نظریہ ضرورت کا طوق
- جمعرات 06 / اگست / 2015
- 4589
پاکستان کی سپریم کورٹ کے فل بنچ کی طرف سے فوجی عدالتوں کے قیام پر غیر متفقہ فیصلہ نے ملکی سیاست میں ایک بار پھر سیاہ تاریخ کو دہرایا ہے۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں سترہ ججوں پر مشتمل بنچ کے فیصلہ کے مطابق ملک بھر میں فوجی عدالتوں کے قیام کو درست قرار دیا گیا ہے۔ گیارہ ججوں نے عدالتوں کے قیام کی تائد کی ہے جبکہ پانچ نے مخالفت کرتے ہوئے اپنے علیحدہ نوٹ نوٹ لکھے ہیں۔
اس طرح نظریہ ضرورت کو نیا جنم دیا گیا ہے۔ حالانکہ اس کے بارے میں یہ دعوی کیاجا تا رہا تھا کہ اب اسے ہمیشہ کے لئے دفنکر دیا گیا ہے ۔ سپریم کورٹ نے پاکستان بار کونسل، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن سمیت دیگر اداروں کی تمام درخواستیں خارج کردی ہیں ۔ دہشت گردی کے خلاف مقدمات کے لئے فوجی عدالتوں کے قیام کو د.رست اور ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔ جسٹس جواد احمد نے اس بارے اپنااختلافی نوٹ لکھتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی آئین مقدم ہے پارلیمنٹ نہیں۔ پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اپنی اپنی درخواستوں میں کہا تھا کہ فوجی عدالتیں متوازن عدالتی نظام قائم کرنے کا سبب بنیں گی۔ اس طرح عدلیہ کمزور ہوگی۔
سپریم کورٹ کے چھ ججوں نے فوجی عدالتوں کو غیر آئینی قرار دیا ہے اور حقیقت بھی یہی ہے۔اگر فیصلے کرنے کے لئے فوجی عدالتیں ناگزیر ہیں تو پھر دوسرے محکموں میں کونسے افلاطون اور آئن سٹائن بیٹھے ہیں۔ سپریم کورٹ نے اپنے اس فیصلے سے تمام جمہوری اصولوں اور انصاف کے تقاضوں کی نفی کردی ہے اور انہی اداروں کے خلاف فیصلہ دیا ہے جو سپریم کورٹ اور آئین کی بالادستی کے لئے
اس کا ساتھ دیتے رہے ہیں۔ آج. جو لوگ اس فیصلے پر خوشی کے شادیانے.بجا رہے ہیں ، جلد ہی وہ نیند سے بیدار ہو جائیں گے اور حقیقت دیکھ لیں گے۔عقل کی بجائے ڈنڈا ہاتھ میں پکڑ کر فیصلے کرنے کا نتیجہ سب کو بہت جلدپتہ چل جائے گا۔ یہ ایک یونیورسل حقیقت ہے کہ فیصلے ہمیشہ عقل اور بصیرت سے ہی ہوتے ہیں ۔ زور اور طاقت کے فیصلے ریت کے گھروندیوں کی مانند ہوتے ہیں۔
یہ فیصلہ آئن میں اکیسویں ترمیم کے خلاف دائر درخواستوں پر دیا گیا ہے۔ یہ ترمیم اسی سال جنوری میں قومی اسمبلی سے منظور کروائی گئی تھی۔ اس اسمبلی کے بہت سے معزز اراکین پر جعلی تعلیمی اسناد کے الزامات ہیں۔ اکیسویں آئینی ترمیم پشاور کے آرمی پبلک سکول پر بدترین دہشت گردی اور معصوم بچوں کے قتل عام کے بیس دنوں بعد منظور کی گئی تھی۔ اس کی وجہ ایک ہی تھی کہ سکول پر حملہ کرنے والوں کو .جلد سے جلد. کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ اسی پس منظر میں فوجی ایکشن شروع کیا گیا تھا ۔
گمان اور یقین یہی تھا کہ موجود ہ عدالتی سسٹم اور جج ان مقدمات پر فیصلہ کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے ۔ جان و مال کا خوف یا مذہبی جماعتوں کے دباو میں وہ ایسے فیصلے نہیں کر سکیں گے ، جن کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی۔ اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ آج تک پاکستان کے اندر دہشت گردی کے خلاف موجودہ کارروائی سولہ دسمبر کو پشاور اسکول پر حملہ کا نتیجہ ہے۔ اکیسویں ترمیم کی ضرورت بھی اسی تناظر میں محسوس کی گئی تھی۔ حالانکہ ملک اس سے پہلے بھی دہشت گردی کا سامنا کرتا رہا تھا۔
ماضی کے چند واقعات پر نظر ڈالیں جن کو دنیا تسلیم کرتی ہے کہ وہ بھی دہشت گردی تھی۔ لیکن صرف عقیدہ کی بنیاد پر ان دہشت گردوں کے خلاف کوئی کاروائی نہ ہوئی۔ اور اگر ہوئی بھی تو برائے نام تھی ۔ اگست2009 کو گوجرہ میں مسیحی کالونی کو جلا دیا گیا جس میں کئی لوگ زندہ جلا دئے گئے ۔ 24جون 2006کو جنڈو ساہی، ڈ سکہ سیالکوٹ میں احمدیوں کے گھروں اور عبادت گا ہ کو جلا کر لوٹ لیا گیا۔ انہیں انکے گھروں سے بیدخل کردیا گیا ۔ 28مئی2010 کو لاہور میں احمدیوں کی دو عبادت گاہوں پر بیک وقت دہشتگرد حملے ہوئے۔ ان حملوں میں 92 احمدیوں کو قتل کیا گیا تھا ۔ اسی طرح پشاور میں چرچ پر حملے کئے گئے جس میں درجنوں مسیحی ہلاک ہوئے۔ 3 مارچ2013کو لاہور بادامی باغ میں عیسائیوں کی کالونی کو جلا دیا گیا۔ کوئٹہ میں اب تک ہزارہ کمیونٹی کے سینکڑوں افراد کو ہلاک کیا جاچکا ہے۔
ایک ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق پاکستان میں1963سے لے کر مئی 2015تک 23655 شیعہ کو قتل کیا چکا ہے۔ یہ تمام واقعات دہشت گردی کے تھے۔ ان میں دہشت گرد ملوث تھے۔ لیکن ان کو ہار پہنائے جاتے رہے ۔ کیا ان واقعات پر آنکھیں بند کر کے سرد مہری دکھانا ان کے عقیدہ اور مذہب کی وجہ سے تھا ۔ ریاست اور اس کے قوانین اور پالیسیاں بھی دہشت گردی کا سبب بنی ہیں۔ ان کی بھی اصلاح اور درستگی کی ضرورت ہے۔ اس بات کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ وہ سب واقعات بھی دہشت گردی کے ہی زمرے میں آتے ہیں اور اس وقت امتیازی پالیسی اختیار کی گئی تھی۔ قومی اداروں نے کیوں ایسا ایکشن نہ لیا جو اب لیا جا رہا ہے۔
اگر غیر جانبد ار ریاست کے تصورکے ساتھ ماضی کے ان دہشت گردی کے واقعات پر کاروائی کی گئی ہوتی تو غالب امکان یہی ہے کہ پھر سولہ دسمبر کا واقع بھی نہ ہوتا۔اس وقت سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کا بنیادی نقطہ یہ ہے کہ فوجی عدالتیں دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کریں گی۔ ایسی کاروائی جو سول عدلیہ کے بس کی بات نہیں ہے۔ اسی سوچ اور پالیسی کے تحت2014 میں سزائے موت کو بھی بحال کیا گیا ۔ روزنامہ ایکسپریس ٹریبون میں 4 جون2015کو شائع ہو نے والی ایک خبر کے مطابق پاکستان میں پانچ ماہ قبل سزائے موت کے قانون کے خاتمہ کے بعد سے اب تک151افراد کو سزائے موت دی گئی ہے۔ ان میں صرف23 ایسے مجرم تھے
جن پر دہشت گردی کے الزام تھے اور باقی 114 جن کو سزائے موت دی گئی تھی وہ قتل، چوری، اغواء برائے تاوان، ڈکیتی، ریپ جیسے مقدمات میں ملوث تھے۔ دہشت گردی کے الزام میں سزائے موت پانے والوں میں صرف وہ تھے جنہوں نے سابق آرمی چیف پرویز مشرف پر ناکام حملے کئے تھے۔جبکہ سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر اور سابق وفاقی وزیر شہباز بھٹی کے ملزمان ابھی تک حکومتی مہمانوں کی طرح جیلوں میں ہیں۔ سانحہ لاہور کے مجرم بھی ابھی تک انصاف کے کٹہرے میں نہیں لائے جا سکے ۔ یہ سپریم کورٹ کا کڑا اور سچا کامتحان بھی ہے ۔
رمضان کے بعد دوبارہ سزائے موت کے فیصلوں پر عمل درآمد ہو رہا ہے لیکن ان میں کوئی بھی دہشت گرد نہیں ہے۔ حال ہی بدنام زمانہ دہشت گرد ملک اسحاق اور اس کے ساتھیوں کو پولیس مقابلے میں مارا گیا جس پر اہل وطن نے سکھ کا سانس لیا۔ لیکن اس کے مرنے پر ا4159ظاہرے کرنے والوں اور غم و دکھ کا اظہار کرنے والوں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوئی ۔ دہشت گردوں کو اگر اسی طرح اسی طرح ہی غیر قانونی طریقے سے مارنا ہے تو پھر سپریم کورٹ نے نظریہ ضرورت کا طوق پھر سے گلے میں کیوں ڈال لیا؟
یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ ملک میں دہشت گردی کا خاتمہ امتیازی قوانین اور دہشت گردوں کی سرپرستی کرتے ہوئے ممکن نہیں ہے۔ دہشت گردی کا خاتمہ ہر محب وطن پاکستانی کی دلی خواہش ہے لیکن اس کے لئے محض ڈنڈا ہی کافی نہیں، تھوڑا عقل سے بھی کام لینا ہوگا۔ سب سے پہلے اہم ترین اداروں کے اندر چھپے دہشت گردوں کا قلع قمع کرنا ہو گا۔ جب تک ایسے سب عناصر کے ساتھ آہنی ہاتھ سے بلا امتیاز اور خوف کے نہیں نمٹا جائے گا تو صرف پھانسیوں سے دہشت گردی کے خاتمے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔