کیا ریاست غدار ہے ؟
- منگل 04 / اگست / 2015
- 4209
جب سے یہ ریاست وجود میں آئی ہے اس بات کا فیصلہ نہیں ہو سکا کہ ریاست اور رعایا میں سے کون غدار ہے۔ کیا ساری رعایا غدار ہے یا اس کے کچھ عناصر غدار ہیں۔ اور غدار قراردئے جانے والے، کتنی مدت بعد از سرِ نو محب وطن بن سکتے ہیں۔
اور یہ بھی کہ کتنی مدت بعد انہیں پھر سے غداری کے تختہ دار پر کھڑا کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح کیا ساری ریاست ہی غدار ہے یا اس کے صرف کچھ عناصرغدار ہیں۔ جلسوں جلوسوں میں، تنظیموں اور پارٹی کی قراردادوں میں لوگوں کو غدار قرار دئے جانے والوں کو کتنی دیر بعد پھر سے اپنا راہنما بنا کر ان کی قیادت میں ملک سے غداروں کا صفایا کرنے کی تحریک چلائی جا سکتی ہے۔
ریاست اپنے ہی آدمیوں کو غدار قرار دینے والی رپورٹ کی اشاعت پر پابندی لگا کر اسے جھنڈا لگی کار میں بارڈر سے گھر پہنچانے یا غدار قرار دئے جانے والے کو قومی پرچم میں لپیٹ کر اکیس توپوں کی سلامی دے کر دفن کرتی ہے۔
آج کل کئی بار غدار، دہشت گرد اور بھتہ خور قرار دیا جانے والا شخص پھر سے غداری کے تختہ دار پر کھڑا ہے۔ پتہ نہیں اس بار اسے پھولوں کے ہار پہنا کر کب غداری کے تختہ دار سے اُتارا جائے گا اور کسی بھی طرح اس کے ووٹ حاصل کر کے پھر اسے تختہ دار پر کھڑا کر دیا جائے گا۔ یا پھر اس دفعہ اس غدار کے کسی لے پالک کو گو د لیا جائے گا؟
میں اگر یہاں رعایا اور ریاست میں سے محب وطن سے غدار اور غدار سے محب وطن بنانے والوں کے نام درج کرنے لگوں یا ان واقعات کا تعین کروں جب ایسے واقعات یا سانحات رونما ہوئے تھے تو مجھے اندیشہ ہے کہ اس دوران کچھ اور محب وطن سے غدار اور کچھ غدار سے محب وطن قرار دے دئے جائیں گے اور میری فہرست نامکمل ہی رہے گی۔
ہم کئی بار محب وطن سے تازہ تازہ غدار بننے والے کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ اس پر ایک تو سب سے بڑا الزام یہ کہ اس نے مقدس رینجرز اور فوج کے خلاف بیان دئے ہیں۔ تمام ٹاک شوز میں تمام سیاسی پارٹیوں کے نمائیندے ایک دوسرے کو رینجرز اور فوج کا حمایتی قرار دے کر ہر سیاسی پارٹی کو گالیاں دیتے رہتے ہیں۔ وہ کھلم کھلا ایک دوسرے کو غدار کہہ رہے ہوتے ہیں۔ بلکہ دستاویزات دکھا کر اپنا مؤقف ثابت کررہے ہوتے ہیں۔ مگر ریاست ان کے خلاف کبھی ایف آئی آر نہیں کٹواتی۔ مگر جیسے ہی کوئی رینجرز یا فوج کے خلاف بیان دیتا ہے تو وہ غدار قرار دیا جاتا ہے۔
اس کے خلاف ریلیاں نکلنا شروع ہو جاتی ہیں۔ تھانوں میں اتنی ایف آئی آر درج ہونا شروع ہو جاتی ہیں کہ ملک میں سفید کاغذوں کا بحران پیدا ہوجاتا ہے۔ کیا فوج ایک سیاسی پارٹی نہیں ہے۔ اگر فوج اپنا پیشہ وارانہ کام چھوڑ کر سیاسی پارٹیوں کو توڑنے بنانے، حکومتوں کو ختم کرنے اور بنانے، لوگوں کو ٹارچر سیلوں اور شاہی قلعے میں تشدد کرکے مار سکتی ہے ۔۔۔ لوگوں کو اغوا کر کے اور ان کی لاشیں مسخ کرکے گندے نالے میں پھینک سکتی ہے، توکیا وہ ایسی گالیوں کی اتنی ہی حقدار نہیں جتنی دوسری سیاسی پارٹیاں ہیں۔ سپریم کورٹ سمیت ہر کوئی کہہ رہا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے ملڑی ونگ ختم ہونا چاہئیں مگر کوئی نہیں کہتا کہ ملڑی کے سیاسی ونگ بھی ختم ہونے چاہئیں۔
اس غدار پر دوسرا بڑا الزام یہ ہے کہ اس نے بھارت ، اقوام محتحدہ اور نیٹو سے پاکستان میں مداخلت کے لئے کہا ہے ۔
کیا نواز شریف کے بیٹے حسن نواز نے پھارتی حکومت کو خط نہیں لکھا تھا کہ وہ ہماری مدد کرے اور میرے باپ کو قید سے رہائی دلائے ۔ کیا حسن نواز سعودی عرب نہیں گیا تھا تاکہ بادشاہ سے ملاقات کر کے مدد کے لئے درخواست کرے۔ کیا حسن نواز نے یو این کو خط نہیں لکھے تھے۔ کیا پیپلز پارٹی کے میر مرتضیٰ بھٹو لیبیا اور شام نہیں گئے تھے۔ وہاں سے مالی اور فوجی امداد حا صل نہیں کی تھی۔ اپنے لوگوں کو ملڑی ٹرینگ نہیں دلوای تھی۔ کیا یاسر عرفات کے کمانڈوز کے ساتھ مل کر ذوالفقار علی بھٹو کو جیل سے اغوا کرنے کا منصوبہ نہیں بنایا گیا تھا؟
الذوالفقار کو بھی چھوڑیں۔ کیا پیپلز پارٹی یو این کو مدد کے لئے خط نہیں لکھتی رہی۔ سویڈن میں پیپلز پارٹی کے جنرل سیکرٹری، سوشل ڈیمو کریٹک کے انڑ نیشیل ڈیسک سے نہیں ملتے رہے۔ کیا پیپلز پارٹی مغربی ممالک کو نہیں کہتی رہی کہ پاکستان کا معاشی بائیکاٹ کیا جائے۔
کیا جماعت اسلامی دوسرے ملکوں سے مدد نہیں لیتی۔ کیا مولانا فضل الرحمان عرب ممالک سے مالی امدا نہیں لیتے۔ اگر پاکستان کی مثال نہ بھی دیں تو کیا یہ درست نہیں کہ جنوبی افریقہ کے نیلسن مینڈیلا کی تنظیم سارے یورپ کو امداد کے لئے کہتی رہی تھی۔ اسی کے کہنے پر پوری دنیا نے جنوبی افریقہ کی حکومت کا معاشی بائیکا ٹ کیا تھا۔ اسی طرح چلّی کے لوگوں نے پوری دنیا میں جا کر اپنے آمر کے خلاف امداد طلب کی تھی۔
میرا مقصد یہاں یہ ثابت کرنا نہیں ہے کہ کس کی مداخلت کی درخواست درست تھی اور کس نے غلط کیا تھا۔ میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس قسم کا مطالبہ پہلی دفعہ نہیں ہو رہا اور نہ ہی یہ صرف پاکستان میں ہو رہا ہے۔ میرے لئے اس وقت اہم مسلہ یہ ہے کہ کیا ریاست بندوق کے زور پر مجھ سے ایم کیو ایم کی مخالفت کروانا چاہتی ہے۔
مجھے بتائیں کون سے مہذب ملک میں آج لوگوں کی آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر اور ایک دوسرے کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کے اندھوں کی طرح سڑکوں پر چلایا جاتا ہے۔ کیا یہ جنگ ِ عظیم دوئم کے جنگی قیدی ہیں؟ کیا پاکستان ہٹلر کا جرمنی ہے کہ قیدیوں کو آنکھوں پر پٹٰی باندھ کر عدالتوں میں پیش کیا جاتا ہے۔ میں ایم کیو ایم کے سیاسی نظریات کا سخت ترین مخالف ہوں۔ میں اس پارٹی کی کریمینل کاروائی کا نقاد ہوں۔
مگر ریاست کیا کر رہی ہے۔ میری کنپٹی پر بندوق رکھ کر مجھے کہا جا رہا ہے کہ میں ایم کیو ایم کی مخالفت کروں۔ اس رویہ کو کیا کہا جائے۔ اسی لئے میں پوچھتا ہوں کہ غدار کون ہے۔ فرد یا ریاست۔