عید اور امید
- اتوار 12 / جولائی / 2015
- 4990
ماہ رمضان رخصت ہونے والا ہے اور عید الفطر کی آمد آمد ہے۔ ہم دیار غیر میں خجل وطن کی میٹھی میٹھی یادوں کو سینے سے لگائے گزرے دنوں کے تصور میں غلطاں ہیں۔ عید الفطر کا اپنا رنگ اور اپنا ترنگ ہوتا ہے۔ رمضان شریف کے پہلے ہی ہفتے سے عید کی آمد کے اہتمام ظہور ہونے لگتے ہیں۔ گھروں کے بھی اور گھروں کے باہر بھی مسرت کی ایک ہلچل چلتی پھرتی نظر آنے لگتی ہے۔
ایک سلائی مشین والی محلے کی دکان میں یکایک تین یا چار سلائی مشینیں سرگرم عمل نظر آنے لگتی ہیں۔ ایک طرف گاہک کا ناپ لیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف کٹائی کا کام جاری ہے۔ تیری طرف ایک مشین صرف کالر بنا رہی ہے۔ دوسری طرف مشین آستینیں بنا رہی ہے۔ استاد سب کو ملا کر احتیاط سے سی رہا ہے اور گاہک کو تسلی دے رہا ہے۔ ارے جی بالکل فکر نہ کریں۔ ہم رات سوئیں گے نہیں لیکن آپ کا کام آپ کو حسب وعدہ پیش کیا جائے گا۔
سلائی کی مشینیں برق رفتاری سے چل رہی ہیں۔ چھت کے پنکھے مشینوں سے سبقت لے جانے کی سعی کر رہے ہیں۔ سورج آگ برسا رہا ہے۔ حبس نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ درزی قمیض اتار کر مشین پر جھکا ہؤا ہے۔ وقفے وقفے سے گیلا تولیہ سر اور چہرے پر پھیر رہا ہے۔ سورج محلے کی عمارتوں کے پیچھے روپوش ہونے لگا ہے۔ حبس بڑھ رہا ہے۔ ساتھ والی مسجد سے مؤذن کی آواز بلند ہوتی ہے۔ لوگ مسجد کا رخ کرتے ہیں۔ سڑک پر چھڑکاﺅ کرنے والی لاری پانی کے فوارے چھوڑتی گزر رہی ہے۔ سڑک سے بھاپ اٹھ رہی ہے۔ حبس میں اضافہ ہو رہا ہے۔
نہ بو کے گل نہ باد صبا مانگتے ہیں لوگ
وہ حبس ہے کہ لو کی دعا مانگتے ہیں لوگ
پھر آہستہ آہستہ فقیرا نانبائی اپنا تنور کھولتا ہے۔ ذرا آگے پکوڑے اور سموسے تلنے والا چاچا شیرو اپنے کڑاہے کے نیچے آگ جلاتا ہے۔ شربت بیچنے والا ریڑھی دھکیلتا بازار سے گزرتا ہے۔ مسجد کے ساتھ والے کھوکھے کے تختے اٹھائے جاتے ہیں اور حاجی مستانہ چم چم کرتے ٹب میں شربت سکنجبین میں برف کے موٹے موٹے ٹکڑے ڈالتا ہے۔ شام کی اذان سے قبل لوگ بھاگم بھاگ افطاری کا سامان خریدتے ہیں اور گھروں کا رخ کرتے ہیں۔ سارا خاندان ایک دستر خوان کے گرد جمع ہوتا ہے۔ مؤذن کی خوش الحان آواز مسجد کے مینار سے بلند ہوتی ہے۔ ساری کائنات دم بخود ہو جاتی ہے۔ کھجور سے روزہ افطار کرتے ہیں۔ شربت کے گلاس سے سارے دن کی پاس بجھاتے ہیں اور نماز میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔
بندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے
تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے
کھانے پر سب کا موضوع عید ہوتا ہے۔ نئے کپڑوں ، نئے جوتوں ، لڑکیوں کے کنگن اور گجرے اور سینڈل کی خریداری کی باتیں ہوتیں ہیں۔ خریداری کا وقت مقرر کیا جاتا ہے۔ بچے ماں کے ساتھ یا باپ کے ساتھ جانے پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ عید کے دن صبح صبح جاگنے، غسل کر کے نئے کپڑے زیب تن کرنے اور عید گاہ میں نماز عید ادا کرنے کے پروگرام مرتب ہوتے ہیں۔ تانگے والوں کی چاندی ہی چاندی۔ شہر اور عید گاہ کے چکر لگاتے ہیں۔ آپ تانگے والے کو عیدی بھی دیتے ہیں۔
نماز کے بعد جب بزرگ گھر آتے تو بچوں کے انتظار کی گھڑیاں ختم ہو جاتیں۔ سب کو عید مبارک کہتے۔ سب کو گلے لگاتے۔ سب کو عیدی دیتے۔ بچے عیدی لے کر چھلانگیں لگاتے اپنی اپنی عیدی کی تشہیر کرتے۔ سویوں کی سوندھی سوندھی خوشبو اور گرم گرم دودھ سے خرمے اور سبز الائچی کی مہک سے سارا گھر لبالب بھر جاتا۔ پھر عید ملنے والے آنا شروع ہو جاتے۔ بچوں کو باری باری گلے لگا کر عیدی دیتے۔ فروٹ اور مٹھائیوں کے پچھانگڑے چپکے سے خاتون خانہ کے حوالے کرتے اور ڈھیروں دعائیں لیتے اور سویوں سے منہ میٹھا کرتے۔
کتنا دلکش ہے جہاں گزاری
دل کے آئینے کو دھو کر دیکھو
ماہ رمضان رخصت ہونے والا ہے اور عید کی آمد آمد ہے۔ اور اہم اندیشہ ہائے دور دراز کے کندھے پر سر رکھے، رنگین تتلیوں کے تعاقب میں تتلیوں کے دیس میں بہت دور نکل آئے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ عید کی آمد آمد ہے اور ہمارے دلوں میں عید اور امید کی کشمکش یک بیک روشن ہو رہی ہے۔ سوچ کے در ایک کے بعد ایک وا چھوڑے ہیں۔ کیا دور دراز شہروں میں کام کرنے والے بیٹے اور بھائی عید کے دن لوٹ آئیں گے؟ کیا ریل وقت پر چلے گی اور وقت پر منزل کو پہنچے گی؟ کیا عید کے دن بھی لوڈ شیڈنگ ہو گی اور چھت کے پنکھے نہ چل سکیں گے؟ کیا عید کے دن عید گاہ جانے والے نمازیوں کے لئے نل کا پانی ہو گا؟ کیا عید کے دن سویاں پکانے کے لئے گھر میں گیس ہو گی؟ کیا عید کے دن عید گاہ کے اندر یا باہر دھماکہ ہو گا؟ ہم عید کے آنے کی امید لگائے بیٹھے ہیں اور ہمارے دلوں میں وسوسوں کی یلغار ہے۔ جسم کانپ رہا ہے اور ہمارے ہاتھ لرز رہے ہیں۔
ہم اہل دل تجھے خوش آمدید کیسے کہیں
جو اپنے دکھ بھی سناتے ہوئے لرزتے ہیں
اگرچہ تجھ پہ نگاہیں جمی ہوتی ہیں مگر
دعا کو ہاتھ اٹھاتے ہوئے لرزتے ہیں