غیرت کے کئی رنگ
- بدھ 15 / جولائی / 2015
- 6002
ابھی ابھی خبر آئی ہے کہ لائن آف کنٹرول کے قریب بھمبر کے علاقے میں پاکستان نے بھارت کا ڈرون طیارہ مار گرایا ہے۔ بقول پاکستان کے وہ بھارت کا جاسوس طیارہ ہے۔
جب سے روس میں پاکستانی اور انڈیا کے وزیر اعظموں کے درمیان ملاقات ہوئی ہے اور یہ طے پایا ہے کہ دونوں ممالک پھر سے بات چیت شروع کریں گے اور اس سلسلے میں دونوں ممالک کے سیکرٹری آپس میں مل کر ایجنڈا طے کریں گے، بہت سے لوگ اس ڈرون جیسی ملتی جلتی خبر کے منتظر تھے۔
اس ملاقات کے ہوتے ہی انڈین دشمن لابی نواز شریف اور حکومت پاکستان کے خلاف کھل کر سامنے آگئی تھی۔ کبھی پرٹوکول کی بات کی جاتی تھی۔ کبھی کہا جاتا انڈین وزیر اعظم اپنی جگہ پر کھڑے رہے اس میں غرور تھا۔ اور کبھی کہا جاتا کہ ملاقات میں کشمیر پر بات نہیں کی گئی۔ یا یہ کہ مشترکہ اعلامیہ اینڈین وزارت ِ خارجہ کا تیار کیا ہؤا ہے۔
دونوں ملک کے تعلقات میں آخری کیل کشمیر لیڈر گیلانی صاحب نے انڈیا میں پاکستانی سفیر کی دی ہوئی عید ملن کی تقریب کا بائیکاٹ کر کے ٹھونک دی تھی۔ کسی اور کو شاید انتظار نہ ہو مگر میں اس خبر یا اس سے ملتی جاتی خبر کا منتظر تھا۔
نواز شریف نے وزیر خارجہ ہوتے ہوئے وزارت ِ خارجہ کی فائیل فوج کے حوالے کر دی ہے تو پھر وہ ذاتی طور پر کیوں ملاقات کرنے کے شوقین ہیں۔ چلو فوٹو سیشن کرا لیا کریں۔ یہ باقاعدہ سیکڑیوں کی بھی ملاقات طے کرا دیتے ہیں۔ دوسرے ممالک کو بھی بیچ میں ڈال لیتے ہیں۔ اور پھر خومخواہ انڈیا کو جاسوس طیارہ پاکستانی سرحد کے قریب بلکل پاکستانی حدود کے اندر بھیجنا پڑتا ہے۔ اور خومخواہ پاکستان کو وہ طیارہ مار گرانا پڑتا ہے ۔
انڈیا کو کوئی طیارہ ایک انچ بھی پاکستانی حدود کے اندر آئے تو پاکستانی غیرت کا تقاضا ہے کہ اسے مار گرایا جائے۔ یہ الگ بات ہے کہ افغانستان سے اڑنے والے دو ہیلی کوپڑ ایبٹ آباد میں آتے ہیں۔ ان میں سے کچھ امریکی اتر کر ایک گھر میں گھستے ہیں۔ کچھ لوگوں کو قتل کرتے ہیں اور اپنے مطلوبہ شخص کو قتل کر کے اپنے ساتھ خریت سے لے بھی جاتے ہیں۔
نادان لوگوں کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ غیرت کے کئی رنگ ہوتے ہیں۔