اسلام اور مساوات

  • سوموار 20 / جولائی / 2015
  • 4593

ہندوستان میں اونچ نیچ اور ذات پات کا تصور نہ صرف ہندوؤں میں بلکہ اسلام کے ماننے والے افراد اور گروہوں میں بھی پایاجاتا ہے۔جس طرح برہمنیت اور منو وادیت نے ذات پات کے تصورکو معاشی اتارچڑھاؤ پر استوار کیا ہے۔ٹھیک اسی طرح یا اس سے ملتا جلتا نظام اسلام سے تعلق رکھنے والے مسلمان بھی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ حالانکہ اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جس نے مساوات انسانی کا نہ صرف ایک مکمل نظام فراہم کیا بلکہ اپنے رسول ؐکے ذریعہ اس کا عملی نمونہ بھی پیش کیا ہے۔

مساوات انسانی ہی کے تعلق سے قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:"اے لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تم کو مختلف قومیں اور مختلف خاندان بنایا تاکہ تم ایک دوسرے کی شناخت کر سکو، اللہ کے نزدیک تم میں سب سے بڑا شریف وہی ہے جو سب سے زیادہ پرہیز گار ہو"(حجرات:۱۳)۔اسی تعلق سے اللہ کے رسول فرماتے ہیں: " دوچیزیں ایسی ہیں کہ اگر لوگوں میں پائی جائیں تو وہ انہیں کفر کے درجے تک پہنچادیتی ہیں۔ ایک نسب میں طعن کرنا(یعنی دوسروں کو کم ذات اور ذلیل ذات سمجھنا) اور دوسری میت پر نوحہ کرنا " (مسلم،کتاب الجنائز)۔ قرآن و حدیث میں اس تعلق سے بے شمار احکامات و ہدایات موجود ہیں۔اس کے باوجود مسلمان باطل افکار و اعمال سے متاثر ہوکر اورغیر اخلاقی حد تک ذات پات اوراونچ نیچ کے اعلیٰ و ادنیٰ معیارات قائم کئے ہوئے ہیں۔آ پ یہ بات بھی خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم بکریاں چرایا کرتے تھے(صحیح بخاری)۔آپؐ کی سگی پھوپی زاد بہن حضرت زینب بنت حجشؓ جو آپ کی زوجہ(بیوی)تھیں، چمڑے کی دباغت کرتی تھیں(صحیح مسلم)۔بلکہ حافظ بن حجر نے ان کا پیشہ ہی چمڑے کی دباغت اور جوتا گانٹھنا بتایا ہے۔آپ ؐکی دوسری بیوی ام سلمہؓ بھی چمڑے کی دباغت کرتی تھیں(مسند احمد)۔آپ نے اپنی سگی پھوپی زاد بہن زینب کا اپنے آزاد کردہ غلام حضرت زیدؓ سے نکاح کرکے جہاں ایک جانب باطل عقائد و رسم ورواج کو ختم کیا تھا ، وہیں ذات پات کی ذہنیت کا قلع قمع کیا تھا۔

ہندوستان میں اسلام کی آمد اور اس کی اخلاقی تعلیمات ومساویانہ نظا م سے متعارف ہوکر بڑی تعداد نہ صرف متاثر ہوئی بلکہ اس کے آغوش میں پناہ بھی لی۔اگرچہ یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے،اس کے باوجود آج نہ صرف اسلام کا بے جا خوف پیدا کرنے کی منظم کوششیں جاری ہیں۔یہ حقیقت ہے کہ آج ہندو پاک اور بنگلہ دیش و اطراف میں پائے جانے والے مسلمان کل تک باطل عقائد و نظریات سے تعلق رکھنے والی قوم ہی کا حصہ تھے۔پھر یہ لوگ صرف مزعومہ نیچ قوم کے ہندوہی نہیں بلکہ بعض اونچی ذات کے ہندوبھی تھے جو مشرف بہ اسلام ہوئے۔انگریز مصنف ٹی ڈبلیو آرنلڈ نے اپنی کتاب"The Preaching of Islam"میں لکھا ہے: ان مفلس لوگوں کے لیے جن میں ماہی گیر،شکاری،سمندری ڈاکو اور نیچ ذات کے کاشتکار شامل تھے، اسلام ایک نعمت عظمیٰ تھی جو ان پر عرش بریں سے اتری۔جس وقت اسلام حکمراں قوم کا مذہب تھا ،اس کے پرجوش مبلغ خدا کی توحید اور انسانی مساوات کا مژدہ لے کر ایک ایسی قوم کے پاس پہنچے جس کو سب لوگ حقیر اور ذلیل سمجھتے تھے اور جن کا کوئی پرسان حال نہ تھا۔۔۔اسلام نے ان کو خدا کی ذات کا ایک اعلیٰ تصور دیا ۔انسانی اخوت اور مساوات کے ایک اشرف تخیل سے آشنا کیا۔۔۔اسلام ذات پات کی تمیز اور طبقاتی منافرت کو روانہیں رکھتا۔لہذا ہندوستان میں اسلام کو اسی بات سے حقیقی قوت حاصل ہوئی اور اس کی بدولت اس نے ہندوؤں کوکثرت سے اپنا حلقہ بگوش بنایا (صفحہ279,80,91)۔لیکن موجودہ دور کے مسلمانوں کے لئے یہ سوال ہے کہ کیا آج وہ ان تمام خوبیوں کو اخیتار کئے ہوئے ہیں،جن کی وجہ سے کل وہ خوداسلام میں داخل ہوئے تھے؟

مساوات انسانی اور اس میں فکر و عمل کا تضاد جس طرح آج مسلمانوں میں گھر کر گیا ہے اسی طرح اسلام نے عورت کو جو تقدس وشرف عطا کیا تھا،اس کو بھی نقصان پہنچا گیاہے ۔ممکن ہے یہاں بھی معاشرے کا اتار چڑھاؤ ہی ہم پر غالب رہا ہو۔ اس کے باوجود یہ بات قابل مذمت ہونی چاہیے کہ ہم ایک جانب اپنا تعلق اسلام سے قائم کریں وہیں دوسری جانب غیر اسلامی رسم و رواج اور اس کی جکڑ بندیوں میں بھی گھرے رہیں۔ہندوستانی سماج جسے عموماً ہندو سماج سے تعبیر کیا جاتا ہے، میں عورت پر طرح طرح سے ظلم و ستم ڈھائے جاتے ہیں۔ظلم و ستم کی کھلی داستان وہ بوڑھی مائیں بھی ہیں جو ہمارے علاقوں میں دربدر بھٹکتی نظر آتی ہیں۔کہیں انہیں بیوہ کے نام پر تو کہیں ڈائن اور کالا جادو کرنے کے شبہ میں گھروں سے نکال دیا جاتا ہے۔اور اگر یہ ڈر ہو کہ گھر سے نکالنے پر سماج میں بے عزتی ہوگی تو پھر بہانوں کا سہارا لے کر موت کے منہ میں دھکیل دیا جاتا ہے۔

کچھ ایسا ہی واقعہ چند روز پہلے اڑیسہ میں پیش آیا ہے ۔جہاں ضلع کیوجھر کے دیہاتیوں نے جادوٹونا کے شبہ میں ایک ہی خاندان کے چھ ارکان کو ہلاک کر دیا۔جائے وقوع پر پہنچنے والے پولیس افسر اجے پرتاپ سوائی نے بتایا کہ تمام ہلاک شدگان کی لاشیں ان کے مکان کے اندر موجود تھیں اور ان کی گردنیں کسی تیز دھار ہتھیار سے کاٹی گئی ہیں۔اڑیسہ میں کئے گئے ایک سروے کے مطابق پچھلے پانچ سالوں میں ریاست میں اس طرح کے 274افراد قتل ہوچکے ہیں۔اور یہ سب کچھ ریاست میں دو سال قبل اڑیسہ پروینشن آف وچ ہنٹنگ کا قانون منظور ہونے کے باوجود ہوا ہے۔ ہندوستان کے دور دراز علاقوں میں خواتین کو ڈائن یا جادو گرنی قرار دئے جانے کا چلن عام ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ اس طرح کے حملوں کے پیچھے توہم پرستی اور جہالت کارفرما ہے۔ لیکن بعض اوقات بیواؤں کی جائیداد ہتھیانے کے لیے بھی یہ طریقے اختیار کیے جاتے ہیں۔ظلم و ستم اور جبر و استبداد کا یہ صرف ایک پہلو ہے ۔ان حالات میں حقیقی اسلام سے تعلق رکھنے والوں کو چاہئیے کہ وہ مظلومین کے حق میں آواز بھی بلند کریں بلکہ دستور ہند میں موجود حقوق انسانی کے خلاف ہر اٹھنے والے ہاتھ کو قانونی دائروں میں رہتے ہوئے گرفت میں لائیں۔