نسل انسانی روشن سفر کی جانب

  • سوموار 27 / جولائی / 2015
  • 4531

انسانی تباہ کاریوں کی تاریخ تو ہابیل و قابیل کے ذریعے شروع ہوتی ہے اور پھر اولاد آدم کے ساتھ ساتھ پروان چڑھتی رہی۔ جنگ و جدل اور انسان خون کی ہولناکی ہماری تاریخ کا سبق ہے۔ جس میں منگول کی تباہ کاریوں کی تفصیل ملتی ہے۔ چنگیز اور ہلاکو کی سفاکی کا قصہ درج ہے۔

حالیہ تاریخ پر نظر ڈالیں تو امریکی سول وار کی خون آشامیاں نظر آتی ہیں جہاں بھائی نے بھائی کے خون سے ہاتھ رنگے۔ پھر جنگ عظیم اول اور جنگ عظیم دوئم کی بربریت کی داستانیں موجود ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ کس طرح ہٹلر نے انسانی وقار کو تاراج کیا۔ دوسری طرف ایٹم بم نے ہیروشیما اور ناگاساکی کو دنیا کے نقشے سے مٹانے کی سعی کی۔ لاکھوں بے گناہ جس میں بھسم ہو گئے۔ ہم نے اپنے حالیہ دور میں کوریا اور ویت نام کی جنگ دیکھی اور لرزہ خیز داستانیں پڑھیں۔ روس دندناتا ہؤا افغانستان میں داخل ہؤا اور خجل ہو کر لوٹا۔ پھر امریکہ نے عراق اور افغانستان میں خون کی ہولی کھیلی۔ قتل عام کیا اور قتل عام کروایا۔ صدام حسین ، معمر قذافی ، حسنی مبارک جیسے تیغ برہنہ لیڈر پسپا ہوئے اور معدوم ہوئے۔

یہ ساری کی ساری منفی تاریخ ہے۔ ان جنگوں اور اس خون خرابے سے ہم نے کیا سیکھا، کیا کھویا اور کیا پایا۔

آج ہم ایک روشن دور سے گزر رہے ہیں۔ ہم نور نطر سے آگے خلاﺅں میں ان دیکھی دنیائیں تلاش کر رہے ہیں۔ چاند کی سطح پر انسانی نقش کف پا اب قصہ پارینہ بن چکا ہے۔ ہمارا SPACE STATION نامعلوم خلاﺅں میں منڈلا رہا ہے۔ انسانی علم و دانش اب نئے سیارے تلاش کر رہی ہے جس کی مایہ ناز مثال PULTO ہے۔ انسان تیزی سے خلاﺅں کو تسخیر کر رہا ہے۔ ہم خلاﺅں میں نئی بستیاں سجا رہے ہیں۔

بستیاں چاند ستاروں کی سجانے والو
کرہ ارض پہ بجھتے چلے جاتے ہیں چراغ

اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم یعنی اولاد آدم کردہ ارض سے سراسر بے خبر ہو رہے ہیں۔ وقت اور تاریخ کی کرشمہ سازی ہے کہ اب اولاد آدم جنگ و جدل اور انسانی خون آشامی سے بیزار ہو رہی ہے۔ جس کی حالیہ مثال امریکہ اور یورپین یونین کا ایران سے نیو کلیئر معاہدہ ہو سکتا ہے۔ سارے کا سارا یورپ نہ سہی لیکن بیشتر یورپ اس میں شامل ہے اور خوشیاں منا رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے دو قریبی دوست ہیں۔ ایک ہے اسرائیل اور دوسرا سعودی عرب۔ اسرائیل نے تو ایرانی معاہدے پر اپنی ناخوشی کا اظہار برملا کر دیا ہے لیکن سعودی عرب حسب معمول خاموش ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی نوٹ کریں کہ اسرائیل اور سعودی عرب ایک دوسرے کے دشمن ہیں۔ لیکن دونوں امریکہ کے قریبی دوست ہیں۔

دوسرا قابل ستائش اقدام یہ کہ سالوں کی پس پردہ گفت و شنید سے نتیجہ یہ نکلا کہ امسال ماہ جولائی میں کیوبا کا مقفل سفارت خانہ واشنگٹن اور امریکہ کا مقفل سفارت خانہ ہوانا (کیوبا) میں در وا ہو گئے ہیں۔

بہت دیر کی مہرباں آتے آتے

یہ ایک تاریخی اقدام ہے۔ دونوں ممالک کے سفارتخانے آدھی صدی بعد کھلے ہیں اور اب دونوں ممالک دوستانہ تعلقات، اقتصادی خوشحالی، درآمد اور برآمد کے صحیفے لکھنے میں مصروف ہیں۔

ہم بات کر رہے ہیں انسانی تحفظ اور انسانی بقا اور عالمی امن کی۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ اولاد آدم اب انسانی بقا کی سوچ کی طرف راغب ہو رہی ہے۔ ہم نے انسانی تباہ کاریوں کے لئے خود ہی تلوار سے لیکر ایٹم بم تک بنا ڈالے۔ لیکن اب ہم تاریخ کے ایک روشن دور میں داخل ہو رہے ہیں۔ اقوام عالم میں اس بات کا شعور بیدار ہو رہا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جنگ و جدل نے ہمیں  خون ریزی اور سالوں کی نہ مٹنے والی نفرت کے سوا کیا دیا ہے؟ اور نفرتیں بھی ایسی جو اقوام کے خون کا حصہ بن چکی ہیں۔ جو شہ رگوں میں گردش کر رہی ہیں۔ جو حواس پر آگ برساتی ہیں۔ کیا اب وقت نہیں آگیا کہ ہم اندھیروں سے نکل کر نئی دنیا تعمیر کریں۔

یہ ایک بات ہے آدم ہے صاحب مقصود
ہزار گونہ فروغ و ہزار گونہ فراغ

تاریخ جو درس ہمیں صدیوں سے دے رہی ہے، ہم اس نوشتہ کو تاریخ کے سینے سے مٹا نہیں سکتے۔ لیکن ایک نئی تاریخ ضرور تخلیق کر سکتے ہیں۔

جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن
بیٹھے رہیں تصور جاناں کئے ہوئے