پاک روس تعلقات کی نئی نہج
- بدھ 05 / اگست / 2015
- 3773
اکتوبر 2012میں جب روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے پاکستان کا دورہ منسوخ کیا تو پاکستان مخالف قوتوں نے خوشی کے شادیانے بجائے ۔ اور یہ بھی کہا جانے لگا کہ پاکستان اور روس کے تعلقات ایک مرتبہ پھر 70ء کی دہائی جیسے ہو جائیں گے ۔ حالانکہ سابق صدر پرویز مشرف 2003 میں ماسکو کا دورہ کر چکے تھے۔ جب کہ روسی وزیر اعظم 2007 میں پاکستان آ چکے تھے۔
اس کے باوجود یہ پراپیگینڈہ شروع کر دیا گیا کہ پاکستان اور روس کے تعلقات میں سرد مہری آ گئی ہے۔ لیکن ان تمام خدشات کا خاتمہ جنرل راحیل شریف کے دورہ روس سے ہو گیا ہے۔ جون 2015 میں جنرل راحیل شریف نے روس کا دورہ کیا ۔اس دورے کو نہ صرف علاقائی طور پر اہمیت ملی بلکہ عالمی سطح پر بھی لوگوں کی نظریں اس دورے پر رہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ دنیا کا خیال ہے کہ سانحہ پشاور اور ملکی سیاسی ہنگامے کے باعث فوج اس وقت داخلی و خارجی دونوں جگہوں پر پاکستان کا مثبت چہرہ اجاگر کرنے کے لئے کوشاں ہے۔ اس میں ہرگز دو رائے نہیں ہیں کہ فوج سیاسی نظام کا متبادل نہیں ہے بلکہ فوج سیاسی نظام کو تقویت دینے کے لئے ہی اس وقت اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ آرمی چیف کے بیرونی دوروں کا بنیادی مقصد پاکستان پر لگی ہوئی دہشت گردی کی چھاپ اتارنا ہے۔ اس مقصد میں یقیناًانہیں کامیابی بھی مل رہی ہے۔ ایسا کر کے فوجی قیادت سول حکومت کی مدد بھی کر رہی ہے جو کسی بھی طرح سے انہونی نہیں ہے۔
ماضی میں روسی صدر کے دورے کی منسوخی سے پھیلنے والے سیادہ بادل آرمی چیف کے دورے سے کسی قدر چھٹ گئے ہیں۔ پوٹن کے دورے کی منسوخی کے بعد مختلف سطح پر وفود کا تبادلہ جاری رہا ۔ جو اس بات کا مظہر ہے کہ پاکستان اور روس دونوں افغان جنگ کی تلخ یادیں بھلا کر آگے بڑھنے کو تیار ہیں۔ اور روس کو بھی شاید یہ احساس ہے کہ اگر خطے میں اپنا مضبوط اثر قائم کرنا ہے تو خطے کے سب ممالک سے اچھے تعلقات نا گزیر ہیں۔
لیاقت علی خان کا روس کے بجائے امریکہ کا دورہ ہو یا 65 ء کی جنگ میں روس کی بھارت کی کھل کر حمایت ، 71ء میں حمایت کا وزن انڈیا کی طرف رکھنا ہو یا افغان جنگ میں پاکستان کا کردار ، یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ پاکستان اور روس کے درمیان تعلقات کبھی بھی مثالی نہیں رہے۔ 50 اور 70 کی دہائی میں تعلقات میں کچھ بہتری دیکھنے میں آئی تھی۔ اسی دوران پاکستان سٹیل ملز کا منصوبہ بھی سوویت یونین کی مدد سے تکمیل تک پہنچا لیکن مستقل بنیادوں پر تعلقات استوار نہ ہو سکے۔
جنرل راحیل شریف کے دورہء امریکہ کے وقت سے ہی یہ بات بخوبی دکھائی دے رہی تھی کہ پاکستان تمام ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات میں توازن پیدا کرنے کی کوشش میں ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں جتنا نقصان پاکستان کا ہوا ہے، اتنا شاید ہی کسی مل دوسرے ک کا ہوا ہو۔ اب صحیح معنوں میں دنیا کو یہ بھی باور کروایا جا رہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دی گئی قربانیاں پوری دنیا کے امن کے لیے دی گئی تھیں۔ روس کے دورے سے آرمی چیف نے دونوں ممالک کے تعلقات پر جمی برف کو ختم کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک عرصے سے جمود کا شکار فوجی تعاون کی راہیں بھی کھلنا شروع ہو گئی ہیں۔ پاکستان اس وقت ایک ایسے دور سے گزر رہا ہے جس میں اس کا کردار پوری دنیا میں ایک ذمہ دار ایٹمی قوت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے ۔ ترقی کی نئی راہوں کی طرف توجہ دی جا رہی ہے ۔ نئے دوست بھی تلاش کئے جا رہے ہیں۔پاکستان اور روس کے تعلقات کی سرد مہری ماضی کا قصہ بنتی جا رہی ہے۔ دونوں ممالک کو یہ احساس ہورہا ہے کہ ماضی کے مسائل مستقبل کے تعلقات میں رکاوٹ بنے ہوئے تھے۔ اور بہتر تعلقات دونوں ممالک کی ترقی کے لیے نہایت ضروری ہیں۔
پاکستان روس متوازن تعلقات میں نہ صرف پاکستان کا فائدہ ہے بلکہ افغانستان سے امریکہ کے انخلاء کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال روس کے لیے بھی یقیناًنہایت اہم ہو گی ۔ اور افغان جنگ کے دور سے ہی شاید روس کو بھی یہ احساس ضرور ہے کہ پاکستان کے بغیر اس خطے میں اپنا اثر قائم کرنا ایک مشکل کام ہو گا۔ اسی لئے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ وسط ایشائی ریاستوں کے وسائل کا بہتر طریقے سے استعمال ، مستقبل میں پاک ایران گیس پائپ لائن، ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی اور مغربی طاقتوں سے تعلقات جیسے اہم معاملات میں مثبت کردار ادا کرنے کے لئے روس کو بہرحال پاکستان کی حمایت درکار ہو گی ۔
امریکہ کے غیر اعلانیہ اتحادی ہونے اور مغرب کی طرف جھکاؤ رکھنے کی وجہ سے روس کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کشیدہ رہے ہیں۔ لیکن اب برف پگھلنا شروع ہو گئی ہے۔ اس برف کا پگھلنا پاکستان اور روس دونوں کے مفاد میں ہے۔ ان دونوں ممالک کے بہتر تعلقات خطے کے امن کے لیے بھی نہایت ضروری ہیں کیوں کہ بھارت اور ایران کے ساتھ روس کے بہتر تعلقات پہلے سے قائم ہیں ۔ چین اور پاکستان دوست تصور کئے جاتے ہیں لہذا پاکستان اور روس کے بہتر تعلقات خطے میں ترقی کی نئی راہیں کھول سکتے ہیں۔تعلقات کی نئی وسعتیں آنے والے دور کے لیے نہایت اہم ہیں ۔