ہالینڈ میں مساجد کے خلاف اقدامات

  • بدھ 29 / جولائی / 2015
  • 4254

خبر آئی ہے کہ ڈچ حکومت نے ہالینڈ میں مقیم لگ بھگ 10 لاکھ مسلمانوں کی سرگرمیوں کی چھان بین اور ان پر نظر رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، حکومت کی چھان بین کا خاص ہدف مساجد اور مذہبی اداروں کیلئے عطیات و رقوم کی فراہمی، مساجد کے اماموں کا ماضی اور ان کے مذہبی و فکری خیالات جاننا ہو گا۔

ہالینڈ (جس کا سرکاری نام نیدرلینڈ ہے) یورپ کا ایک انتہائی ترقی یافتہ، سیکولر اور بے حد خوشحال ملک ہے، جس میں مسلمانوں کی آبادی دس لاکھ کے قریب ہے۔ اس میں ہر سال تقریباً 20 ہزار کا اضافہ ہو رہا ہے۔ ہالینڈ کے تمام اہم شہروں مثلاً ایمسٹرڈیم، روٹرڈیم اور دی ہیگ وغیرہ کے علاوہ بھی بہت سے دوسرے شہروں میں مساجد ہیں جن میں پاکستانی، بھارتی، مراکشی، ترک، یوگوسلاویہ (مشترکہ) سرکی نامی اور دوسری کئی مسلم اقلیتیں نماز ادا کرتی ہیں۔ 11 ستمبر 2001  کے بعد یورپ کے دوسرے ممالک میں مسلمانوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا۔ اسی طرح ہالینڈ کے کچھ حلقے بھی اپنے سیکولرازم کو پس پشت ڈال کر مسلمانوں کے کردار کے بارے میں چوکنے ہو گئے ہیں۔ اس پر ستم یہ کہ ہالینڈ میں انتخابات کے نتیجے میں دائیں بازو کی پارٹی نے حکومت تشکیل دی ہے۔

میڈیا کی اطلاعات کے مطابق ہالینڈ میں پہلی بار بعض مساجد کے آئمہ کرام کے خلاف ڈچ حکومت نے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ ان پر الزامات ہیں کہ بعض امام اپنی تقاریر کے ذریعہ ہالینڈ میں بسنے والے مسلمانوں کو تشدد پر اُکسا رہے ہیں۔ اور وہ ڈچ حکومت کو اسلام دشمن قرار دے رہے ہیں۔ ان حضرات کی اکثر تقاریر جذباتی ہوتی ہیں جس کی وجہ سے بالخصوص کم تعلیم یافتہ اور سادہ مزاج مسلم نوجوانوں کے گمراہ ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔ علاوہ ازیں ان اماموں کی تقریریں سن کر ڈچ حکومت اور مقامی مسلمانوں کے درمیان خلیج پیدا ہو رہی ہے۔

میرے حساب سے اگر ڈچ حکومت کے مذکورہ اعتراضات کسی بھی حد تک صحیح ہوں اور اگر یہ سچ ہے تو مساجد کے محترم آئمہ کو چاہئے کہ وہ جذباتی نہ بنیں اور احتیاط سے کام لیں۔ فلسطینیوں پر اسرائیل یا امریکہ کے مظالم کے پس منظر میں وہ اپنی پالیسیاں نہ بنائیں۔ ہر ملک کے سیاسی، سماجی اور معاشرتی حالات مختلف ہوتے ہیں اور کوئی بھی حکومت اپنے ملک کے امن و امان کے مسئلے پر گڑبڑ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ وہ ہر قیمت پر امن و امان چاہتی ہے۔ وہ نہیں چاہتی کہ مختلف مذاہب اور فرقوں سے تعلق رکھنے والے اس کے باشندے ایک دوسرے سے دست و گریبان ہوں۔ سابق صدر بش کی عالمی سطح پر پیدا کردہ احمقانہ اور ناموافق فضا کے باوجود یورپی ممالک کی حکومتیں آج بھی بڑی حد تک مسلم دشمن نہیں ہیں۔ فرانس میں ساٹھ لاکھ اور جرمنی میں 55 لاکھ مسلمان آباد ہیں اور وہاں کی حکومتوں کا سلوک ان کے ساتھ مجموعی لحاظ سے اچھا ہے۔

مملکت یا سماج کے خلاف اگر عبادت گاہوں اور مساجد میں تقاریر ہوں تو اسے کوئی بھی حکومت برداشت نہیں کر سکتی۔ ہمارے مذہبی قائدین پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عام مسلمانوں کیلئے مسائل پیدا کرنے سے اجتناب کریں اور اپنی تقریروں، واعظوں اور لیکچروں میں اعتدال کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔ مسائل کو آپس میں بات چیت اور مکالمے سے حل کرنے کی کوشش کریں۔ یہ زمانہ ہوش کا ہے جوش کا نہیں ہے۔ وہ عیسائی یہودی یا مسلم قوم کی بجائے پوری ڈچ عوام کو پیش نظر رکھیں۔ ڈچ قوانین پر عمل کریں تو انہیں مذہب کی اشاعت اور تبلیغ سے بہت کچھ مل سکتا ہے۔

یورپ کی حکومتوں میں یہ ایک طے شدہ مسئلہ ہے کہ عبادت گاہیں صرف عبادت کیلئے ہوتی ہیں سیاست کیلئے نہیں ہوتیں۔ ہالینڈ میں بسنے والے مسلمانوں میں ایک قابل لحاظ تعداد پاکستانی، بھارتی اور سرکی نامی مسلمانوں کی بھی ہے۔ ان میں بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ مذہب کے اصولوں کی حفاظت تشدد سے ہی ہو سکتی ہے۔ یہ خیال سرے سے ہی غلط ہے دوسرے لوگ جس طرح سوچتے ہیں اس میں بھی صداقت ہو سکتی ہے، بنیاد پرستی یا جہاد مرض نہیں علامت ہے مرض تو اپنے سوچنے کے ڈھنگ کو حرف آخر سمجھنا اور دوسروں پر اپنا نقطہ نظر تھوپنا ہے۔

مجھے یقین ہے کہ ہالینڈ میں مقیم پاکستانی، بھارتی اور سری نامی انتہاپسند مسلمانوں کا ساتھ نہ دے کر اور وسیع النظری سے کام لے کر ڈچ حکومت کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کیلئے بھی مسائل پیدا نہیں کریں گے اور ڈچ حکومت و عوام کو اپنا مخالف نہیں بنائیں گے۔ ہمیں غیرمسلموں سے نفرت ترک کرنی ہو گی، جذباتیت، انتہاپسندی، تشدد، فرقہ واریت، دہشت گردی اور بنیاد پرستی کو یکسر ختم کرنا ہو گا اور درگزر و رواداری کے اصولوں پر مبنی معاشرہ کو مضبوط سے مضبوط ترین بنانا ہو گا۔

سب تیرے سوا کافر آخر اس کا مطلب کیا
سرپھرا دے انساں کا ایسا خبط مذہب کیا