عبدالکلام ۔۔۔ اک عہد کا خاتمہ
- جمعہ 31 / جولائی / 2015
- 4005
“ جب میں مر جاؤں تو میری موت پر چھٹی دینے کی بجائے ایک دن اضافی کام کیا جائے۔“ یہ الفاظ یقینی طور پر کسی ایسی شخصیت کے ہو سکتے ہیں جس کی پوری زندگی انتھک محنت سے عبارت ہو۔ یہ الفاظ ڈاکٹر عبدالکلام کے ہیں۔ جو 83 سال کی عمر میں گزشتہ ہفتے انتقال کرگئے۔
اسی طرح ایک موقع پر ڈاکٹر عبدالکلام نے کیہا تھا کہ خدا بھی ان کی ہی مدد کرتا ہے جو سخت محنت کے عادی ہوں۔ ان دو جملوں میں ایک ممتازانسان کی پوری زندگی بند ہے۔ کیا کسی کو خبر تھی کہ 1931میں ایک کشتیاں تیار کرنے والے غریب زین العابدین کے گھر پیدا ہونے والا بچہ کبھی بھارت کا صدر بن جائے گا؟
47ء کے فسادات ہوں یا پھر گجرات فسادات اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ بھارت میں مسلمان یقیناً مشکلات کا شکار رہے ہیں۔ لیکن یہ بات بھی اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ ڈاکٹر عبد الکلام جیسے محسنوں کو بھارت میں اعلیٰ ترین مقام بھی دیا گیا ہے۔ آٹھ سال کی عمر میں اپنے کزن شمس الدین کے ساتھ اخبار فروخت کرنے والے اس بچے کے بارے میں کسے خبر تھی کہ ایک دن وہ “ میزائل مین “ کے نام سے جانا جائے گا۔
یہ خطاب ڈاکٹر صاحب کو میزائل ٹیکنالوجی میں لافانی خدمات کے اعتراف میں دیا گیا۔ انڈیا میں لوگ انہیں میزائل مین کہہ کرہی پکارتے ہیں۔ اس کے علاوہ 74 کے بعد 98ء میں پوکھران کے ایٹمی دھماکوں میں ان کا کردار کسی سے بھی ڈھکا چھپا نہیں۔ ان کی انہی خدمات کے اعتراف میں انہیں بھارت کے صدر کی مسند پر بٹھایا گیا تھا۔
83سالہ ڈاکٹر عبدالکلام کی زندگی جہد مسلسل کا نام ہے۔ مدراس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں داخلے کے لئے ان کے پاس فیس کے لئے ایک ہزار روپے تک نہ تھے۔ بہنیں ہمیشہ بھائیوں کے لئے قربانیاں دیتی ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کی ہمشیرہ نے اپنی چوڑیاں گروی رکھ کے داخلے کی فیس کے پیسے جمع کروائے۔ مدراس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے گریجوایشن کرنے کے بعد عبد الکلا م نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ نئی منزلیں روشن ہوتی گئیں۔ نئے راستے طے ہوتے رہے۔
انڈین ریسرچ اینڈ سپیس آرگنائزیشن سے وابستگی ڈاکٹر عبدالکلام کی زندگی میں بھی انقلاب لے کر آئی۔ کیوں کہ روہینی- I(Rohini-1) کی کامیابی کے بعد حکومت نے خصوصی طور پر ان کی خدمات سے استفادہ حاصل کرنے کے لئے منصوبے بنانے شروع کردئے تھے۔ Rohini نام تجرباتی سیٹلائٹ کی ایک سیریز کو دیا گیا تھا Rohini-1انڈین سپیس اینڈ ریسرچ سینٹر نے 1978میں خلاء میں بھیجا گیا اور اسی منصوبے سے ڈاکٹر عبدالکلام ایک محترم شخصیت کے طور پر بھارت میں ابھرے۔ ان کی وجہء شہرت SLV یعنی Satellite Launch Vehicle بنی۔ اس ٹیکنالوجی نے انڈیا میں خلائی تحقیق میں نئی راہیں ہموار کیں۔
ڈاکٹر عبدالکلام کی خدمات کے اعتراف میں انہیں1981ء میں پدما بھوشن ایوارڈ، 1990ء میں پدما وی بھوشن ایوارڈ اور 1997 میں بھارت کے اعلیٰ ترین سول ایوارڈ بھارت رتنا سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ انہیں اندرون ملک اور بیرون ملک 20سے زائد اعزازت سے نوازا گیا۔
ڈاکٹر عبدالکلام کو بھارت میں سب سے زیادہ معتبر شخصیت سمجھا جاتا تھا۔ اس کی وجہ جاننے کے لئے ان کی زندگی سے جڑے کچھ واقعات نہایت اہم ہے۔ وہ جب ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن سے وابستہ تھے تو انتظامیہ نے حفاظتی انتظامات کے لیے دیوار پر کانچ کے ٹکڑے لگانے کا منصوبہ بنایا۔ لیکن ڈاکٹر صاحب نے یہ منصوبہ صرف اس وجہ سے رد کر دیا کہ پرندوں کو دیوار پر بیٹھنے میں مشکلات پیش آئیں گی ۔ ایک تعلیمی ادارے کی تقریب میں ڈاکٹر صاحب نے اس وجہ سے مخصوص کرسی پر بیٹھنے سے انکار کر دیا کیوں کہ اس کا حجم باقی کرسیوں سے بڑا تھا، جو اس کو باقی نشتوں سے ممتاز کرتا تھا۔ صدارت سنبھالنے کے بعد جب وہ کیرالہ گئے تو انہوں نے صدارتی مہمان کے طور پر ایک چھوٹے سے ڈھابے کے مالک کو اپنا مہمان بنایا ۔کیوں کہ اس کے ساتھ ان کا بہت اچھا وقت گزرا تھا۔
بھارت جیسے متشدد معاشرے میں ڈاکٹر عبدالکلام جیسا محنتی شخص جب احترام کا استعارہ بن جاتا ہے تو یقیناً حیرانی بھی ہوتی ہے۔ لیکن یہ حیرانی اس وقت اعتراف حقیقت میں بدل جاتی ہے کہ ایک ایسا شخص جو پرندوں کی تکلیف تک سے آگاہ ہے، اسے کیوں احترام نہ دیا جائے۔
انڈیا میزائل ٹیکنالوجی کے بانی سے محروم ہؤا یا خلائی تحقیق کے گرو سے ؟ نہیں۔ بلکہ دنیا ایک عظیم انسان سے محروم ہو گئی۔ ایک ایسا انسان جو اخبار فروش سے ملک کا صدر بن گیا لیکن اس نے کبھی عاجزی اور انسانیت کا دامن اپنے ہاتھ سے نہ چھوڑا۔