گلشن کا خدا حافظ

  • منگل 11 / اگست / 2015
  • 6379

آج میں یہاں پردیس میں بیٹھ کر پاکستان کے یوم آزادی کے حوالے سے اپنے اور اپنے اردگرد یورپ میں آ بسنے والے ہم وطنوں کے خیالات اور تاثرات بیان کرنا چاہوں گا کہ میں تاریکی میں گم شدہ ایک ایسا فرد ہوں جو تاریک بھول بھلیوں میں شاید 68 برسوں ہی سے اپنی راہ تلاش کر رہا ہے۔ مگر ہوتا یوں ہے کہ ڈور کا سرا ہی نہیں ملتا۔

میں گزشتہ کئی برسوں سے خواب دیکھ رہا ہوں۔ ایک ہی خواب اور وہ ایک خواب بھی نیند کے گھیرے میں ہے اور وطن عزیز کی فضا ہے کہ غربت کے بوجھ تلے سیاہی میں سیاہ ہوتی چلی جا رہی ہے اور میں اس دن کا منتظر ہوں جب کوئی ہاتھ دئے کی لو بڑھائے اور اور چار سو روشنی پھیلے گی۔ مقدروں، نصیبوں اور فیصلوں کی روشنی جو وعدوں اور اعلانوں کی مدہم روشنی پر چھا جائے گی۔ میری دعا ہے کہ یہ 14 اگست دُکھوں کی ان کہی، ان دیکھی مشکلوں سے نجات کا آخری 14اگست اور تاحیات والیان کشور حسین شاد باد خوشی اور مسرت کے علاوہ باقی سارے حروف بھول جائیں۔

گزشتہ برس انہی دنوں کی بات ہے کہ میں انڈیا آفس لائبریری لندن میں تھا۔ وہاں پر پاکستان کے کل اور آج کے بارے میں بہت سی کتابیں رکھی ہیں اگر آپ تاریخ کے اوراق پلٹنا چاہیں تو نہ صرف کتابیں بلکہ کمپیوٹر بھی آپ کی مدد کرتا ہے۔ وہاں میں نے جو پڑھا وہ کچھ یوں تھا۔

” لارڈ ماﺅنٹ بیٹن 13اگست کی سہ پہر کو دہلی سے کراچی پہنچا، شام کو محمد علی جناح نے اس کے اعزاز میں عشائیہ دیا۔ ماﺅنٹ بیٹن کی ایک جانب مس فاطمہ جناح اور دوسری جانب بیگم رعنا لیاقت علی بیٹھی تھیں “۔ ماﺅنٹ بیٹن لکھتا ہے: ” یہ دونوں دہلی میں ہونے والی نصف شب کی رسومات کا ذکر کر کے میرا مذاق اڑاتی رہیں کہ ایک ذمہ دار حکومت کو اتنے اہم معاملے میں جوتشیوں کے کہنے پر نہیں چلنا چاہئے“۔ چونکہ 14 اگست 1947ءکو رات کی تقریب سے پہلے دو معتبر جوتشیوں نے اپنے مذہبی طریقے کے مطابق پنڈت نہرو کو راج سنبھالنے کیلئے تیار کیا تھا اور یہ کہ قدیم ہندوستان میں جب کوئی راجہ مہاراجہ سنگھاسن پر بیٹھتا تھا تو منجم اور مقدس جوتشی اور پجاری اسی قسم کی رسومات ادا کرتے تھے۔ اس لئے 14 اگست کی شام یہ رسومات پنڈت نہرو کی رہائش گاہ پر انجام دیں گئیں“۔

15اگست کی صبح کو قائداعظم محمد علی جناح نے پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کے طور پر حلف اٹھایا۔ حلف ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سر عبدالرشید نے لیا۔ کوئی مذہبی تقریب نہ ادا کی گئی۔ حلف کی عبارت سادہ مگر پروقار تھی۔ یہ عبارت اس سے بھی زیادہ سادہ اور مختلف تھی جو برطانوی حکومت نے تجویز کی تھی۔ برطانوی حکومت نے ہندوستان اور پاکستان کے گورنر جنرلوں کیلئے حلف نامے کی یکساں عبارت تجویز کی تھی۔ پٹیل اور نہرو نے یہ عبارت من و عن منظور کر لی، لیکن جناح نے اس سے اتفاق سے نہ کیا اور اپنے لئے علیحدہ عبارت تجویز کی۔ جس کی برطانوی حکومت نے توثیق کر دی اور 15اگست کو جناح نے اسی عبارت پر حلف اٹھایا ۔ متن یہ تھا: ” میں محمد علی جناح باضابطہ اقرار کرتا ہوں کہ میں پاکستان کے آئین کی جو کہ قانوناً نافذ ہے کا سچا وفادار اور اطاعت گزار رہوں گا  اور یہ کہ میں شہنشاہ معظم شاہ جارج ششم، اس کے وارثوں اور جانشینوں کا بطور گورنر جنرل پاکستان وفادار رہوں گا “۔

اس میں جناح نے پاکستان کے آئین سے وفاداری کو شامل کیا اور اسے اولیت دی، اس کے بعد شہنشاہ معظم کی وفاداری فقط بطور گورنر جنرل شامل کی۔ مگر ”بطور محمد علی جناح“ صرف آئین کی وفاداری اور اطاعت گزاری کا عہد کیا۔ اس کے علاوہ مجوزہ متن سے ایک اہم جملہ جسے جناح نے حذف کر دیا تھا وہ یہ تھا: ” پس اے خدا میری مدد فرما “۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ قائداعظم کاروبار حکومت میں مذہب کا عمل دخل نہیں یا زیادہ نہیں چاہتے تھے۔ وہ اس کیلئے آئین کی بالادستی کو اولیت دیتے تھے۔ 15اگست کو محمد علی جناح نے پاکستان کی پہلی کابینہ کے وزیروں کا حلف بھی اسی عبار ت پر لیا تھا اس میں فقط ” باضابطہ اقرار کرتا ہوں“ کی جگہ ” حلف اٹھاتا ہوں“ کر دیا گیا تھا۔

آئین ساز اسمبلی کے پہلے صدر کی حیثیت سے قائداعظم نے اپنی پہلی تقریر کرتے ہوئے پاکستان کی آئین سازی کا سنگ بنیاد ان الفاظ کے ساتھ رکھا تھا: ” خواہ آپ کا تعلق کسی مذہب، ذات یا عقیدے سے ہو اس کا امور مملکت سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ آپ دیکھیں گے کہ کچھ وقت گزرنے کے بعد ہندو ہندو نہیں رہیں گے اور مسلمان مسلمان نہیں رہیں گے، مذہبی اعتبار سے نہیں کہ یہ ہر فرد کا ذاتی عقیدہ ہے بلکہ سیاسی اعتبار سے کہ وہ ایک قوم کے شہری ہیں “۔

یہ قائداعظم کی پہلی پالیسی تقریر تھی اس میں انہوں نے واضح طور پر امور حکومت اور سیاست کو مذہب سے بالکل جدا کر دیا تھا اور اسے ہی رواداری کہتے ہیں۔