عمران خان کے لئے آزمائش کی گھڑی

  • منگل 28 / جولائی / 2015
  • 4673

تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان نےدھاندلی کے الزامات پر اپنے مؤقف پر قائم رہتےہوئے جوڈیشل کمیشن کی تحقیقاتی رپورٹ کے نتایج کو بعض تحفظات کے ساتھ  با دل نخواستہ تسلیم کرلیا۔ بقول عمران خان جوڈیشل کمشن نے اپنا کام ادھورا چھوڑ دیا، جس سے انہیں تحقیقاتی رپورٹ کے نتایج سے مایوسی ہوئی ہے۔

جوڈیشل کمشن کی رپورٹ کے نتایج کے خلاف عمران خان کوئی ٹھوس دلائل پیش نہ کر سکے۔ بلکہ اس دفعہ  دھاندلی کا سارا الزام الیکشن کمشن کے سر تھوپ کر الیکشن کمشن سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ عمران خان نے احتجاجی سیاست ترک کر نے، پارلیمنٹ کی کاروائی میں شامل ہونے اور صوبہ پختون خوا حکومت کی کارکردگی بہتر بنانے کے عزم کا اظہار بھی کیا ہے۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس کی سربراہی میں ایک تحقیقی جوڈیشل کمشن نے عمران خان کے 2013 کے الیکشن میں منظم دھاندلی کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

عمران خان کا میڈیا پر لایئو پریس سے خطاب دراصل پارٹی کارکنوں، ہمدردوں اور ووٹروں میں اس رپورٹ کے نتیجہ سے پیدا ہونے والی مایوسی اور بے چینی کی لہر کو کم کرنے کی ایک کوشش کہا جا سکتا ہے۔ وکلا تحریک کے معروف راہنما اور پی ٹی اٗئی کے بانی سینئر لیڈر حامد خان ایڈووکیٹ نے ایک انڑویو میں کہا ہے کہ پارٹی کے بعض راہنماؤں نے عمران خان کو سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے بارے میں گمراہ کیا کہ وہ انتخابی دھندلی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ اور یہ کہ سابق چیف جسٹس نواز لیگ کو کامیاب کرانے کے لئے دھنادلی کی سازش میں ملوث رہے ہیں۔

حامد خان نے مزید کہا کہ وہ یہ حقائق عمران خان کے گوش گزار کرنے کے با وجدو انہیں سابق چیف جسٹس پر بار بار دھاندلی میں ملوث ہونے کے الزامات لگانے سے روکنے میں ناکام رہے۔ حامد خان نے عمران خان کے معتمد اور پی ٹی آئی کے مرکزی راہنما جہانگیر ترین کو جنرل مشرف کی باقیات سے  تشبیہ دے کر شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔ یاد رہے کہ اس سے قبل پی ٹی آئی کے قومی اسمبلی کے رکن اور بانی راہنما عارف علوی ایک ٹویٹ میں یہ کہہ چکے ہیں کہ اب وقت آ گیا ہے کہ نجم سیٹھی پر لگائے گئے دھاندلی کے الزام پر ان سے معذرت کر لی جائے۔ پارٹی کے دونوں راہنماؤں کے بیانات سے عمران خان اور پی ٹی آئی کی اخلاقی اور سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔     

باخبرذرائع کا کہنا ہے 2011 میں لاہور کے جلسہ کے بعد جماعت میں شامل ھونے والے “ پرو اسٹیبلشمنٹ “ عناصر پارٹی کی قیادت پر قابض ہو چکے ہیں اورعمران خان انکے نرغے میں آچکے ہیں۔ جہانگیر ترین، شاہ محمود قریشی، پرویز خٹک، انعام الحق اور شیریں مزاری کے علاوہ عمران خان فیصلہ سازی میں کسی اور کو شامل نیہں کرتے۔ حتی کہ سرور چوہدری بھی عمران خان کے فیصلہ ساز گروپ کا حصہ نیہں بن سکے۔ پارٹی میں چند بچے کھچے بانی راہنماؤں میں فوزیہ قصوری، حامد خان، عمر چیمہ شامل ہیں۔ ان کےعلاوہ پنجاب کے سابق صدر اعجاز چوہدری اور سابق سیکریٹری امین ذکی، لاہور کے سابق صدر اور پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود رشید کے علاوہ پختون خواہ کے کسی بھی پرانے راہنما کو سیاسی فیصلوں یا مشاورت میں شریک نیہں کیا جاتا۔

حامد خان اور عارف علوی کے بیانات پارٹی کے “ پرانے “ اور 2011 کے بعد شامل ہونے والوں کے مابین شدید اختلافات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ سیاسی معاملات میں نظر انداز اور پچھلی صفوں میں دھکیل دئے جانے کی وجہ سے پی ٹی آئی کے پرانے اراکین میں شدید مایوسی پائی جاتی ہے۔ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ نے سونے پہ سہاگے کا کام کیا ہے۔ اور پارٹی کے اندرونی اختلافات پریس کے ذریعے عوام تک پہنچ رہے ہیں۔ حامد خان اور عارف علوی پنجاب اور سندھ میں پی ٹی آئی کے بانی اور پرانے کارکنوں کی نمایئندہ آواز ہیں۔ یہ باور کیا جا تا ہے کہ ان راہنماؤں کے ساتھ پنجاب، سندھ اور پختون خوا سے پی ٹی آئی کے دیگر اراکین کے شامل ہونے کے امکانات بھی ہیں۔

اختلافات کی نوعیت اور اس کے پی ٹی آئی پر مرتب ہونے والے اثرات کو مد نطر رکھتے ہوئے عمران خان نے تین سو کے قریب پارٹی اراکین کا مشاورتی اجلاس بہت جلد بلانے کا اعلان کیا ہے تاکہ احساس محرومی کا شکار اراکین کو مطمئن کیا جا سکے۔   

کافی عرصہ سے پنجاب اور پختون خوا میں پارٹی کے اندر اختلافات کی خبریں گردش کرتی رہی ہیں۔ پارٹی کے اندرونی انتخابات میں “ پرو اسٹیبلشمنٹ “ عناصر نے دولت کےبل بوتے پر پارٹی کی ہر سطح کی تنظیموں پر قبضہ کر لیا۔ سابق جسٹس وجیہ الدین کمیٹی  جماعتی الیکشن میں کرپشن یعنی کارکنوں کے ووٹ خرید کر عہدے حاصل کرنے پر جہانگیر ترین، پرویز خٹک اور انکے دیگر ساتھیوں کی بنیادی رکنیت ختم یا معطل کرنے کا فیصلہ سنا چکی ہے۔ سابق جسٹس وجیہ الدین کا کہنا ہے کہ عمران خان نے پارٹی میں مالی کرپشن سے عہدے حاصل کرنے والوں کے خلاف کاروائی کرنے کی بجائے کرپٹ عناصر کا ساتھ دینا پسند کیا ہے۔

2013  الیکشن کے بعد پی ٹی آئی نے نواز حکومت کے ساتھ مسلسل محاذ آرائی کی پالیسی اختیار کئے رکھی۔ نیٹو کنٹینروں کو روکنے کی تحریک کا بے نتیجہ ہونا، 126 دن طویل دھرنے میں بلند بانگ دعوؤں اور مطالبوں کا غیر حقیقی ہونا اور الیکشن میں دھاندلی ثابت نہ ہونے پر جوڈیشل کمیشن کی مہرثبت ہونا ۔۔۔ یہ سب عمران خان اور پی ٹی آئی میں 2011 کے بعد شامل ہونے والے سیاسی عناصر کی ناکام پالیسیوں کا شاخسانہ کہا جا تا ہے۔ کیونکہ 2013 کے الیکشن کے بعد پارٹی کی پالیسی سازی پر یہی عناصر فیصلہ کن کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ سیاسی مشاورت اور فیصلہ سازی کےعمل سے پی ٹی آئی کے پرانے راہنماؤں کو دور رکھا گیا۔       

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان اور پی ٹی آئی اسوقت اسٹیبلشمنٹ کے حامی عناصر کے زیر اثر آچکی ہے اور تبدیلی کے نعرے کے برعکس اسے “ سٹیٹس کو “ کی نمایئندہ قوتوں کی آلہ کار بنا دیا گیا ہے۔ جہانگیر ترین، شاہ محمود قریشی اور شیریں مزاری “ سٹیٹس کو “ کی علامت ہیں اور یہ نہ صرف عمران خان کو مکمل اپنے گھیرے میں لا چکے ہیں بلکہ دولت کے بل بوتے پر پارٹی میں ہر سطح پر کنٹرول حاصل کر چکے ہیں۔ ان کی پارٹی کے اندر طاقت اور اختیار نے پارٹی کے وفادار بانی اور پرانے اراکین کو شدید مایوسی اور بے بسی کا شکار کر رکھا ہے۔ 

عمران خان کو پارٹی کی نچلی سطح سے اوپر تک پرانے اور نئے اراکین کے مابین شدید اختلافات کی وجہ سے جماعتی بحران کا سامنا ہے۔ پرانے اراکین کی جانب سے نئے آنے والوں کو موقعہ پرست، مشرف کی باقیات اور اسٹیبلشمنٹ کے ایجنٹ ہونے جیسے القابات سے نوازا جا رہا ہے۔ 

کیا عمران خان صوبہ پختون خوا کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کر کے عوام کی زندگی میں علم کی روشی اور خوشحال کی صبح لا نے میں کامیاب ہو پایئں گے۔ کیا وہ اس صوبہ کو امن، ترقی، خوشحالی اور علم کا گہوارہ بنا کر ملک میں ایسی مثال قائم کر سکیں گے جس کو وہ ملک میں تبدیلی لانے کے دعوے کا عملی نمونہ پیش کر سکیں۔ آج تک پرویز خٹک حکومت کی کارکردگی قابل رشک نہیں کہی جا سکتی۔ ابھی تک صوبائی حکومت تعلیم، صحت اور روزگار کی فراہمی کے سلسلہ میں کوئی نمایاں کارنامہ سرانجام نیہں دے پائی۔ بلدیاتی الیکشن کے دوران افراتفری، بدامنی اور حکومتی وزرا کی انتخابی عمل میں مداخلت، وزیراعلی پرویزخٹک کی انتظامی نااہلی اور بد انتظامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دوسال کی کار کردگی کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ پرویز خٹک کے وزیر اعلی رہتے ہوئے صوبائی حکومت کی کارکردگی بہتر ہونے کی بہت کم امید کی جا سکتی ہے۔ 2013  کے الیکشن کے بعد مہم جوئی کی پالیسی کی بری طرح ناکامی اور پسپائی ، صوبہ پختون خواہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اور اب پی ٹی آئی کو درپیش شدید جماعتی بحران ۔۔۔ یہ عوامل عمران خان کے لئے آزمایش کی گھڑی ہیں۔ کیا عمران خان ان مسائل سے بخوبی نبرد آزما ہو پائیں گے۔

کیا وہ پارٹی کے پرانے کارکنوں کو انصاف فراہم کر پایئں گے اور پارٹی کی صفوں میں اتحاد و یکجہتی برقرار رکھ سکیں گے۔ کیا وہ پارٹی کے وفادار پرانےاراکین کو سیاسی مشاورت اور فیصلہ سازی میں شامل کرکے انہیں مطمئن کر سکیں گے یا پھر جاوید ہاشمی کے بعد اب حامد خان اور انکے بعد ان جیسے دیگر وفادار اور مایوس اراکین کی پی ٹی آئی سے ہمیشہ کے لئے چھٹی کرا دی جا ئے گی۔

کیا عمران خان تحریک انصاف اور خود کو “ پرو اسٹبلشمنٹ “ اور “ سٹیٹس کو “ عناصر کے نرغے سے رہائی دلا پائیں گے یا وہ بھی دیگر سیاسی لیڈروں کی طرح روایتی “ پاور پالیٹکس “ کے سہارے اقتدار تک پہنچنے کے لئے ہر جائز اور نا جائز حربہ استعمال کرنے کا راستہ اختیار کر چکے ہیں۔