ملا عمر کی وفات اور سیاسی منظرنامہ
- سوموار 03 / اگست / 2015
- 3753
یہ تو ہم بخوبی جانتے ہیں کہ میڈیا ہر دم موضوع کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے۔ اور جب کوئی غیر معمولی موضوع ہاتھ لگ جائے تو اللہ دے اور بندہ لے۔ کمال کی بات تو یہ ہے کہ جن اہم موضوعات کا قریبی تعلق پاکستان سے ہوتا ہے ان کی کھوج لگانے میں بیرون ملک اخبارات بازی لے جاتے ہیں۔ بعد میں ہمارا میڈیا اسے لے اڑتا ہے۔
ڈھونڈی ہے یونہی شوق نے آسائش منزل
رخسار کے ختم میں کبھی کاکل کی شکن میں
آج کل دنیا بھر کے اخبارات اور ٹی وی پروگراموں میں ملا عمر کی وفات کی خبر پر خوب لے دے ہو رہی ہے۔ اخبارات میں کم اور ٹی وی پر زیادہ۔ ہمارے تبصرہ نگاروں کی چاندی ہی چاندی ہے۔ ہمارے تجزیہ نگاروں کی فوج کی فوج اس موضوع پر دراز دستی کر رہی ہے۔ یورپ اور امریکہ کے اخباری ذرائع نے کھوج لگائی اور معلوم کر لیا کہ ملا عمر تو دو سال قبل وفات پا چکے تھے۔ اور طالبان نے کمال مہارت سے اس حقیقت کو پوشیدہ رکھا۔ لیکن کمال کی بات تو یہ ہے کہ ملا عمر کی غیر موجودگی کے باوجود ان کی ریشہ دوانیوں میں رتی بھر فرق نہیں آیا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ طالبان اندرونی اور بیرونی طور سے پوری طرح منظم ہیں۔
امریکہ کے معتبر اخبار WALL STREET JOURNAL اپنی 31 جولائی 2015 کی اشاعت میں رقم طراز ہے کہ افغانستان کے صدر فرماتے ہیں کہ ملا عمر کی وفات اپریل 2013 میں ہوئی تھی اور یہ بھی فرما رہے ہیں کہ ملا عمر کی وفات پاکستان میں ہوئی تھی۔ لامحالہ پاکستان اس معاملے میں لب بستہ ہے۔ یہ ہمارا دستور بن چکا ہے کہ ہم بہت سے اندرونی معاملات کو خاموشی کی ردا پہنا دیتے ہیں۔ جس طرح ہمارے پوشیدہ ذرائع کو یہ معلوم نہ تھا کہ اسامہ بن لادن شانتی سے ایبٹ آباد میں مقیم تھے اور وہیں ان کو قتل کیا گیا اور ان کا مردہ جسم چند ہی لمحوں میں پاکستان کی سرزمین چھوڑ گیا۔
ملا عمر کی وفات اگر پاکستان میں ہوئی جس کی بابت افغانستان کے صدر نے اعلان کیا ہے۔ لیکن اس بات کی طرف اشارہ تک نہیں کیا کہ ان کی وفات کی وجوہات کیا ہیں۔ اور نہ ہی اس سلسلہ پاکستانی ذرائع سے کوئی وضاحت معلوم ہوئی ہے۔
ایک عام پاکستانی شہری کو کم ہی علم ہے کہ پاکستان اس وقت تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ ہم تو ہر روز اخبارات میں سرخیاں دیکھتے ہیں کہ پاکستان کے ضرب عضب نے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی ہے۔ یہ بیانات اہم سیاسی اور فوجی شخصیات کی زبانی منظر عام پر آتے ہیں۔ لیکن ان بیانات کے فوراً بعد کوئی نہ کوئی کہیں نہ کہیں دہشتگردی کا خون آشام واقعہ منظر عام پر آ جاتا ہے۔
ذرا کڑی سے کڑی ملائیں۔ ملا عمر کی وفات اپریل 2013 میں ہوئی۔ ان دنوں یعنی 2013 میں ملا عبدالغنی برادر پاکستانی جیل میں تھا لیکن انہیں 2013 میں ہی رہا کر دیا گیا۔ طالبان نے اپنا ہیڈ کوارٹر قطر میں کھولا۔ نہ جانے اس کے پس منظر میں دہشت گردوں کا قطر سے مصافحہ تھا یا یہ انے کسی خوف کی علامت تھی؟ یہ بھی دھیان میں رکھنا چاہئے کہ قطر نے پاکستان کو رفاعی مدد دی تھی جس کے حصول کے لئے پنجاب کے وزیراعلیٰ قطر سدھارے۔ (ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ یہ رقم پاکستان کو دی گئی تھی نہ کہ پنجاب کو)
افغان طالبان امن مذاکرات کا پہلا اور آخری دور مری میں منعقد ہؤا۔ ہم یقیناً سوچ رہے ہیں کہ یہ مذاکرات قطر میں کیوں نہ منعقد کئے گئے۔ یہ مذاکرات کابل یا قندھار میں کیوں نہیں ہوئے۔ یا پھر حقِ دوستی نبھانے کی خاطر دارجلنگ یا سری نگر میں کیوں نہیں ہوئے؟ ہم بخوبی جانتے ہیں کہ ” را “ کا افغانستان سے قریبی تعلق ہے اور شاید افغان طالبان امن مذاکرات کے انعقاد میں ” را “ کے پس پردہ سرگرم ہونے سے انکار بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ملا عمر کی وفات کی تشہیر کے بعد یہ مذاکرات بھی منسوخ ہو چکے ہیں اور طالبان کے نئے امیر نے سرعام کہہ دیا ہے کہ ” جنگ جاری رہے گی۔ “
چھوڑا نہیں غیروں نے کوئی ناوک دشنام
چھوڑی نہیں انہوں نے کوئی عرف ملامت