امریکہ کا کس بل
- منگل 14 / جولائی / 2015
- 3817
ایک بین الاقوامی امریکی ویب سائٹ سروے کے مطابق افغانستان میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد تین ملین ہے۔ ادھر پینٹا گان کا کہنا ہے کہ ان کے اعداد و شمار کے مطابق عراق میں ہلاک ہونے والوں کی گنتی ایک ملین 70 ہزار ہے جبکہ عراق میں لقمہ اجل بننے والے امریکی فوجیوں کی تعداد لگ بھگ پانچ ہزار اور افغانستان میں چار ہزار ہے۔
اب تک عراق و افغانستان کی بے مقصد جنگ پر امریکہ کا 10 کھرب ڈالر خرچ ہو چکا ہے جبکہ امریکی کانگریس کے بجٹ آفس کی رپورٹ کے مطابق عراق جنگ پر اب تک سات کھرب 8 ارب ڈالر اور افغانستان کی جنگ پر 3 کھرب 45 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں ایک امریکی فوجی پر دس لاکھ ڈالر سالانہ خرچ ہوتے ہیں۔
دوسری طرف عراق جنگ میں 4394 امریکی فوجی، 1471 امریکی شہری ، 141 صحافی اور 450 نمایاں شخصیات ہلاک ہو چکی ہیں۔ ادھر ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس ڈینس بلیئر نے بتایا ہے کہ امریکی حکومت اندرون اور بیرون ملک سرکاری و فوجی انٹیی جنس سرگرمیوں پر سالانہ 80 ارب ڈالر خرچ کرتی ہے۔ یہ بجٹ امریکہ کے سالانہ دفاعی بجٹ جو کہ 650 ارب ڈالر ہے کا دس فیصد سے زائد بنتا ہے۔ امریکن نیشنل انٹیلی جنس اسٹریٹجی 2009 میں امریکہ کی 16 انٹیلی جنس ایجنسیوں کے علاوہ فوجی انٹیلی جنس اداروں کے سالانہ پروگرام کی تفصیلات جاری کی گئی ہیں۔ یہاں یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ یہ پہلی مرتبہ ہؤا ہے کہ امریکی حکومت انٹیلی جنس سرگرمیوں پر ہر سال خرچ کئے جانے والے تمام تر اخراجات منظر عام پر لائی ہے۔
شاید یہ بات آپ کے علم میں نہ ہو کہ امریکہ بہادر کے دنیا بھر میں 740 فوجی اڈے ہیں جن کی قیمت لگ بھگ 131 ارب ڈالر ہے (قیمت سے مراد یہ ہے کہ اگر ان فوجی اڈوں کی دوبارہ تعمیر کرائی جائے تو لاگت کم از کم 131 ارب ڈالر آئے گی) جو کہ بہت سے مملک کی جی ڈی پی (گروس ڈومیٹک پروڈکٹ) سے بھی زیادہ ہے۔ علاوہ ازیں امریکی افواج نے ان میں مزید 21 ہزار پانچ سو 27 عمارتیں لیز پر لے رکھی ہیں۔ یہاں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ فوجی اڈوں کی مندرجہ بالا تعداد کلی طور پر درست نہیں اور وہ یوں کہ پینٹا گان نے اس تعداد میں سربیا، کوسوو، اسرائیل ، کرغزستان ، قطر اور ازبکستان کے فوجی اڈوں کو شامل نہیں کیا۔ سابق صدر بش نے جنگ کے نام پر جو خطیر رقم کانگریس سے منظور کروائی تھی وہ رقم چین ، روس ، برطانیہ اور بھارت کے مجموعی بجٹ سے بھی زیادہ تھی۔
امریکہ نے 1945 سے 2005 تک ناپسندیدہ حکومتوں کے تختے الٹنے کے لئے ایشیا ، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے 40 ممالک پر حملے کئے اور ان ” عظیم جنگوں “ کے نتیجہ میں ان ممالک میں اپاہچ (افغانستان میں بیس لاکھ اور عراق میں گیارہ لاکھ) کی نئی فوج پیدا ہو گئی۔ ان ساٹھ برس میں امریکہ نے 40 غیر ملکی اور 23 قوم پرست حکومتوں کا تختہ الٹ دیا یا الٹنے کی کوشش کی، جو اپنے ممالک کے عوام میں انتہائی مقبول تھیں لیکن وہاں امریکہ کے مفادات محفوظ نہیں تھے۔ امریکہ نے اپنے مفادات کی تکمیل کے لئے 25 ممالک میں بموں کی بارش کی جس کے نتیجہ میں لاکھوں افراد لقمہ اجل بنے۔ امریکہ کی طرف سے خود مختار حکومتوں کے خلاف جنگ کے بعد ان تباہ شدہ ممالک میں کئی طرح کی ” افواج “ پیدا ہو گئیں۔ ان میں اپاہجوں، یتیموں، بیواﺅں اور سوگواروں کی فوجیں شامل ہیں۔ یہی نہیں خود امریکی افواج میں تقریباً 20 فیصد سے زائد فوجی سنگین دماغی یا ریڑھ کی ہڈی کی سنگین بیماریوں میں مبتلا ہیں۔
نوبل انعام یافتہ امریکی ماہر معاشیات جوزف اسلگٹر نے کہا ہے کہ عراق و افغانستان جنگ میں کم از کم 20 کھرب ڈالر خرچ آئے گا اور یہ جنگ امریکہ کو سرکاری اندازوں سے کہیں زیادہ مہنگی پڑے گی۔ جوزف کے تحقیقی مقابلہ کے مطابق چھ فیصد فوجیوں کے اعضا ضائع ہوئے ہیں۔ انہوں نے فوجی اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جولائی 2007 تک جنگ سے واپس آنے والے فوجیوں میں سے 30 فیصد میں دماغی بیماریاں پیدا ہو گئی ہیں۔ پروفیسر جوزف نے اپنے مقالہ میں یہ بھی کہا ہے کہ ان فوجیوں کو ملازمت سے نکال باہر کرنے کا عمل شروع ہو چکا ہے جو عراق و افغانستان میں اپنی ڈیوٹی پر حاضر ہونے سے انکار کر رہے ہیں۔ امریکہ میں ایسے فوجیوں کی تعداد کافی ہے جنہیں ضرورت پڑنے پر کبھی بھی بلایا جا سکتا ہے۔ ان میں بعض ریگولر آرمی میں رہ چکے ہیں۔ ان فوجیوں میں سے 5700 کو تعینات کرنے کے احکامات جاری کئے جا رہے ہیں لیکن فوج ایسے 80 فوجیوں کے خلاف مقدمے قائم کرنے کی کارروائی شروع کرنے والی ہے جنہوں نے اب تک افواج کے احکامات پر عمل نہیں کیا۔
ادھر امریکہ کی جانب سے 150 ممالک میں سفارت خانوں کی سلامتی کے لئے 5 ارب ڈالر مختص کئے جانے کے باوجود ان کی سلامتی کو خطرات لاحق ہیں۔ محکمہ خارجہ نے کانگریس سے 10 ارب ڈالر طلب کئے ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے کانگریس کو 450 صفحات پر مشتمل دستاویز ارسال کی گئی ہے جن میں سفارش کی گئی ہے کہ بیرون ممالک میں سفارتی مشن کی سلامتی کے لئے مختص 4 ارب ڈالر کی رقم ناکافی ہے۔ 2018 تک 50 ممالک میں سفارت خانوں کی نئے سرے سے تعمیر ، 40 ممالک میں سفارت خانوں کے ڈیزائن میں بڑے پیمانے پر رد و بدل اور 60 سفارت خانوں کی محفوظ مقامات پر منتقل کئے جانے کی ضرورت ہے جس کے لئے 10 ارب ڈالر کی ضرورت پڑے گی۔
یاد رہے کہ امریکہ کے پوری دنیا میں 265 اہم مقامات بشمول پاکستان ، افغانستان اور عراقی سفارت خانے غیر محفوظ ہیں۔ دنیا بھر کے متعدد ممالک میں امریکی سفارت کار سکیورٹی کی پابندیوں سے بری طرح متاثر ہونے کے ساتھ اپنے سفارت خانوں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں اور اس کے نتیجہ میں انہیں امریکہ مخالف جذبات کی روک تھام کے لئے ہونے والے اوباما انتظامیہ کی کوششیں ناکام ثابت ہو رہی ہیں۔
امریکی سفارت خانوں اور قونصل خانوں کے سفارتی عملے پر دنیا کے کم از کم 28 ممالک میں ” سفر “ پر پابندیوں سمیت مختلف اقسام کی حفاظتی پابندیاں عائد ہیں۔ گزشتہ چند سالوں میں امریکی سفارت خانوں کی ایسی خطرناک اسامیوں اور عہدوں کی تعداد 10 سے بڑھ کر 21 ہو گئی جو فرائض کی ادائیگی کے دوران اپنے افراد خانہ کے ساتھ نہیں رہ سکتے یا ان کو اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتے۔ اسی طرح اپنے ملازمین کو ” خطرے کا الاﺅنس“ دینے والے امریکی مشنوں کی تعداد دو سے بڑھ کر 26 ہو گئی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جن ممالک میں امریکی فارن سروس کے افسران پر سکیورٹی کی پابندیاں عائد ہیں ان میں ہمارا پیارا ملک پاکستان اور ہمسایہ ملک برادر ملک افغانستان کے علاوہ عراق ، یمن ، الجزائر ، انڈونیشیا ، لبنان اور فلسطین شامل ہیں۔
یہاں مجھے امریکی پالیسیوں کے سابق گرو ہنری کسنجر یاد آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا ” فی الحال امریکہ کو عراق و افغانستان سے نہیں نکلنا چاہئے کہ ایسا کرنے سے پوری دنیا میں امریکی منصوبوں کو نقصان پہنچے گا (جیسے اب فائدہ پہنچ رہا ہے) فوجی اور فوری انخلا ہزیمت کی طرف مختصر ترین راستہ ہے“ ۔
شاید کسنجر یہ بات نہیں جانتے کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ طریقہ علاج دیسی ہے یا ولایتی، ایلوپیتھی ہے یا ہومیو پیتھی، یونانی ہے یا آیوویدک، سارے راستے قبرستان ہی کی طرف جاتے ہیں۔
کہیں بھی پانی کا نام و نشاں نہیں موجود
وہ بیٹھے بیٹھے مگر کشتیاں بناتا ہے