سلمان خان کی بجرنگی بھائی جان

  • جمعرات 23 / جولائی / 2015
  • 7957

سلمان خان کی نئی فلم “ بجرنگی بھائی جان “ کامیابی کے نئے ریکارڈ بنا رہی ہے۔ پاکستان اور انڈیا کے عوام اور بیرون ملک مقیم ان دونوں ملکوں سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن اس فلم کو برصغیر پاک و ہند کے عوام کے لئے ہوا کے تازہ جھونکے سے تعبیر کر رہے ہیں۔ آئیٹم ڈانس، گھٹیا کامیڈی اور ایکشن کے بغیر اس فلم کی بے پناہ مقبولیت عوام کے باذوق فلم بین ہونے کی نشاندہی بھی کرتی ہے۔ 

“ بجرنگی بھائی جان “ ایک انڈین ہندو نوجوان کی کہانی ہے جو قوت گویائی سے محروم ایک پاکستانی بچی کو پاکستان میں اس کے والدین تک پہنچانے کی جدوجہد میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ یہ پاکستانی مسلم بچی ہندوستان میں اپنی ماں سے حادثاتی طور پر بچھڑ جاتی ہے۔ بچی کی ماں کو ویزہ ختم ہونے پر انڈیا چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے اور اسے اپنی گمشدہ بیٹی کو ڈھونڈے بغیر واپس پاکستان بھیج دیا جاتا ہے۔ فلمبند کئے گئے واقعات اور فلم کی کہانی انسانی دوستی، انسانی جذبوں، انسانیت سے محبت، مذہبی رواداری اور مذاہب کے احترام کے خوبصورت مناظر سے آراستہ ہے۔

اس فلم سے قبل عامرخان کی ایک فلم “ پی کے “ نے مذہبی پاکھنڈیوں اور ٹھگوں کی جہالت پر مبنی چالبازیوں اور ڈھکوسلوں کو بڑے خوبصورت انداذ میں بے نقاب کیا تھا۔  یہ فلم بھی اردو اور ہندی سمجھنے والے عوام میں بہت مقبول ہوئی تھی۔ عامر خان کی اس فلم کی کہانی بھی مذہبی رواداری، انسان دوستی اور اعلی انسانی قدروں کے گرد گھو متی ہے۔

سلمان خان اور عامر خان کی ان فلموں سے قبل پاکستان میں بننے والی فلمیں “ خدا کے لئے “ اور “ بول “ بھی اپنے منفرد اور سنجیدہ موضوعا ت کے حوالے سے علیحدہ پہچان رکھتی ہیں۔ ان فلموں میں مسلم معاشرے میں سخت گیر مذہبی نقطہ نظر رکھنے والے افراد کی سوچ اور عمل کے رد عمل سے پیدا ہونے والے سماجی اور خانگی مسائل کی نشاندہی کرنے کی کامیاب کوشش کی گئی تھی۔ ان میں مذہبی انتہا پسندی کے سماج، کنبے اور فرد پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کو بڑی مہارت سے پردہ سکرین پر پیش کیا گیا تھا۔

روایتی رومانوی کہانی سے ہٹ کر، آئٹم ڈانس، ایکشن اور بلا جواز گانوں کے بغیر سنجیدہ سماجی مسائل کا احاطہ کرنے والی یہ فلمیں پاکستان کےعلاوہ اوورسیز پاکستانیوں میں بھی بہت مقبول ہوئیں اور کمرشل ہٹ بھی رہیں۔ یہ فمیں پاک وہند میں عوامی سطح پر بد لتےہوئے سیاسی، سماجی، فکری اور ثقافتی مثبت رویوں کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ کمرشل سینیما روایات سے ہٹ کر اس خطہ کو درپیش فکری، ثقافتی اور سیاسی چیلنجز کو پردہ سکرین پرلا کر نہ صرف تاریخی کردار سرانجام دے رہا ہے بلکہ اس خطہ کے عوام کے درمیان دوستی، مذہبی رواداری اور باہمی احترام کو بھی ترویج دینے میں احسن کردار ادا کر رہا ہے۔

فلمی دنیا میں کے باشعور لکھاری اوردانشور اس بات کا تاریخی ادراک رکھتے ہیں کہ پاکستان اور انڈیا میں مذہبی عدم برداشت اور شدت پسند روئےدونوں ملکوں کے مسائل میں مزید اضافہ کا موجب بن رہے ہیں۔ بلا امتیاز مذہب اور رنگ و نسل انسانی برابری اور اعلی انسانی اقدار کی بنیاد پر معاشرہ قائم کرنے کا پیغام عوام تک پہنچانے کا عمل اپنے نتائج آہستہ آہستہ حاصل کرتا ہے۔

ایسی مثبت فلمیں پاکستان اور انڈیا کے عوام کو قریب لانے میں اہم کردار سر انجام دے رہی ہیں۔ سلمان خان، عامر خان، شاہ رخ خان اور امیتابھ بچن پاکستان کے عوام میں اتنے ہی مقبول ہیں جتنے انڈیا کے عوام میں۔ دونوں ملکوں کی حکومتوں کی دوریاں یا دشمنیاں عوام کے درمیان اس ثقافتی قربت اوردوستی کی خواہش کو دبانے میں مکمل طور پر کامیاب نیہں ہو سکیں۔

کیا دونوں ملکوں کی سیاسی اشرافیہ اور ریاستی اسٹیبلشمنٹ کوعوامی ذہنوں میں آہستہ آہستہ رونما ہونے والی طاقتور  فکری اور ثقافتی تبدیلی کا کچھ ادراک ہے یا وہ ماضی میں قید رہتے ہوئے آنکھیں بند رکھنے کا تہیہ کئے ہوئے ہے۔ انڈین وزیراعظم نریندر مودی کا انتہا پسند ہندو سیاسی ماضی اور سیاسی چالبازیوں نے انکی آنکھوں پر پردہ ڈال رکھا ہے۔ پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کی اس خطہ میں امن اور دوستی کی فضا قائم کرنے کی خواہش کو مودی سرکار نے شدید جھٹکے دئے اور انکا انڈیا کی جانب بڑھا ہؤا دوستی کا ہاتھ جھٹک دیا۔

مگرسلمان خان کی “ بجرنگی بھائی جان “ کی دونوں ملکوں کے عوام میں مقبولیت نے مذہبی تنگ نظری اور شدت پسندی، عدم برداشت اور نفرت کے خیالات کو مسترد کر دیا ہے اور دونوں ملکوں کے عوام نے دوستی، امن اور بھائی چارے کے پیغام پر لبیک کہا ہے۔