخارچوھدری، سابق جسٹس سپریم کورٹ خلیل رمدے، پنجاب کے سابق نگران وزیر اعلی نجم سیٹھی اور خفیہ ادارے کا ایک افسر اس منظم سازش کے بنیادی کردار تھے۔ جبکہ ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل نے عمران خان کو شکست سے دوچار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

عمران خان اور تحریک انصاف کے راہنما ہر روز ٹی وی چینلوں اورعوامی جلسوں میں ان الزامات کی گردان کرتے رہے۔ اسلام آباد میں 126 دن کے طویل دھرنے میں رات دن انہیں الزامات کو دہرایا جاتا رہا۔ مگر انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کے لئے بنائے گے جو ڈیشل کمیشن میں عمران خان نے ان الزامات میں سے کسی ایک الزام کو ثابت کرنا تو دور کی بات انہوں نے ان کا ذکر تک نہ کیا۔ سابق چیف جسٹس، جسٹس رمدے، نجم سیٹھی، خفیہ ادارے کے سابق افسر اور ٹی وی چینل کو جو ڈیشل کمیشن میں طلب کرنے کی درخوست بھی نیہں کی۔

کیا یہ الزامات محض جھوٹ کا پلندہ تھے۔ کیا طویل دھرنا ایک منظم سازش تھی جس کے ذریعے جمہوری حکومت کو غیر مستحکم کر کے چور دروازے سے اپنے یا غیر جمہوری قوتوں کے لئے اقتدرا کا رستہ ہموار کرنا تھا۔ سابق جنرل پاشا کے ساتھ سازباز کرکے جمہوری حکومت کا دھڑن تختہ کرنے کے جاوید ہاشمی کے الزامات کا عمران خان یا پی ٹی آئی کے راہنماؤں کے پاس کوئی تسلی بخش جواب نہ تھا۔

صوبہ خیبر پختون خوا میں تحریک انصاف کے کارکنوں اورصوبائی وزرا کی بلدیاتی الیکشن میں دھاندلی کی گونج پورے ملک میں سنی گئی۔ عمران خان کے غیر جانبدار اور شفاف بلدیاتی الیکشن منعقد کرانے کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ اس سے نہ صرف صوبائی حکومت کی غیر جانبداری پر سوال اٹھے بلکہ صوبائی حکومت کی اہلیت پر بھی حرف آیا۔ بلدیاتی الیکشن کے نتائج سے پی ٹی آئی کی مقبولیت میں کمی کا واضع رجحان نظر آیا اور اے این پی صوبہ خیبر پختون خوا کے سیاسی منظر میں دوبارہ ابھرتی نظر آئی۔ بلدیاتی انتخابات نے پی ٹی آئی حکومت کی اعلیٰ کارکردگی کے دعوؤں کی قلعی کھول دی۔

دوسری جانب تحریک اںصاف کی صوبائی حکومت میں کرپشن کے قصے بھی عام ہیں۔ ایک صوبائی وزیر ضیا آفریدی کرپشن الزامات میں گرفتار ہوئے تو انہوں نے وزیر اعلی خٹک پر کرپشن اور اقرباپروری کے الزامات کی بوچھاڑ کر دی۔ گزشتہ سال پی ٹی آئی کے ایک نوجوان ممبر قومی اسمبلی جعلی ڈگری کے حصول کے الزام کی ذد میں رہے۔ گزشتہ سال شیر پاؤ کی سیاسی جماعت کے وزرا کو کرپشن کےالزامات کے بعد صوبائی حکومت سے علیحدہ ہونا پڑا تو اب شیرپاؤ کی جماعت کو ایک بار پھر حکومت میں شامل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہ تبدیلی کا عمل ہے یا صرف اور صرف اقتدارپر براجمان رہنے کی سیاست۔

اس سے قبل پی ٹی آئی کے جماعتی انتخابات میں کرپشن اور جماعتی عہدہ حاصل کرنے کے لئے دولتمند لیڈروں کے دولت کے بے دریغ استعمال کی دھوم رہی۔ جن پر پارٹی ممبران کے ووٹ خریدنے کے الزامات لگائے گئے۔ سابق جسٹس وجیہ الدین کا تحقیقاتی کمیشن ان الزامات کی پاداش میں پارٹی کے جنرل سیکریٹری جہانگیر ترین، پرویز خٹک اور دیگر کئی پارٹی راہنماؤں کی رکنیت ختم یا معطل کرنے کی سفارش کر چکا ہے۔ مگر پارٹی چیرمین عمران خان نے اس کمیشن کی سفارشات پر عمل کرنے کے بجائے اس کمیشن کو ختم کر دیا۔ سابق جسٹس وجیہ الدین کی ایمانداری اور اصول پسندی پر تو انگلی اٹھانا ممکن نہیں مگر یہ کہنا درست ہوگا کہ عمران خان پی ٹی آئی کے دولت مند اور کرپٹ عناصر کے گھیرے میں آچکے ہیں۔ اب یہ خیال تقویت پکڑتا جا رہا ہے کہ عمران خان کی اصول پسندی، انصاف پسندی اور کرپشن کے خلاف جدوجہد اپنے منطقی انجام کو پہنچنے کے قریب پہنچ چکی ہے۔

جعلی قومی اسمبلی کا پراپیگنڈاہ کرنے اور اس سے کئی ماہ غیر حاضر رہنے کے بعد پی ٹی آئی ممبران قومی اسمبلی نے غیر حاضر مہینوں کی تنخواہیں سمیٹنے میں دیر نیہں لگائی۔ یہ پی ٹی آئی کی سیاست پر بے اصولی کا بد نما دھبہ بنا تو اب موصول کردہ تنخواہیں واپس کرنےکے اعلان کئے جا رہے ہیں۔  
ن لیگ اور پی پی پی کی بے اصول سیاست کو عوام میں بے نقاب ہونے میں ایک طویل عرصہ لگا مگر پی ٹی آئی نے یہ سفر بڑی تیزی سے طے کرنا شروع کر دیا ہے۔
اب تو پی ٹی آئی کے دھرنوں اور جلسوں میں خدمات فراہم کرنے والے ڈی جے بٹ وغیرہ بلوں کی ادائیگی نہ ہونے پر ٹی وی چینلوں کا رخ کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ ان حالات میں پی ٹی آئی کے بنیادی اور مخلص کارکنوں میں مایوسی کے آثار پیدا ہونا شروع ہو چکے ہیں۔ عوام میں بھی عمران اور پی ٹی آئی کے لئے جوش اور جذبہ کم پڑتا نظر آ رہا ہے۔

بے بنیاد الزامات اور جھوٹے پراپیگنڈہ سے کب تک عوام کی آنکھوں میں دھول ڈال کر انہیں ساتھ رکھا جا سکتا ہے۔ دوسروں پر الزامات کی خوراک کب تک طاقت فراہم کرتی رہے گی۔ مگر یہ سچائی شاید انہیں معلوم ہو گی کہ کچھ عرصہ کے لئے تو آپ عوام کو گمراہ کر سکتے ہیں مگر ہمیشہ کے لئے نہیں۔

جوڈیشل کمیشن کی تحقیقات کے نتائج جلد سامنے آنے والے ہیں۔ جھوٹ کیا ہے اورسچ کیا سب عوام کے سامنے آنے والا ہے۔ دودھ کا دودھ اور پانی کا پاانی ہونے والا ہے۔ 

 ماہرین قانون اور سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان اپنے بلند بانگ دعوؤں کے برعکس 2013 کے الیکشن میں منظم دھاندلی کے ثبوت جوڈیشل کمیشن کو فراہم کرنے میں ناکام رہے۔ اس لئے یہ امکان نہ ہونے کے برابر ہے کہ کمیشن کی تحقیقات ان دعوؤں کی تصدیق کر سکے گی۔ اس لئے عمران خان کے ستر سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے نئے انتخابات کا کوئی امکان نظر نہیں آتا ہے۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ جوڈیشل کمیشن کی تحقیقات سامنے آنے کے بعد کیا عمران خان کی مقبولیت کی الٹی گنتی شروع ہونے والی ہیں۔