بی جے پی کے چار سو دن اور کرپشن کے قصے

  • سوموار 27 / جولائی / 2015
  • 3696

ہندوستان میں قانون ساز باڈی پارلیمنٹ ہے جس میں عموماً ہر پانچ سال میں عوام کے ذریعہ منتخب کردہ نمائندے شریک ہوتے ہیں۔ پارلیمنٹ میں کسی بھی پارٹی کے اکثریت میں آنے والے نمائندے حکومت کی باگ دوڑ سنبھالتے ہیں۔دوسری جانب ریاستوں کے منتخب نمائندے پارلیمنٹ کے ارکان کے ساے تھ مل کر راجیہ سبھا کے ارکان کا انتخاب کرتے ہیں۔ یہ دونوں ہی ہاؤسزاہمیت کے حامل ہیں۔

اس لئے پارلیمنٹ ،اس کے باوقار ارکان اور ان پر ہونے والے اخراجات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔پارلیمنٹ کی اہمیت اور اس کے تقاضوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس پر ہونے والے اخراجات بھی معمولی نہیں ہیں۔ہر ایک منٹ پر تقریباً ڈھائی لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں۔اس لحاظ سے پارلیمنٹ پرہونے والا خرچ کئی سو کروڑ تک پہنچتا ہے۔ اس مصارف کا ایک تہائی حصہ مختلف احتجاجات اور نعرے بازی کی نظر ہو جاتا ہے۔ہر سیشن کے آغاز سے قبل جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی کی میٹنگ ہوتی جس میں وزیر اعظم پارلیمنٹ کو ٹھیک انداز سے چلنے،اس میں انجام دینے والی سرگرمیوں پر گفتگو کرتا ہے۔اور سیاسی پارٹیوں کے مختلف افراد اعتماد دلاتے ہیں کہ وہ پارلیمنٹ اور اس کے ایک ایک منٹ کی قدر کریں گے۔پارلیمنٹ اوراس کے ایک منٹ پر تقریباً ڈھائی لاکھ روپیہ کا صرفہ یہ وہی رقم ہے جو ہم سے اورآپ سے ٹیکس کی وصولی کی شکل میں لی جاتی ہے۔یعنی عوام براہ راست یا بالواسطہ جو ٹیکس ادا کرتے ہیں اسی رقم سے یہ اخراجات بھی پورے ہوتے ہیں۔

اس صورت میں یہ بات خوب اچھی طرح واضح ہو جا نی چاہیے کہ نہ صرف پارلیمنٹ کے انتخابی عمل میں عوام شامل ہیں بلکہ اس پر ہونے والے اخراجات میں بھی عوام ہی کے پیسہ کو استعمال کیا جا تاہے۔ لہذا عوامی نمائندے ہر وقت عوام کے سامنے جوابدہ ہیں اور ان کا کوئی بھی عمل ایسا نہیں ہونا چاہیے جو عوام کو یا ملک کو نقصان پہنچانے والا ہو۔ان دو صورتوں میں جہاں یہ بات قابل توجہ ہے کہ عوام خود اپنی حیثیت سمجھیں ،وہیں یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ کس طرح کے لوگوں کو ان قانون ساز اداروں میں بھیجا جانا چاہیے؟آپ کو معلوم ہے کہ فی الوقت جاری مون سون سیشن کے گزشتہ چار دن لگاتار پارلیمنٹ میں شور شرابے،ہنگامہ اور احتجاج کی نظر ہوچکے ہیں اور طے شدہ پروگرام پر عمل نہیں ہو سکا۔ یہ ایک تشویشناک صورتحال ہے ،جوقیمتی ووٹ اور ٹیکس ادائیگی کا کھلا مذاق ہے۔وہیں دوسری طرف ملک کی شبیہ خراب کرنے اور عوامی نمائندوں پر اعتماد پر بھی سوالات کھڑے کرتا ہے۔یعنی یہ کہ عوام نے کن لوگوں کو اور کس طرح کے لوگوں کو ملک کی باگ ڈور سنبھالنے کی ذمہ داری سونپی ہے؟اور کیا وہ اپنی ذمہ داریاں بہ حسن خوبی انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟

اس گفتگو کے پس منظر میں یہ سوال بھی لازماً اٹھے گا کہ پارلیمنٹ میں آج کل جو کچھ دیکھنے کو مل رہا ہے اس کی وجہ کیا ہے؟اس کا سیدھا جواب تو یہ ہے ملک کی برسر اقتدار بی جے پی اور اس کی دیگر ریاستوں میں موجود حکومتیں گھوٹالوں، بدعنوانیوں اور غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔جس نہ صرف عوام اورحزب مخالف بلکہ برسر اقتدار حکومت کے افرادبھی نا خوش ہیں۔اب یہ الگ بات ہے کہ برسر اقتدار حکومت میں ایک بڑی تعداد ناخوش ہونے کے باوجود غلطیوں،کوتاہیوں اور گھوٹالوں پرخاموش رہے۔یہ مجبوری ان لوگوں کی تو ہو سکتی ہے جنہیں اپنا طویل کیرئیر پارٹی اور اس کے غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے ساتھ طے کرنا ہے۔لیکن یہ مجبوری غالباً ان لوگوں کی نہیں ہے جو پارٹی میں کیرئیر کی حد تک اپنا ہدف حاصل کر چکے ہیں اور جو سینئر بھی سمجھے جاتے ہیںیا جن کا نفس واقعی برائیوں کے خلاف احتجاج کرنے پر انہیں ابھارتا ہے۔

بی جے پی جو آر ایس ایس کی سیاسی جماعت ہے اور آر ایس ایس جو خو د کو ایک نظریاتی جماعت کہتی ہے،دونوں ہی آج کل کچھ زیادہ شد ت پسند بنے ہوئے ہیں۔بقول شخصے معتدل نظریہ اور معتدل افراد جو کل تک فیصلہ ساز حیثیتوں پر موجود تھے ،ان کی اہمیت ختم ہو چکی ہے یا کردی گئی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ معتدل کہے جانے والے افراد اندرون خانہ ایک عجیب قسم کی بے چینی اور کشمکش میں مبتلا ہیں۔جس کی تازہ مثال شانتا کمار ہیں۔شانتا کمار بھارتیہ جن سنگھ اور بی جے پی کے بانیوں میں شامل رہے ہیں۔مرارجی ڈیسائی اور واجپئی حکومت میں وزیر رہے ہیں۔ واجپئی اور اڈوانی کے معتمد خاص اور بی جے پی کے 80سالہ بزرگ رہنما شانتا کمار کی بے چینی اس وقت سامنے آئی ہے جب انہوں نے پارٹی صدر امت شاہ کو خط لکھ کر ، ویاپم گھوٹالہ جیسی بدعنوانی کا تذکرہ کیا اورکہا کہ اس عمل سے ان کا سر شرم سے جھک گیا ہے۔نیز انہوں نے پارٹی کی داخلی صورتحال کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس کی داخلی صحت کو بہتر رکھنے کے لیے 'لوک پال' مقرر کرنے کا مطالبہ کیاہے۔

شانتا کمار کے خط میں کچھ ریاستوں میں عئد ہونت والے الزامات کا ذکر ، للت مودی معاملے میں راجستھان کی وزیر اعلیٰ وسندھرا راجے کا نام آنے اور مہاراشٹر میں بی جے پی کی ایک وزیر پنکجا منڈے کے خلاف بدعنوانی کے الزامات سے متعلق تنازعہ کا اشارہ کیا ہے۔دوسری جانب پارٹی ہائی کمان شانتا کمار کے خط سے سخت ناراض ہے اورمیڈیا سے بات کرنے پراُنہیں منع بھی کیا گیا ہے۔اگرچہ پارٹی ہائی کمان شانتا کمار اور ان کے خط میں اٹھائے گئے ایشوز سے ناراض ہے، اس کے باوجود سینئر لیڈرشانتا کمارکا کہنا ہے کہ ان کے اٹھائے ہوئے کچھ مسائل پر انہیں کافی وزراء کی حمایت حاصل ہے ۔اور نہ تو میں پارٹی میں الگ تھلگ ہوں اور نہ ہی عوام سے کٹا ہوا ہوں ۔ ادھر ہماچل پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ نے بھی پارٹی کے اندر بات چیت کی کمی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی پارٹی ہونا کافی نہیں ہے بلکہ سب سے اچھی پارٹی ہونا بھی ضروری ہے۔اس بیان سے وہ دنیا میں سب سے بڑی سیاسی پارٹی بننے کے بی جے پی کے دعوے پر بالواسطہ نشانہ لگا رہے تھے۔مختصر یہ کہ اندرون خانہ وبیرون خانہ پارٹی اور حکومت مسائل میں مبتلا ہے۔

ملک کی موجودہ صورتحال کافی نا گفتہ بہ ہے۔ مرکزی حکومت کے ذمہ داران پر سوالات اٹھ رہے ہیں کہ انہوں نے للت مودی جو بڑی بد عنوانی میں مبتلا اور ملک کے بھگوڑے ہیں، کی مدد کیوں کی؟ ویاپم گھوٹالہ اور اس کے خلاف آواز اٹھانے والے آر ایس ایس طبی شعبہ کے آروگیہ بھارتی کے اندرو کے ضلع نائب صدر آنند کمارکی سعی و جہدبھی ہمارے سامنے ہے۔دیگر وزراء اورریاستی حکومتوں کے بدعنوانی کے معاملات بھی منظر عام پر آچکے ہیں۔وزرات داخلہ کے ذرائع کے حوالے سے انڈیا ٹائمز میں شائع شدہ خبر میں درمیانہ فرقہ وارانہ تشدد کے 287واقعات کا تذکرہ بھی ہم سن چکے ہیں جس میں مودی حکومت میں فرقہ وارانہ تشدد میں 25%فیصد کااضافہ سامنے آیا ہے۔ ان بے شمار واقعات سے بھی دنیا آگاہ ہے جو سماج اور ملک کی شبیہ خراب کرنے نیز عوام کو بانٹنے اور تقسیم کرنے کے لئے جاری ہیں۔

ان تمام سرگرمیوں کے پس منظر میں حکومت ناکامی کا شکار ہے۔ اس کے برعکس اقتدار میں آنے سے قبل بدعنوانی سے پاک ، شفافیت اور جوابدہ حکومت کی بات کہی گئی تھی۔ محسوس ہوتا ہے کہ وہ سب جھوٹے خواب تھے،جن کی زد میں عوام آگئی ۔ اب نہ صرف پارلیمنٹ کا وقار مجروح ہو رہا ہے بلکہ عوام کے ذریعہ ادا کی گئی رقم کا بیجا استعمال بھی ہو رہا ہے۔اس کے باوجود عوام کو ہر ممکن طریقہ سے بے وقوف بنانے کا عمل جاری ہے۔ ساتھ ہی یہ امید اور کوشش بھی ہے کہ ریاست بہار میں حالیہ ہونے والے اسمبلی انتخابات میں ایک بار پھر جیت کا سہرا عوام بی جے پی یا این ڈی اے کے سر پر ہی رکھے۔ حالانکہ ان کے سبب ہی عوام بے شمار مسائل سے دوچار ہیں۔فیصلہ عوام کے ہاتھ میں ہے ۔ وہی طے کریں گے کہ کیا بی جے پی کی یہ خواہش جائز ہے جبکہ کیے گئے کسی بھی وعدے کو چار سودنوں میں اب تک پورا نہ کیا جاسکا ہو!