یونان کا مالی بحران جاری ہے

  • منگل 21 / جولائی / 2015
  • 4371

یونان کے مالی بحران کے حوالے سے یورو زون کے ملکوں اور یونان کی حکومت کے درمیان ہونے والے معاہدے کے بعد سوموار کو ملک کے بینک تین ہفتے کی بندش کے بعد کھول دئیے گئے۔ تاہم لوگوں کو رقوم نکلوانے میں بدستور مشکلات کا سامنا تھا۔ بینکوں کے پاس مناسب مقدار میں کیش موجود نہیں تھا۔ معاہدے کے تحت یورپ کے سینٹرل بینک نے عبوری طور پر 7 ارب ڈالر فراہم کرنے کی منظوری دی ہے۔ لیکن اس میں زیادہ رقم یورپین سینٹرل بینک اور دیگر اداروں کے قرضوں پر سود کی ادائیگی میں صرف ہو گی۔

یونان اور یورپ کے دیگر 18 ممالک کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت آئندہ تین برس میں 80 ارب یورو کے مزید قرضے جاری کئے جائیں گے۔ تاہم یونانی پارلیمنٹ کی طرف سے اس معاہدے کی منظوری کے بعد یورپ کے مختللف ملکوں کی پارلیمنٹ کے علاوہ یورو زون کے سسٹم میں اس معاہدہ کی منظوری میں ابھی وقت صرف ہو گا۔ آخر میں عالمی مالیاتی فنڈ اور یورپین سینٹرل بینک اس معاہدہ کی منظوری دے گا۔ معاہدہ طے ہونے کے باوجود ابھی تک ماہرین اس بات پر متفق نہیں ہیں کہ اس کے بعد یونان اپنے مسائل پر قابو پا سکے گا۔ متعدد مالی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے نتیجے میں وقتی سہولت تو ضرور حاصل ہو جائے گی لیکن ملک پر قرضوں کا بوجھ بڑھنے اور معاہدہ میں طے کی گئی مالی پابندیوں کے نفاذ کے بعد یونانی باشندوں کی مشکلات میں اضافہ ہو گا۔

نئے معاہدے کے تحت یونان کی حکومت اور پارلیمنٹ ملک میں وی اے ٹی (ویلیو ایڈڈ ٹیکس) VAT کی شرح میں دس فیصد اضافہ کر کے 23 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس ٹیکس کا فوری اثر عام صارفین پر پڑے گا۔ اس کے علاوہ یونان کی حکومت سرکاری ملازمین کے معاوضوں اور تعداد میں کمی اور پنشن یافتہ لوگوں کی سہولتیں کم کرنے پر بھی آمادہ ہو گئی ہے۔ یورپ بھر کے ماہرین اس بات پر حیرت کا اظہار کر رہے ہیں کہ وزیراعظم الیکس زپاراس ALEXIS TSIPRAS نے دو تین ہفتے قبل اسی قسم کی شرائط کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے اس سوال پر ریفرنڈم کروانے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم اس ریفرنڈم میں قرض خواہ ملکوں اور اداروں کی شرائط  کو مسترد کرنے کا فیصلہ ملنے کے بعد بھی انہوں نے پہلے سے بھی زیادہ سخت شرائط پر معاہدہ کرنے پر رضا مندی ظاہر کی ہے۔

یونان میں 5 جولائی کو یورپی ملکوں کی شرائط پر ریفرنڈم کروایا گیا تھا۔ وزیراعظم زیپاراس اور ان کی پارٹی سیریزا SYRIZA نے شرائط مسترد کرنے کی مہم چلائی تھی جبکہ جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل سمیت یورپی لیڈروں نے یہ انتباہ دیا تھا کہ اگر اس ریفرنڈم میں یونان کے عوام نے قرضوں کی ادائیگی کے لئے سخت معاشی اقدامات کی تجاویز کو مسترد کر دیا تو یونان کے لئے یورو زون میں رہنا مشکل ہو جائے گا۔ سرمایہ کی قلت کی وجہ سے یونان کی حکومت آئی ایم ایف کو 30 جون کو قرض اور سود کی ڈیڑھ ارب یورو کی قسط ادا کرنے میں ناکام ہو گئی تھی۔ اس طرح یونان ٹیکنیکل طور پر ڈیفالٹر بھی ہو چکا تھا۔ تاہم دونوں طرف سے متضاد دعوﺅں اور اعلانات کے بعد “ نہ “ میں ووٹ کے باوجود نہ تو یونان کی حکومت بچت شرائط کو تبدیل کروا سکی اور نہ یورپ کے ملک یونان کو یورو زون سے نکال کر پورے براعظم کے لئے ایک ناقابل اندازہ بحران کا سامنا کرنے کا حوصلہ کر سکے۔

وزیراعظم زیپاراس نے جو نئی تجاویز پیش کی ہیں ان میں معاشی اصلاحات کے لئے یورپ کی ساری باتیں مان لی گئی ہیں تاہم قرض کی رقم کو دوگنا کروا لیا گیا ہے۔ پہلے یورپ یونان کو آئندہ دو برسوں میں 40 ارب یورو قرض دینے کی پیشکش کر رہا تھا لیکن اب آئندہ تین برس میں 80 ارب یورو قرض دینے کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ وزیراعظم کو اپنی پارٹی کے درجنوں ارکان کی طرف سے نئے معاہدے کے حوالے سے شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن انہوں نے اپوزیشن کے تعاون سے ان شرائط کو پارلیمنٹ سے منظور کروا لیا۔

یونان کی حکومت کا خیال ہے کہ وہ زیادہ قرض لے کر ملک میں سرمایہ کاری کو فروغ دے گی اس طرح معیشت متحرک ہو سکے گی اور روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ تاہم آئی ایم ایف سمیت متعدد اقتصادی ماہرین اس تجزئیے سے متفق نہیں ہیں۔ آئی ایم ایف نے یورپی ملکوں کو ایک خصوصی نوٹ میں متنبہ کیا ہے کہ کثیر نئے قرضوں کے بعد یونان پر قرضوں کا بوجھ 500 ارب یورو تک پہنچ جائے گا جو ملک کی قومی پیداوار کی روشنی میں ناقابل ادائیگی ہے۔ گزشتہ پانچ برس کے مالی بحران کے دوران یونان کی قومی پیداوار میں 25 فیصد کمی آئی ہے اور ملک میں بیروزگاری 50 فیصد کے لگ بھگ ہے۔

آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ یونان کے قرضے معاف کرنے کا منصوبہ بنا کر ملک کو ریلیف دینے کی کوشش کرنا ہو گی۔ تاہم یورو زون کے ملک اور خاص طور سے جرمنی کسی صورت بھی قرض معاف کرنے کی تجویز پر غور کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔

یونان اور یورپ کے نئے معاہدے پر درحقیقت کوئی بھی پوری طرح مطمئن اور خوش نہیں ہے۔ ریفرنڈم میں مسترد کی جانے والی شرائط کو مان کر وزیراعظم زیپاراس نے اپنا سیاسی مستقبل داﺅ پر لگایا ہے۔ اگر ان کی حکومت معاشی بہتری کے امکانات پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہوتی تو ان کے لئے زیادہ عرصہ برسر اقتدار رہنا مشکل ہو جائے گا۔ انہوں نے ریفرنڈم میں شرائط مسترد کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر عوام نے ان کی بات قبول نہ کی تو وہ مستعفی ہو جائیں گے۔ عوام نے تو ان کی بات مان لی تھی لیکن وہ خود عوام کی خواہشات کو مسترد کر کے اب اپنی سیاسی زندگی کے لئے مسلسل جدوجہد کرنے کی کوشش کریں گے۔

یونان کا بحران پورے یورپ کے لئے مسئلہ کی حیثیت رکھتا ہے لیکن فی الوقت یورپ اسے ایک ملک کا مسئلہ سمجھ کر فیصلے کر رہا ہے۔ اس حکمت عملی کی ناکامی کی صورت میں آئندہ چند برس میں یہ بحران مزید شدید صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔