قومی اسمبلی میں الطاف حسین کے قصیدے

  • جمعرات 06 / اگست / 2015
  • 4480

پاکستانی سیاست بھی عجب کمالات کی حامل ہے۔ آئے روز نت نئے بیانات اور ان پر نئے نئے کمالات دیکھنے کو ملتے ہیں۔ آج قومی اسمبلی کا اجلاس تو تحریک انصاف کے ارکان کو ڈی سیٹ کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے بلایا گیا تھا مگر یہ پاکستانی سیاستدانوں کا ہی کمال ہے کہ اجلاس الطاف حسین کی تعریفوں کے پل باندھنے کی نذر ہو گیا۔

حکومت کی پالیسی تحریک انصاف کے حوالے سے واضح نظر آ رہی ہے۔ نواز لیگ نہ تو تحریک انصاف کو سسٹم سے باہر کر کے نئے دھرنے کو جنم دینا چاہتی ہے (وہ اس کی متحمل بھی نہیں ہو سکتی) اور نہ ہی دھرنے میں ہونے والی اپنی بے عزتی کو بھولنے کے لئے تیار ہے۔ وہ کسی نہ کسی طریقے سے بدلہ چکانے کو بے تاب ہے۔ یہی بے تابی کبھی مولانا فضل الرحمن اور کبھی ایم کیو ایم کو شہ دیتی ہے اور حکومت پس پردہ رہ کر تحریک انصاف کی تذلیل کو انجوائے کرتی ہے۔

ایوان میں آج طرح چند جماعتوں کو چھوڑ کر تمام ہی سیاسی جماعتوں نے الطاف بھائی کے “ پاپ “ دھوئے ہیں۔ اسے اگر “ کمال منافقت‘ “ کا نام نہ دیا جائے تو اس سے کمتر الفاظ بھی یقیناً نامناسب ہونگے۔

ملاحظہ کریں کہ ایک طرف تو مسلم لیگ (ن) کے “چوٹی “ کے رہنما اور وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان الطاف حسین کی “ ملک دشمن تقاریر“ کے خلاف برطانیہ کو قانونی ریفرنس بھیجنے کی تیاریاں کر رہے ہیں اور دوسری طرف مسلم لیگ (ن) کے لیڈر اور اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اسی الطاف حسین کے پیغامات ایوان میں بیٹھ کر قوم کو سنا رہے ہیں۔

آج ہی کی خبر ہے کہ ایم کیو ایم نے بھارت سمیت 55 ممالک کو ایک خط لکھا ہے جس میں “ بے گناہ “  کارکنان کی رہائی میں مدد کی اپیل کی گئی ہے۔ جی ہاں ان 55 ممالک میں بھارت بھی شامل ہے۔ وہی بھارت جسے عوام تو کجا حکمران بھی دشمن قرار دیتے ہیں۔ فوج کراچی سمیت ملک میں “ را “ کی مداخلت کی دہائیاں دے رہی ہے اور حکومت سکیورٹی فورسز کے خلاف بھارت کو خطوط لکھنے والوں سے صلح کا درس دے رہی ہے۔

دوسرا نقطہ ملاحظہ ہو کہ الطاف بھائی کی تقریر ٹی وی چینلز پر نشر کرنے پرغیراعلانیہ پابندی ہے اور یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں مگر اسے “ کمال منافقت “ کا نام نہ دیں تو کس پیرائے میں بیان کریں کہ انہی الطاف بھائی کا پیغام مقدس ایوان میں پڑھ کر سنایا جا رہا ہے۔

اس معاملے میں پیپلز پارٹی بھی مسلم لیگ (ن) سے پیچھے نہیں ہے(کرپشن میں بھی دونوں پارٹیاں مسلسل ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوششوں میں لگی ہیں)۔ سندھ کے وزیراعلیٰ نے دو روز قبل ہی الطاف حسین کے ذہنی توازن کے بارے میں شکوک کا اظہار کیا  تھا اور آج انہی کی پارٹی کے سینئر رہنما اور اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ الطاف حسین کی بصیرت کے گن گا رہے ہیں۔

ملک کی تمام ہی اسمبلیوں میں الطاف حسین کے خلاف مذمتی قراردادیں منظور کی گئی ہیں۔ آج کے قومی اسمبلی کے اجلاس کی کارروائی دیکھنے میں بعد یہ یقین سا ہو رہا ہے کہ یہ تمام قراردادیں “ نمائشی “  تھیں۔ حکومت اور ریاست کا فرق بھی واضح ہو رہا ہے۔ آج ایوان کی کارروائی کے دوران حکومت کی نمائندگی تو تھی، ریاست کا نام و نشان دیکھنے میں نہیں آیا۔ کیا یہ کھلا تضاد نہیں ۔۔۔۔۔۔