بھٹو کی جانب لوٹنے کی ضرورت
- اتوار 19 / جولائی / 2015
- 4453
2013 کے الیکشن میں پاکستان پیپلز پارٹی کو صوبہ سندھ کے سوا سارے ملک میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ پنجاب اور خیبر پختونخواہ سے پی پی پی کا صفایا ہو گیا۔ زرداری حکومت کی ناقص کارکردگی اور نواز لیگی حکومت کے ساتھ مفاہمانہ پالیسی نے نواز لیگ مخالف ووٹ کو پی ٹی آئی کی جھولی میں ڈال دیا۔ پنجاب میں نواز لیگ کے بعد پی ٹی آئی دوسری بڑی پارٹی بن کر ابھری۔
الیکشن میں شکست فاش کے بعد پی پی پی کی قیادت پنجاب میں تبدیل شدہ حالات کا جائزہ لینے، عوام اور اپنے کارکنوں کی سوچ کو سمجھنے میں ناکام رہی۔ وقت کے ساتھ ساتھ پارٹی کے کارکنوں اور راہنماؤں میں بے چینی اور مایوسی پھیلنے لگی۔ سونے پر سہاگہ کہ پنجاب پی پی پی کی قیادت ایسےعناصرکے سپرد کر دی گئی جن کا پارٹی کی نظریاتی سیاست اور کارکنوں سے دور کا واسطہ بھی نہ تھا۔
الیکشن میں شکست کے بعد نام نہاد مفاہمتی سیاست کے تسلسل نے پی پی پی کو پنجاب کے سیاسی منظر سے تقریبا غائب کر دیا۔ میڈیا پر پی پی پی کے پنجاب میں خاتمے پر مباحثوں نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ پی پی پی قیادت کی بےعملی اور پنجاب کے سیاسی امور سے لاتعلقی کی وجہ سے کارکنوں میں مایوسی کی لہرکےعلاوہ پارٹی سے دوریاں بڑھنے لگیں۔ کئی جانے پہچانے سیاسی چہروں نے پی پی پی سے علیحدگی اختیار کرکے پی ٹی آئی میں پناہ لے لی۔ پی پی پی پنجاب ابھی تک بے عملی کا شکار اور مؤثر قیادت سے محروم نظر آتی ہے۔ پارٹی قیادت کارکنوں کو کوئی واضع سیاسی لائحہ عمل اور سمت دینے میں ناکام رہی ہے۔
ایسا لگ رہا ہے کہ پی پی پی حکومت کے خاتمے کے بعد آصف علی زردای کو پارٹی کو یکجا رکھنے میں دشواریوں کا سامنا ہے۔ زرداری ان مشکلات پر کس قدر قابو پا سکیں گے، اس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا۔ حالات پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پی پی پی کو متحد رکھ کر ملکی سیاسی منظر پر ایک مقبول عوامی اور سیاسی قوت کی حثیت سے زندہ رکھنا آصف علی زرداری کے لئے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
پی پی پی خود کو عوام دوست اورغریب طبقوں کی حمائتی جماعت سمجھتی ہے جو اسلام کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کے حق میں نہیں۔ اسکا منشور اور معاشی پروگرام ترقی پسند بایئں بازو کی سیاست کے قریب مانا جاتا ہے۔ اس کے برعکس نواز لیگ اور پی ٹی اٰٗئی کا سیاسی نظریہ اور پروگرام دائیں بازو یعنی بالادست طبقوں کی سیاست سے عبارت ہے۔
بعض دانشور کے نزدیک اب ملکی یا عالمی سطح پر بائیں اور دائیں بازو کی سیاسی تفریق یا کشمکش کا کوئی وجود باقی نہیں رہا۔ سویت یونین کے خاتمے یا چین میں تبدیلی کے پس منظر میں یہ کسی حد تک درست کہا جا سکتا ہے۔ کیونکہ روایتی کمیونسٹ پارٹیوں کی انقلابی سیاست کا دور اب ختم ہو چکا ہے۔ مگر محنت کش طبقوں جن میں صرف صنعتی یا دیگر مزدور، مزارعے، کسان ہی نہیں بلکہ سرکاری اور پرایئویٹ اداروں کے نچلے اور درمیانہ درجہ کے ملازمین، ٹیچر، ڈاکڑ، انجینیئرز، وکلا، صحافی، چھوٹے کاروباری اور دیگر محنت بیچنے والے طبقے شامل ہیں، کے حقوق کے لئے آواز بلند کرنے والی سیاسی جماعتیں جدید ترقی یافتہ ممالک میں بھی اپنا بھرپور وجود رکھتی ہیں۔
ایسی سوشل ڈیموکریٹک جماعتیں یورپی ممالک میں مقبول سیاسی جماعتیں ہیں اور انتخابات کے ذریعے حکومت بھی بناتی ہیں۔ اس قسم کی جماعتیں سوشلسٹ انٹرنیشل کے پلیٹ فارم اور ٹریڈ یونینز کے ذریعے ایک دوسرے سے قریبی رابطے رکھتی ہیں۔ یہ بات نوٹ کرنے کی ہے کہ پی پی پی نے بھی سوشلسٹ انٹرنیشنل کی رکنیت اختیار کر رکھی ہے۔ یورپی سوشل ڈیموکریٹک اور کنزرویٹو سیاسی جماعتوں میں محنت بیچنے والے طبقوں کو سماجی اور معاشی سہولیات فراہم کرنے، سماجی ، معاشی اور کلچرل اصلاحات کے ضمن میں انکی ترجیحات میں اختلاف رہتا ہے۔
یہ ماننے میں کوئی حرج نہیں کہ عملی سیاست میں دائیں اور بائیں بازو کے نظریاتی اختلافات کی خلیج کم ترسطح تک پہنچ چکی ہے۔ اور مستقبل قریب میں دائیں بائیں بازو کی سیاست میں تاریخی اور روایتی طرز کی نظریاتی کشمکش کا امکان نظر نہیں آتا۔ دائیں اور بائیں بازو کی سیاسی کھینچا تانی عوام کے روزمرہ مسائل کے حل اور ترجیحات کے گرد گھومتی رہتی ہے۔
اگر محنت بیچنے والے طبقوں اور محنت خریدنے والے طبقوں کے مفادات مختلف ہو ں گے تو انکی نمائندگی کرنے والی سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کی بھی ضرورت رہے گی۔ یہ صحیح ہے کہ پاکستانی سماج کی طبقاتی تقسیم، معاشی، سماجی اور ثقافتی ترقی کا جدید ترقی یافتہ ممالک کی سیاست یا سیاسی جماعتوں سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔ مگر اس بات پر اختلاف کی گنجا ئیش شاید نہیں رہتی کہ ملک میں محنت بیچنے والے طبقوں کے مفادات کے لئے آواز بلند کرنے والی سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کی اشد ضرورت ہے۔ اس وقت پارلیمانی جماعتوں یا ملکی انتخابات میں عوامی توجہ حا صل کرنے والی جماعتوں میں محنت بیچنے والے طبقوں کی نمائندہ یا ان کےمفادات کے حق میں آواز بلند کرنے والی کوئی سیاسی جماعت نظر نیہں آتی۔ زرداری کی نام نہاد مفاہمت کی سیاست کے نتیجہ میں پی پی پی نعرہ کی حد تک بھی محنت بیچنے والے طبقوں کے حق میں آواز اٹھانے سے گریزاں رہی ہے۔ محنت کشوں کی نمائندگی کا دعوی کرنے والی پی پی پی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی عوام دوست سیاست اور روایت سے چھٹکارا پا چکی ہے۔
نام نہاد مفاہمت کے نام پر پسے ہوئے طبقوں کے حقوق کے لئے آواز نہ اٹھانے سے پنجاب میں پی پی پی عوام سے دور ہٹتی گئی۔ کیونکہ پنجاب میں اب بھی طبقاتی تفریق اور کشمکش ہی بنیادی تضاد کی حیثیت رکھتا ہے۔ جبکہ دوسرے صوبوں میں طبقاتی تفریق کے علاوہ قوم پرستی کا عنصر ابھی تک اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔
کیا پی پی پی پنجاب میں امیر اورغریب میں روزافزوں بڑھتی طبقاتی خلیج، غربت، بے روزگاری اور مذہبی انتہا پسندی کو بنیادی مسائل سمجھتے ہوئے ذوالفقارعلی بھٹو کی سیاست کی جانب پلٹ کر محنت بیچنے والوں کی آواز بننے کی پالیسی اختیار کرے گی یا موجودہ پالیسی پر کاربند رہتے ہوئے پنجاب کے عوام کو نواز لیگ کے صنعتکاروں اور تاجروں کے رحم و کرم پر چھوڑنا چاہتی ہے۔ یا مقتدر طاقتوں کے تابع عمران خان کے مبہم اور بے سمت تبدیلی کےنعرے کے ساتھ عوام کو مایوسی کی گہرایئوں میں دھکیلنے کے عمل کو خاموشی سے دیکھنا چاہتی ہے۔
پی پی پی کی قیادت کو یہ باور کرلینا چاہئیے کہ پنجاب کے حالات سے لا تعلق رہنے کی پالیسی ہمیشہ کے لئے پی پی پی کو پنجاب کے عوام سے دور کرسکتی ہے اور سندھ کے لئے ان اثرات سے بچنا مشکل ہو گا۔ کہنے کا مقصد یہ ہے ملک میں محنت بیچنے والے طبقوں کی آواز بننے کا دعویٰ کرنے یا ان کے حقوق کے لئے آواز اٹھانے والی کوئی سیاسی جماعت ملکی سیاسی منظر میں موجود نیہں ہے۔ پنجاب کی سیاست میں ایک خلا موجود ہے جسے ایک عوام دوست، محنت کش دوست اور روشن خیال سیاسی جماعت پر کر سکتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا پی پی پی باوجود اپنی تمام تر سیاسی کج رویوں اور ناقص حکومتی کارکردگی کے، محنت بیچنے والےطبقوں کی آواز بننے کی صلاحیت رکھتی ہے یا نہیں۔
پیپلز پارٹی اپنے بنیادی منشور اور نظریہ کے حوالے سے ایک عوامی اور ترقی پسند سیاسی جماعت سمجھی جاتی ہے۔ اس سے انکار نہیں کہ اس کی تاریخ عوامی حقوق اور ملک میں جمہوریت کی بالادستی کے لئے جدوجہد سے عبارت ہے۔ مگر شہید بے نظیر بھٹو کے بعد گذشتہ حکومت کی ناقص کارکردگی اور نام نہاد مفاہمت کی پالیسی نے عوام کو مایوسی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ مفاہمت کی پالیسی کے منفی اثرات نے پنجاب میں سیاسی خلا پیدا کر دیا جسے عمران خان نے پر کرنے کی کوشش کی ہے۔ جس کے اثرات دیر پا نظر نہیں آتے۔
عمران خان کی سیاسی قلابازیوں اور مبہم بے سمت نعرہ بازی کی سیاست کی وجہ سے عوام بتدریج پی ٹی آئی سے پیچھے ہٹتے نظر آرہے رہے ہیں۔ عمران خان کی سرگرم اور مؤثر فالونگ پڑھے لکھے اپر مڈل کلاس سے نکلی۔ یہ طبقہ سیاست میں فوری نتائج حاصل کرنے کا خواہش مند ہوتا ہے۔ جلد مقاصد نہ پا کر اس طبقے کے لوگ سیاست سے بیزار اور سیاست دانوں کو گالی گلوچ دینے پر اتر آتے ہیں۔ عمران خان کے اقتدار تک پہنچنے کے لئے شارٹ کٹ کی تلاش میں اس جلد بازی کا اظہار دیکھا جا سکتا ہے۔
اس بات میں دو رائے نہیں کہ پنجاب کے محنت بیچنے والے طبقوں کی کوئی سیاسی آواز نیہں رہی۔ عمران خان اور ن لیگ کی سیاست ان طبقوں سے کوسوں دور ہے۔ پی پی پی محنت کش طبقوں کے حقوق کی حمایت کے سلسلہ میں اپنی الگ تاریخ رکھتی ہے۔ پنجاب میں عدم مقبولیت کے باوجود ابھی تک اس کی تنظیم میں اکھاڑ بچھاڑ کے عمل میں تیزی پیدا نہیں ہوئی۔ پرانے جیالے کارکنوں نے ابھی تک پارٹی سے رشتے ناطے نہیں توڑے۔ سوائے اس کے کہ وہ پارٹی لیڈروں سے مایوس ہو کر گھروں میں بیٹھ گئے ہیں۔
پی پی پی کو پنجاب میں عوامی سطح پر مقبول جماعت بنانا کوئی آسان کام نہیں۔ پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہ چکا ہے اور پھر آصف علی زرداری کی پنجاب کے عوام میں پذیرائی نہ ہونے کے برابر ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بلاول بھٹو زرداری پنجاب میں پی پی پی کو سرگرم کرنے اور عوام میں دوبارہ ایک مقبول جماعت بنانے میں کامیاب ہو سکیں گے۔ یہ بات اگر ناممکن نیہں تو اتنا اسان کام بھی نہیں ہے۔
ان حالات میں بلاول بھٹو پر بنیادی اور تاریخی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ بلاول بھٹو کو محنت بیچنے والے طبقوں کے مسائل کا ادراک حاصل کرنا ہوگا۔ ان طبقوں کی حمایت میں پارٹی پالیسی واضع کرنا ہوگی اوران طبقوں کی زندگیوں میں علم اورخوشحالی لانے کے لئے واضع پروگرام لے کر میدان میں نکلنا ہو گا۔ پی پی پی پنجاب میں کارکنوں کی خواہشات کو مد نطر رکھتے ہوئے بنیادی تبدیلیاں لانی ہوں گی۔ سندھ حکومت کی کارکردگی بہتر بنانے کے کٹھن کام کی نگرانی بھی بلاول بھٹو ہی کو سر انجام دینا ہو گی۔
بلاول بھٹو کو بھٹو کی پارٹی کو عوام میں مقبول بنانے کے لئے بھٹو کی جانب لوٹنا ہو گا۔ یعنی ایک عوم دوست، غریب طبقوں کی حامی، روشن خیال اور مذہبی انتہا پسندی کے خلاف سیاست کا اغاز کرنا ہو گا۔