اب عمران خان کیا کریں گے

  • منگل 11 / اگست / 2015
  • 4010

ضرب عضب کے بعد دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی، کراچی میں کلین اپ اپریشن کے بعد امن و امان کی بہترصورت حال، احتجاجی سیاست میں پی ٹی آئی کی پسپائی، جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کے نتائج، سول ملٹری تعلقات میں بظاہر ھم آہنگی، ملکی معیشت میں بہتری کے اشارئے اور ملک میں چین کی اربوں ڈالروں کی سرمایہ کاری کی امید۔ یہ وہ حقایق ہیں جن کی بنیاد پر نواز حکومت کو اعتماد اور استحکام ملتا نطرآ رہا ہے۔

سوال ہے کیا لیگی حکومت ان حالات سے فائدہ اٹھا کر ملکی معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کر نے میں کامیاب ہو گی۔ اورعوام کو روزگار کی فراہمی، انرجی بحران سے نجات، تعلیم اور صحت کے معیار میں بہتری لا  پائے گی۔ کیا نواز حکومت کو میسر مقابلتاً پرامن سیاسی حالات مزید بہتری کی طرف بڑھیں گے یا کوئی انہونا واقعہ ایک بار پھر سیاسی افراتفری کا موجب بن جائے گا۔  اور حکومت کی حماقتیں دوبارہ سیاسی عدم استحکام  کا موجب بنیں گی۔ ان سوالوں پر قیاس کرنا قبل از وقت ہو گا۔  نواز حکومت کو اب بھی اپنی کارکردگی دکھانے کے لئے اڑھائی سال کا عرصہ حاصل ہے۔

البتہ نواز لیگ کی پنجاب حکومت کو نئے چیلنجز درپیش ہونے کے امکان کو مسترد نیہں کیا جا سکتا۔ پنجاب میں چند ماہ بعد منعقد ہونے والے بلدیاتی الیکشن پی ٹی آئی کو ایک نئی احتجاجی تحریک شروع کرنے کا سنہری موقعہ فراہم کر سکتے ہیں۔ اس کی وجوہات پی ٹی آئی کی اندرونی جماعتی صورت حال میں ڈھونڈی جا سکتی ہیں۔ ویسے بھی جب تک نواز لیگ پنجاب میں پسپائی اختیار نہیں کرتی، عمران خان کا وزیراعظم بننے کا خواب شرمندہ تعبیر نیہں ہو سکتا۔ اس لئے پنجاب ملکی اقتدار کی کشمکش کا مرکز بن چکا ہے۔          

2011 میں عمران خان خوشحال طبقوں کے نوجوانوں کے ایک بہت بڑے حصے کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں بالآخر کامیاب ہوئے تھے۔ سیاسی تربیت سے محروم ان نوجوان نے “ عمران خان فین کلب “ کی شکل اختیار کر لی۔ خصوصاً پنجاب اور پختون خوا میں۔  2013 کے انتخابات تک احتجاجی طرز کی نعرہ بازی اور کامیابی کے دعوؤں نے ان نوجوانوں کو مہم جوئی اور ہر صورت کامیابی حاصل کرنے کے خمار میں مبتلا کر دیا۔ اسلام آباد کے دھرنے میں عمران خان کی تلخ اور الزامات سے بھرپور تقاریراورحکومت گرانے کے دعوؤں نے پی ٹی آئی کے نوجوانوں کے مزاج میں عدم برداشت، بدتمیزی کی حد تک تلخی اور مہم جویانہ ذہنیت کو فروغ دیا۔

پی ٹی آئی 2013 کے الیکشن کے بعد احتجاجی سیاست سے مطلوبہ نتائج حاصل نہ کرنے کی وجہ سے زخم خوردہ ہے۔ نواز حکومت گرانے اور 2015 میں  نئے الیکشن  کے خواب کی قلعی کھلنے کے بعد  عمران خان اور پی ٹی آئی کے کارکنوں میں مایوسی اور احساس شکست کا ظاہر ہونا انوکھی بات نہیں ہے۔  عمران خان کو با دل نخواستہ “ جعلی، بوگس اور چوروں کی پارلیمنٹ “  کا حصہ بننا پڑا۔ ایک جانب  پارٹی قیادت پارلیمنٹ میں جانے کے لئے بے چین ہے تو دوسری طرف اوپر سے نچلی سطح تک جماعت کے اندرونی اختلافات میڈیا کی زینت بنا شروع ہو گئے ہیں۔ 

پی ٹی آئی کے پرانے دفادار کارکن، خصوصاً پنجاب میں، عمران خان سے پارٹی کے اندرانصاف کے طلبگار ہیں۔ جبکہ 2011 کے بعد پارٹی میں آنے والے نوجوان عمران خان کے بلند بانگ دعوؤں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے احتجاج جاری رکھنے کی خواہش دبا نہیں پا رہے۔ یہ نوجوان کارکن عمران خان اور پی ٹی آ ئی پر موقعہ پرستی، ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ پر نواز حکومت سے مک مکا کرنے، کے الزامات پر تلملا اٹھتے ہیں۔ انہیں عوام میں پی ٹی آئی کا “ تبدیلی لانے “ کا غیر مفاہمتی امیج برقرار رکھنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ خیبر پختون خوا میں پرویز خٹک حکومت کی کارکردگی بھی قابل رشک نہیں کہ کارکن اسے فخریہ پی ٹی آئی کے کارناموں میں شامل کرسکیں۔ اس کے برعکس جہانگیر ترین، اسد عمر اور پرویز خٹک کی کرپشن کے قصوں کے علاوہ صوبہ پختون خوا میں پی ٹی آئی کے دیگر راہنماؤں کی کرپشن کی داستانیں بھی کارکنوں کے لئے شرمندگی کا باعث بن رہی ہیں۔ سابق جسٹس وجیہ الدین کی پارٹی رکنیت کی معطلی نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور پارٹی کے بانی راہنما حامد خان کی زبان بندی کو بھی اچھی نظر سے نیہں دیکھا جا رہا۔    

پی ٹی آئی میں شدید اندرونی اختلافات کا حل تلاش کرنے اور سیاسی تربیت سے محروم جذباتی “ عمران فین کلب “  کو مایوسی سے نکالنے کے لئے عمران خان کوئی واضع حکمت عملی نہیں بنا پائے۔ حتی کہ عمران خان نے جوڈیشل کمیشن کے نتائج اور جماعتی اختلافات سامنے آنے کے بعد بھی کارکنوں سے رابطہ کرکےانہیں مطمئن کرنے کی کوشش نیہں کی۔ کارکنوں کی تسلی کے لئے صرف اس اعلان پر اکتفا کیا گیا کہ پنجاب میں بلدیاتی الیکشن کے بعد جماعتی الیکشن منعقد کرائے جائیں گے۔

با خبر ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کو پارٹی کے اندرونی مسائل کو سلجھانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ پارٹی کے اندر نئے اور پرانے کی دراڑ پاٹنا مشکل نظر آتا ہے۔ بعض حضرات کا یہ بھی کہنا ہے کہ عمران خان پی ٹی آئی کے بانی اور پرانے کارکنوں سے چھٹکارا پانے کی راہیں تلاش کر رہے ہیں۔ کیونکہ دولت مند افراد کی پارٹٰی میں شمولیت کے بعد پرانے دفادار کارکن اپنی افادیت کھو بیٹھے ہیں۔

2011 کے بعد عمران خان کی سیاست پر نظر دوڑائی جائے تو یہ خیال قرین قیاس ہے کہ عمران خان پنجاب میں ممکنہ بلدیاتی الیکشن میں الیکشن کمیشن اور پنجاب حکومت کی خامیوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حالات کو ایک بار پھر احتجاجی رخ دینے کی ایک نئی کوشش کرسکتے ہیں۔ کیونکہ عمران خان ایسے انداز سیاست کو پارٹی کےاندرونی اختلافات کو دبائے رکھنے، کارکنوں کو متحرک کرنے اور اقتدار تک پہنچنے کا بہترین راستہ سمجھتے ہیں۔

مگر سوال یہ ہے کہ کیا عمران خان ایک نئی مہم جوئی سے اپنے مقاصد حاصل کر پائیں گے یا پھر ماضی کی طرح احتجاجی سیاست کو بے نتیجہ ختم کرنا پڑے گا۔ اس سے سامنے آنے والے خطرناک نتائج کا وہ شاید ابھی اندازہ نہ کرسکیں۔