خواص و عام

  • سوموار 13 / جولائی / 2015
  • 5287

آج صبح صبح برخوردار نوید سلیم نے کراچی سے اپنی فیس بک پوسٹ  میں بجلی کی مسلسل گمشدگی پر بین کرتے ہوئےکے الیکٹرک  K-electric کو شرم و حیا دلانے کی سعی لاحاصل کی ہے۔ جس نے مجھے اپنی گوناگوں مصروفیات کے باوجود اس تحریر پر مائل کیا۔

جس دیس کے خواص و عام مکمل بے حس ہو چکے ہوں۔ وہاں شرم و حیا دلانا سمجھ سے بالاتر ہے. عاموں سے تو ہمارا شب و روز واسطہ پڑتا ہے اور زمانہ موجود میں ان کا انسانوں میں شمار بھی مشکوک گردانا جاتا ہے۔ چونکہ ہمیں ہفتہ رفتہ میں خواصوں میں ایک خواص بلکہ خواص اعظم سے شرف مصافحہ نصیب ہؤا، اس لئےخواصوں کےبارے استاد داغ دہلوی کا شعر ملاحظہ فرمائیں:

تم کو آشفتہ مزاجوں کی خبر سے کیا کام
تم سنوارا کر و بیٹھے ہوئے گیسو اپنے

خواص اعظم کے زیر سایہ پاکستان اور ناروے کی دو نجی کمپنیوں میں سولر انرجی کے ایک معاہدے پر دستخط کی ایک تقریب ضرور منعقد کی گئی لیکن ... جانے دیجئے.

بقول مسرور انور.
ہم کو کس کے غم نے مارا
یہ کہا نی پھر سہی

اور بقول ارشد شاہین
ہم سے کوئی کام بھی ڈھنگ سے نہیں ہؤا
بے تکی سی چال میں زندگی گزر گئی

گرچہ ہم گلاس کو آدھا خالی دیکھنے کی بجائے آدھا بھرا دیکھنے کے قائل ہیں مگر بد قسمتی سے ہم اپنی اعلیٰ درجہ کی مثبت روی کے باوجود اس نتیجے پر پہنچے پر مجبور ہیں کہ جس دیس کے خواص اپنی رعایا کو ملنے سے ہی گریز پا ہوں، ان سے مسائل کے حل کی توقع رکھنا ہی عبث ہے۔

اس درجہ کی مایوسی پہ حوالہ دینے کیلئے ہمیں غالب کی مشہور زمانہ غزل کے مطلع و مقطع، بیک وقت دونوں کا سہارا لینا پڑے گا.

ابنِ مریم ہؤا کرے کوئی
میرے دکھ کی دوا کرے کوئی

جب توقع ہی اٹھ گئی غالب
کیوں کسی کا گلہ کرے کوئی

شرم و حیا زمانہ رفتہ کی اقدار ہیں اور یہ تو پچھلے وقتوں کے لوگ تھے جن پر ایسی گفتگو کا اثر ہونے کا احتمال تھا۔

بقول غالب
کعبے کس منہ سے جاؤ گے غالب
شرم تم کو مگر نہیں آتی

اتفاق سے خواص اعظم اس وقت طواف کعبہ ہی میں مصروف عمل ہیں۔ شاید انہوں نے بابا بھلے شاہ کا یہ شعر بھی نہیں سنا ہو گا:

مسجد ڈها دے مندر ڈها دے
ڈها دے جو کج ڈهیندا
اک بندے دا دل نہ ڈهاویں
رب دلاں وچ رہیند

لیکن شاید خواصوں کے خیال میں - رب راضی تے سب راضی - خدا کے بندے جائیں بھاڑ میں.

محسن بھوپالی نے بھی شاید ایسے خواصوں کی کم ظرفی کے بارے کہا ہے:

جاہل کو اگر جہل کا انعام دیا جائے
اس حادثہ وقت کو کیا نام دیا جائے
مہ خانے کی توہین ہے رندوں کی ہتک ہے
کم ظرف کے ہاتھوں میں اگر جام دیا جائے

روایت ہے کہ حضرت سعدی کی ایک حکایت کو حضرت میاں محمد بخش نے اپنے لافانی اشعار اسطرح ڈھالا ھے.

نیچاں دی آشنای کولوں فیض کسے نہیں پایا
ککر تے انگور چڑھایا تے ہر گچھا زخمایا

نیچاں = کم ظرفوں

اور کراچی کے نوید کے لیے فی الحال یہی نوید کہ  خاطر جمع رکھیں، بجلی تو آنے سے رہی کئی اور بجلیاں عاموں پر گرنے کو بیتاب ہیں. اس لئے:

چپ کر دڑ وٹ جا
نہ عشق دا پھول خلاصی
چمڑی لتھ جاؤ گی