جشن آزادی کے موقع پر ہماری تمنائیں

  • منگل 11 / اگست / 2015
  • 7754

وطن عزیز کے ہر شہری، ہر چھوٹے بڑے اور ہر سپوت کو یوم آزادی مبارک ہو۔ خدا کرے کہ قومی ترانہ میں مذکور ساری دعائیں اور ساری نیک تمنائیں وطن عزیز کے حق میں پوری ہوں اور ہم اپنے مولا سے گڑگڑا کر دعا کریں کہ سایہ خدائے ذوالجلال۔ آمین۔

قوم ہر سال یوم آزادی مناتی ہے۔ اور سیاسی لیڈران کرام اپنے اپنے بیانات بھی داغتے ہیں کہ ہم یہ کریں گے وہ کریں گے ! ممکن ہے کہ انکی نیت بھی نیک ہو مگر وہ کچھ کر نہ سکتے ہوں۔ کیوں کہ نیتوں پر حملہ کرنا درست نہیں ۔ اندرونی کیفیت ہر شخص کی خدا ہی بہتر جانتا ہے اور نہ ہمیں خدا بننا چاہیئے ۔ جیسا کہ بعض لوگ بن بیٹھے ہیں۔

میں عرض کر رہا ہوں کہ قوم ہر سال یوم آزادی مناتی ہے ۔ مختلف قسم کے پروگرام ایوان صدر میں، وزیراعظم ہاؤس میں، صوبوں میں اور مختلف سطحوں پر تشکیل دیئے جاتے ہیں۔ کہنے کو مساجد میں وطن عزیز کے لئے دعائیں بھی مانگی جاتی ہیں۔ مگر یہ ساری دعائیں رائیگاں جا رہی ہیں؟

جب وطن عزیز کے کئی کروڑ لوگ دعائیں مانگیں اور وہ دعائیں سنی نہ جائیں۔ تو پھر غور کرنا چایئے کہ کیا وجہ ہے دعائیں کیوں نہیں سنیں گئیں اور اسکا کچھ بہتر نتیجہ کیوں نہیں نکلا؟
دراصل دعائیں بھی محض رسمی ہو کر رہ گئی ہیں۔ اگر دل میں خوف خدا نہ ہو، عدل و انصاف نہ ہو، بے ایمانی اور کرپشن ہو، جانب داری ہو، رشوت ہو، مذہبی تعصب ہواور حسد ہو تو پھر دعائیں کس طرح سنی جائیں گی۔

کہتے ہیں کہ ایک بادشاہ بیمار ہو گیا ہر ممکن علاج کرایا گیا لیکن کوئی فرق نہ پڑا ۔ ایک بزرگ نے کہا کہ بادشاہ سلامت ! ایک حکیم کی دوا سے کیا ہو گا؟ جب کہ تو نے سینکڑوں بے گناہ قیدی جیل میں ڈالے ہوئے ہیں۔ اس لئے ان کے دل کی آہ وزاری تجھے لے ڈوبے گی۔ بادشاہ کو یہ بات سمجھ آ گئی اور اس نے قیدیوں کی رہائی کا حکم دے دیا اور پھر یوں خدا نے بھی اسے شفا دے دی۔

کچھ یہی حال وطن عزیز کا بھی ہے ۔ اتنے کروڑ مسلمانوں کی دعائیں سنی نہیں جا رہی ہیں۔ ملک کے حالات پہلے سے بھی بدتر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ اس لئے خواہ مکہ مدینہ میں جاکر حرمین میں دعائیں کریں یا وطن عزیز کی مساجد میں ، جس خدا کو پکارا جا رہا ہے اس کا یہ بھی فرمان قرآن میں پڑھنا چاہئے کہ تم ظلم نہ کرو، تم فساد نہ کرو اور تم عدل و انصاف سے کام لو۔ جب ان امور پہ کوئی دھیان نہ دے گا تو پھر خدا کو بھی کسی کی پرواہ نہیں ہوتی کہ وہ لوگ پھر خود بھیڑ بکریوں کو طرح ذبح ہوں یا ان سے کیا سلوک ہو۔

ایک دفعہ ایک صحابیؓ نے آنحضرت ﷺ سے دریافت فرمایا کہ مجھے کیسے معلوم ہو کہ خدا کے نزدیک میری کتنی قدرومنزلت ہے؟ آپؐ نے فرمایا یہ تو بہت آسان ہے ۔ تم دیکھ لو کہ تمہارے اندر خدا تعالیٰ کے لئے کتنی قدرومنزلت ہے ۔ تم خدا تعالیٰ کے احکامات کو کس نظر سے دیکھتے ہو یعنی کتنا ان پر عمل کرتے ہو۔ ویسا ہی خدا بھی بندے سے سلوک کرتا ہے۔ بلکہ خدا تو بندے سے کہیں زیادہ حسن سلوک فرماتا ہے۔

پس 14 اگست یوم آزادی کے حوالہ سے جو بات میں عرض کر رہا ہوں کہ ہمیں تو دیکھنا ہے کہ ہم وطن عزیز اور اس کے مکینوں سے کتنی محبت رکھتے ہیں۔  حالات نشاندہی کر رہے ہیں کہ وطن عزیز میں محبت صرف تقریروں میں رہ گئی ہے یا شعراء کے ملی نغموں میں ۔ باقی تو کہیں نظر نہیں آتی۔ جو شخص بھی کسی کام پر لگا ہؤا ہے، اس کے پیچھے اس کا ذاتی مفاد نظر آتا ہے نہ کہ ملکی خدمت کا جذبہ۔

میں نے ایک جگہ پڑھا کہ خدا تعالیٰ نے ایک گناہ گار کو صرف اس لئے بخش دیا کہ اسکے جنازے میں 40 مومنوں نے اسکی شفاعت اور مغفرت کے لئے دعا کر دی تھی۔ سبحان اللہ۔
اور ادھر وطن عزیز میں دیکھ لیں کہ کتنے مومن ہیں۔ گنیں تو کروڑوں کی تعداد نظر آتی ہے کیوں کہ ہر شخص ہی مومن ہے اعمال اور کرتوت کے لحاظ سے نہیں۔ زبانی دعویٰ کے لحاظ سے ۔ یہی وجہ ہے کہ انکی دعائیں پایہ قبولیت کو نہیں پہنچ رہیں۔ حالات جوں کے توں ہیں بلکہ پہلے سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔

مجھے آج ہی ای میل کے ذریعہ ایک ملی دعائیہ نغمہ 14 اگست کے حوالہ سے ملا ہے ۔ اس کے چند اشعار آپ کی خدمت میں رکھتا ہوں:

الفت کے گیت گاؤ چودہ اگست کے دن
محفل نئی سجاؤ ۔ چودہ اگست کے دن
دوہراؤ آج مل کر قربانیوں کے نغمے
گاؤ زمیں پہ پھر سے آزادیوں کے نغمے
ساز وفا بجاؤ چودہ اگست کے دن
سب فاصلے مٹاؤ چودہ اگست کے دن
تاریخ کے ورق کو پھر سے پلٹ کر دیکھو
منزل کو روزوشب کے جھگڑوں سے ہٹ کر دیکھو
آگے قدم بڑھاؤ چودہ اگست کے دن
اللہ کو مناؤ چودہ اگست کے دن

ترقی کرنے والی قومیں ماضی کی غلطیوں کو سامنے رکھتی ہیں۔ مگر وطن عزیز میں ایسا بھی نہیں۔ قربانیاں دینے والوں کو وطن عزیز کے ارباب و حل اقتدار نے بالکل بھلا دیا ہے ۔ جو بھی حکومت اور ریاست میں آتا ہے وہ اپنے ہی لوگوں کے نام روشن کرنے کی کوشش کرتا ہے بلکہ تاریخ کو بھی مسخ کر کے رکھ دیا گیا ہے۔ جیسا کہ پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام نوبل پرائز۔ اور چوہدری محمد ظفر اللہ خان سابق صدر عالمی عدالت ہیگ۔ ایم ایم احمد۔ جیسی شخصیات اور اسی طرح 1965 کے اصل ہیرو جنرل اختر حسین ملک ہلال جرات و فاتح چھمب جوڑیاں۔ برگیڈئیر عبدالعلی ملک جو کہ معرکہ چونڈہ کے ہیرو تھے (ہلال جرات) ۔ ان سب لوگوں کو محض ان کے عقیدہ کے اختلاف کی بنیاد پر پاکستان کی تاریخ کے جھروکے سے نکال دیا گیا ہے۔ اور یہ سب لوگ قائداعظم کی نگاہ میں تو اس ملک کے باعزت شہری تھے۔ مگر 1973 کی اسمبلی کے نمائندگان کی نگاہوں میں مسلم نہ تھے ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

اس اسمبلی نے ترمیمی قوانین اور آرڈینینس کے ذریعے انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا اور اسی وجہ سے سینکڑوں لوگ اس وقت بے گناہ جیلوں میں پڑے ہیں۔ حکومت نے اس عقیدہ سے تعلق رکھنے والوں کی کئی مساجد کو تالے لگا دئیے ہیں۔

ریاست کا اوّل کام یہ ہوتا ہے کہ وطن عزیز کے سب مکینوں اور شہریوں کو بلا امتیاز و تفریق جان و مال کی حفاظت اور ان کے مذہبی عقائد کی پاسداری اور آزادی ہونی چاہئے۔ مگر یہاں تو ایسا نہیں ہے۔ بلکہ نماز اور عبادت سے بھی روکا جا رہا ہے کہ اس سے مقامی لوگوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔  تو یوم آزادی کس چیز کا منایا جا رہا ہے ۔ لگتا ہے کہ آزادی بے ایمانی کی ہے۔ آزادی کرپشن کی ہے۔ آزادی لوٹ کھسوٹ کی ہے ۔ آزادی ہر برے کام کی ہے۔

مجھے سب سے بڑی حیرت اس بات پر ہوتی ہے شاید آپ بھی حیران ہوں گے کہ وطن عزیز میں اب تو کسی کی جان، مال، عزت و آبرو کی کوئی حفاظت نہیں ہے۔ جو چاہے جسے چاہے جب چاہے قتل کر سکتا ہے۔
یہی کچھ شیعہ کمیونٹی کے مردوں، بچوں، عورتوں کے ساتھ ہو رہا ہے۔ انہیں بے دریغ قتل کیا گیا۔ خدا کے رسول ﷺ نے فرمایا ہے کہ تم اہل زمین پر رحم کرو۔ آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔ مجال ہے کہ کسی کے دل میں یہ بات گذرے کہ ہم نے اہل زمین پر رحم بھی کرنا ہے۔ رحم تو دلوں سے اس طرح پرواز کر چکا ہے جس طرح پرندہ گھونسلے سے پرواز کر جاتا ہے۔

یہ سب علامات قرب قیامت کی ہیں کہ جب علم بھی اٹھ جائے گا ،  دل تقویٰ سے خالی ہو جائیں گے۔ خدا تعالیٰ کی محبت ٹھنڈی ہو جائے گی۔ دنیا پرستی غالب آ جائے گی۔ یہی وقت دجال کے ظہور کا بھی ہو گا۔ مگر بدقسمتی ہے علماء اور ان کے پیروکار ایک گدھے کے انتظار میں ہیں۔ جب کہ ساری قوم عقلاً یہی کچھ بن چکی ہے۔ پتہ نہیں اور کہاں سے کون سا دجال آئے گا۔ حبیب جالب نے بھی اپنے اشعار میں یہی کہا تھا ۔ ان کے اشعار پڑھ لیں۔ ضرورت نہیں کہ ان کو دہرایا جائے۔

دجال عربی کا لفظ ہے جس کا مادہ دجل ہے۔ جس کے معنی جھوٹ کے ہیں۔ ملمع سازی کے ہیں۔ دھوکہ دینے کے ہیں ۔ جب یہ ساری صفات کسی میں پائی جائیں گی وہ دجال بن جائے گا۔ جس طرح ہر شخص کا شیطان الگ ہے ۔ اسی طرح دجال بھی ہے۔ ہر شخص جب دجل سے کام لے گا تو وہ خود ہی دجال بن جائے گا۔ کاش لوگ گدھے کے انتظار کو ترک کر کے اپنے ہی گریبان میں جھانک کر دیکھ لیں تو انہیں سمجھ آ جائے گی۔

پس قوم کو یوم آزادی مبارک ہو۔ کاش اس دن کے حوالہ سے ان ہزاروں احباب کی قربانیوں کا تذکرہ کیا جائے جن کے خون سے یہ وطن آباد ہؤا۔ جن کی لاشوں پر سے گذر کے اس وطن عزیز میں ہم نے قدم رکھا۔ کیا قوم وہ قربانیاں بھول گئی ہے۔
پھر بانئ پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناح نے کس بنیاد پر اس ملک کو حاصل کیا تھا ۔ قوم اسے بھی بھول گئی ہے۔
خدارا ملک کو قائداعظم کے پاکستان کی طرف لائیں۔ اس منشور کو خود بھی پڑھیں اور اس پر عمل کریں ۔ اب تو قائداعظم کی صرف اور صرف تصویر ہی ایوانوں میں رہ گئی ہے ان کے تمام اصولوں سے قوم منحرف ہو چکی ہے۔ جب تک اس پاکستان کی طرف نہیں آتے جو قائداعظم کا خواب تھا، اس وقت تک ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہی رکاوٹ ہے۔

نیویارک سے نکلنے والے ایک اردو اخبار کی  خبر ملاحظہ فرمائیں:
’’ پاک امریکن سوسائٹی کے صدر اور دیگر ارکان نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ یہ اللہ کی فطرت ہے کہ وہ کفر برداشت کر لیتا ہے ظلم نہیں۔ ہمارے ملک میں ظالم بہت ہی منہ زور ہو چکا ہے ۔ جیلوں کو توڑنے کا واقعہ ہو یا معصوم بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی ہو ۔ لوگوں کی خودکشی کا معاملہ ہو یا چوریاں ڈاکے۔۔۔ ہر طرف افراتفری کا عالم ہے ‘‘ ۔

ایک اور دردناک خبر ملاحظہ فرمائیں:
“گذشتہ سال کوئٹہ سے پنجاب جانے والی مسافر کوچز سے 25 مسافر اغوا کر کے 13 کو قتل کر دیا گیا۔ ملزموں نے مسافروں کی لاشیں پہاڑوں میں پھینک دیں “۔

اس خبر پر کون سی آنکھ ہے جو آنسو نہ بہائے گی۔ کیا دجالیت کی کچھ کمی ہے۔ کیا بے رحمی کی کوئی بھی گنجائش ہے۔ کیا سنگ دلی میں کچھ باقی رہ جاتا ہے ۔  اس جرم کو صحیح طور پر بیان کرنے کے لئے الفاظ بھی ملنے مشکل ہیں۔  سابقہ گورنر پنجاب جناب چوہدری محمد سرور کا بیان بھی اسی اخبار میں  یوں درج ہے: ’’ توہین مذہب کے قانون میں تبدیلی دائرہ اختیار سے باہر۔ اقلیتوں کو حقوق دلاؤں گا ‘‘۔
مگر حقوق دلوانے سے پہلے ہی وہ فارغ ہو گئے۔

میرے خیال میں پاکستان میں ہر شخص توہین مذہب کا ارتکاب کر رہا ہے ۔ جب یہ لوگ قرآن مجید کے حکم کی بے حرمتی کریں۔ رسول اللہ کے اسوہ کی بے حرمتی کریں۔ اور اسلام کو داغ دار ثابت کریں کہ جس میں سوائے بربریت ، ظلم ، فساد اور خون کے کچھ نہیں تو یہ کیا توہین مذہب کے زمرے میں نہیں آتا۔