اسیں قصوری ساڈی ذات قصوری

  • سوموار 10 / اگست / 2015
  • 19300

یہ آج سے چالیس سال پہلے کی بات ہے ہمارے ایک عزیز جو قصور میں رہتے تھے ان کی والدہ نوے سال پورے کر وفات پاگئیں ۔ ہماری برادری میں اگر کوئی نوے یا اس زیادہ عمر گزار کر فوت ہو تو اس کا ٖغم منانے کی بجائے خوشی مناتے ہیں کہ اس نے اپنی زندگی میں اپنے نواسے نواسیوں اور پوتے پوتیوں کی بھی شادیاں دیکھ لی ہیں۔

اس قسم کے شخص کے موت پر منعقد تقریب کع یہ لوگ “ بڑا کرنا “  کتے ہیں ۔۔ قبرستاں میں ہی میٹھے چاولوں کی یا حلوے کی دیگ تقسیم کی جاتی ہے۔ یہ اصل میں اعلان ہوتا ہے کہ اب اس بزرگ کا چہلم یا “ بڑا کرنا “ ہے۔  پھر چہلم پر پورے پاکستان سے برادری کے لوگ آتے ہیں۔ اچھا کھانا بنایا جاتا ہے، محفل موسیقی کا اہتمام ہوتا ہے اور بہت کچھ کیا جاتا ہے۔ اکثر غریب لوگ برادری میں اپنی ناک رکھنے کی وجہ سے یہ  “ بڑا کرنا “ کی وجہ سے اپنے مکان گروی رکھنے پر مجبور ہوتے ہیں۔  جو وہ شاید ساری عمر نہیں چھڑاسکتے۔

جب میں قصور اپنے عزیز کی والدہ کے چہلم میں گیا تو جس گلی سے بھی گزرتا اکثر گھروں سے سُر سنگیت کی آواز آرہی تھی۔ شہر کے مختلف چوراہوں میں لوگ بیٹھے بلہے شاہ ، شاہ حسین حق باہو اور میاں محمد گا کر ایک دوسرے کو سُنا رہےتھے۔ ہر شہر کی اپنی اپنی خصوصیات ہوتی ہیں۔ بنارس کی ساڑھی اور پان مشہور ہے۔ ملتان کا حلوا اور قصور،  قصوری میتھی ، قصوری جوتی ، سُر سنگیت اور بلہے شاہ سے پہچانا جاتا ہے۔
بلہے شاہ جن کی پیدائش  “ اُچ “ میں ہوئی تھی مگر ساری عمر اُنہوں نے قصور میں گزاری۔ اسی لئے انہوں نے کہا تھا:
تُسی اوچے تہاڈی ذات اوچی تُسی اوچ شریف دے رہن والے
اسیں قصوری ساڈی ذات قصوری اسیں وچ قصور دے رہن والے

گائیکی کے کتنے بڑے بڑے گھرانے ہیں جوقصور میں رہتے تھے۔ مجھے بڑے غلام علی خان صاحب کا یاد نہیں مگر چھوٹے غلام علی خان صاحب کا ڈیرہ قصور میں ہی تھا۔  دنیائے موسیقی کا ایک روشن ستارہ ملکہ ترنم نور جہاں کا جنم قصور میں ہی ہؤا تھا۔

کہتے ہیں اگر کسی نگر میں ایک آدمی بھی صوفی ہو یا سُر سنگیت والا ہو تو ہر عذاب اور ہر بحران اس نگر میں آنے سے ڈرتا ہے اور قصور کے تو محلوں کے محلے صوفیوں کے کلام اور سر سنگیت میں لبریز تھے۔ پھر ۔۔۔۔
پھر یہکیا ہو گیا۔ قصور کے جنسی درندوں نے اپنی ہوس کا نشانہ قصور کے بے قصور بچوں کا بنایا۔
حضرت لوط کی ساری امت یہاں آکر بس گئی اور کسی فرشتے کو بھی پتہ نہ چلا۔
کیا اب قصور کے لوگوں نے بلہے کو پڑھنا اور گانا بند کر دیا ہے۔  چلو تم نے بلہے کا جنازہ نہیں پڑھایا، نہ سہی مگر بلہے کو اس شہر میں رہنے کا یہ صلہ دیا۔

بچوں کی معصومیت پارہ پارہ ہوتی رہی اور درندے اس کو بازار میں بیچتے رہے اور لوگ خریدتے رہے۔
کسی کو ان معصوم بچوں کی شلواروں پر لگا خون نظر نہ آیا۔ کیا سب نے بے حسی کی پٹیاں اپنی آنکھوں پر باندھ رکھی تھیں۔  کسی کی آنکھ میں خون نہ اُترا اور وہ اس شہر کے صاحبان اقتدار کے گریبانوں پر ہاتھ نہ ڈال سکا جو اس گندے کاروبار کو چلاتے تھے۔  اور وہاں کی انتظامیہ اور پولیس سے ملکر یہ کاروبار کررہے تھے۔

حکمرانو اور لوگو اگر آج ان درندوں کو سزائیں نہ ہوئیں تو کل تمہارے یا کسی کے بچوں کے ساتھ بھی یہ سب کچھ ہو سکتا ہے۔ اس بربریت پر کچھ نہ کیا گیا تو پھر کوئی بھی محفوظ نہیں ہوگا۔