مسلمانوں کو اتحاد کی ضرورت

  • بدھ 22 / جولائی / 2015
  • 4201

یورپ کے  ایک مفکراور سیاح مارس انڈس کو  چند سال قبل اسلامی ملکوں کی سیاحت کا موقعہ ملا ۔ اس نے “ ایک مستقبل کی تلاش میں “ کے عنوان سے ایک کتاب میں عرب ممالک کے متعلق اپنے تاثرات ان الفاظ میں بیان کئے ہیں: “ بلا شبہ یورپ عرب کلچر کا مرہون منت ہے “ ۔ وہ کہتا ہے اسلامی ملکوں کی سیاحت کے دوران  میں نے عراقیوں کو یہ بات دہراتے سنا ہے۔ ہو سکتا ہے یہ لوگ عرب شہنشاہی کے کارناموں کو دہرا کر پرانی عظمت و شان کو دوبارہ حاصل کرنے کا خواب دیکھ رہے ہوں ۔ عراقیوں کے ایسے خوابوں کی حسب مراد تعبیر نکالنے کی مخالفت نہ تو علم الحیات کرتا ہے اور نہ تاریخی دلائل اس کو مسترد سکتے ہیں۔ لیکن ضرورت اس بات کی ہو گی کہ عرب دنیا اتحاد اور استحکام کی طرف لوٹ آئے۔

بنو عباس عباسیوں کی حکومت کا دور 700سالوں سے زائد رہا ہے ۔ انہوں نے بڑی شان و شوکت کیساتھ دنیا میں کامیابیاں حاصل کی تھیں۔ ہر شعبہ میں ان کی لا زوال ترقی علم اور سائنسی میدان میں بھی قابل ستائش تھی۔ عرب قوم نے جن اعلیٰ ذہنی صلاحیتوں اور قوت کا ثبوت اس زمانہ میں دیا وہ صلاحیت اور قوت، عرب دماغ میں آج بھی موجود ہے۔ البتہ آج عرب دنیا سوئی ہوئی ہے۔ اسے کسی نئی قیادت کی ضرورت ہے جو اسے حرکت میں لے آئے۔ تقریروں، خطبوں، وعظوں اور باتوں سے سب کچھ نہیں ہو سکتا ہے ۔

نعروں سے انقلابات نہیں آتے۔ خداتعالیٰ کے احکام کو پس پشت ڈال کر دنیا کے بسنے والے لوگ اب ضلالت و گمراہی میں پھنس چکے ہیں ۔عوام سے لیکر علماء تک کے سب ہی طبقے خواہ ان کا تعلق کسی مکتب خیال و فرقہ سے ہو، وہ خطابت کے جری ہوں یا قلم کے شاہسوار ۔ سیاسی لیڈر ہوں یا فقیر ۔ بلا تفریق امت مرحومہ کے مرثیہ خواں نظر آتے ہیں ۔ یورپ کے مفکر سیاح مارس انڈس نے صرف عرب ممالک تک ہی اپنی نظر محدود نہیں رکھی بلکہ وہ تبدیلی کے لئے کسی حقیقی لیڈر کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔

اسی طرح یورپ کے ایک مشہور پروفیسر میکنزی اپنی کتا ب “ انٹروڈکشن ٹو سوشیالوجی “ میں لکھتے ہیں : کامل انسانوں کے بغیر سوسائٹی معراج تک نہیں پہنچ سکتی اور اس غرض کے لئے محض عرفان اور حقیقت سے آگاہی کافی نہیں بلکہ ہیجان اور تحریک کی قوت بھی ضروری ہے ۔ مسلمانوں کو سب سے پہلے اپنے حقوق کی حفاظت کے لئے ان اصولوں کو جاننا ضروری ہے جن کے ذریعہ وہ اپنی مدافعت کر سکیں۔ دوسرے یہ کہ بوقت ضرورت وہ اتفاق رائے اور مستقل مزاجی سے کام لیں اور تیسرے یہ کہ وہ دوسرے ملکوں کے مسلمانوں کے افکار و آراء سے ربط و تعلق پیدا کریں ۔ ملت پر آنے والے خطرات کا احساس کر کے متحد ہو جائیں۔

روس کے لوگوں نے انہیں تین اصولوں کو اپنانے کے سوا کوئی اور بات نہیں کی تھی ۔ یہ قوم ترقی کے اعتبار سے تمام یورپی قوموں سے پیچھے تھی۔ آج دنیا کی عظیم مملکت ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مسلم ممالک کی سیاسی ترقی اور سیاسی اتحاد ایک ضروری چیز ہے ۔ موجودہ زمانے میں اس مقصد کو نظر انداز کرنا قومی خود کشی کے مترادف ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ ایسا کیا کیا جا سکتا ہے جس سے مسلمان نوجوانوں کی رگوں میں نیا خون دوڑنے لگے۔ اور سب مسلمانوں پر قرآن ہی کی حکومت ہو اور وہ اتحاد کا ذریعہ اپنے دین کو بنالیں۔

اگر مسلمان اسلامی اقدارپر قائم ہو جائیں تو یورپ پھر مسلمانوں کی طرف لالچ سے دیکھنے لگے گا اور پھر ان کی پیروی پر بھی مجبور ہو گا۔