فوجی عداتیں کیوں ضروری ہیں
- جمعرات 13 / اگست / 2015
- 4387
سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے سے دو بڑی قوتوں نے فوج کو سپریم تسلیم کر لیا اور یہ بھی فیصلہ ہؤا کہ اب ہر ملکی ادارے میں فوج کے علاوہ کوئی ایسا ادارہ نہیں جو ملک و عوام کی صحیح طور پر خدمت کر سکے ۔ یہ ملک جمہوری اور اہم سول اداروں کی نا اہلی کے باعث ہی یہ ممکن ہؤا ہے ۔ فوج نے اس فیصلہ کے آنے کے ساتھ ہی اپنے گھر سے احتساب شروع کر دیا ہے ۔ اب اس کے بعد سیاست دانوں اور دیگر لوگوں پر گھیرا تنگ ہونا شروع ہو گا۔ یہ نظریہء ضرورت ہے اور عوام کی ضرورت بھی ۔
پاکستان کے فوجی حکام کا کہنا ہے کہ نیشنل لوجسٹک سیل (N.L.C)میں مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کی تحقیقات کی روشنی میں دو فوجی جرنیلوں کوفوج سے برخاست کر کے ان کی تمام مراعات واپس لے لی گئیں ہیں ۔ 2009 میں یہ بات منظر عام پر آئی تھی کہ تین جرنیلوں نے 2004سے 2007 تک سٹاک مارکیٹ سمیت مختلف شعبوں میں جو سرمایہ کاری کی اس سے NLCکو ایک ارب اسی کروڑ روپے کا نقصان ہؤا ۔ ان جرنیلوں میں خالد منیر، محمد افضل مظفر اور خالد ظہیر شامل تھے ۔ 2010 میں موجودہ وفاقی وزیر داخلہ اور سابق پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئر مین چوہدری نثار علی خان نے جب اس معاملہ کی تحقیقات شروع کی تو سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے یہ کہا کہ اس کی تحقیقات فوج خود کرے گی ۔
فوج کے شعبہء تعلقاتِ عامہ کی جانب سے تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ ان افسروں نے سرمایہ کاری کرتے وقت بورڈ آف ڈائریکٹرز کے احکامات اور قواعد کی خلاف ورزی کی تھی جس کی وجہ سے کمپنی کو بڑے پیمانے پر مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔موجودہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے اپنا عہدہ سنبھالتے ہی انصاف اور شفافیت کے لئے NLCکیس کو جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچانے کا حکم دیا تھا ۔ ان افسران میں دو سابق جنرل اور ایک سویلین افسر محمد سعید الرحمان نے سرمایہ کاری قواعدکی خلاف ورزی کی جس سے ادارہ کو مالی نقصان پہنچا ۔ یہ چار سو ارب روپے کی سرمایہ کاری کی تھی تاہم سٹاک مارکیٹ میں مندی کی وجہ سے NLCکو ڈھائی سو ارب روپے کا نقصان ہؤا تھا ۔ اس وقت کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی رکن یاسمین رحمان نے 2010 میں اپنے ایک انٹریو میں بتایا تھا کہ NLCنے سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کی واضح ہدایات کو نظر انداز کرتے ہوئے 2005 میں سٹاک مارکیٹ میں 400 ارب روپے کی سرمایہ کاری تھی۔
اس دوران پاکستان کی سپریم کورٹ کے سترہ رکنی بنچ نے اکیسویں آئینی ترمیم کے تحت قائم ملک بھر میں فوجی عدالتوں کے اختیارات بڑھانے کے خلاف دائر تمام درخواستیں مسترد کر دی ہیں ۔ وزیر اعظم نواز شریف نے اس فیصلے کو تاریخی فیصلہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اعلیٰ عدالت نے اٹھار ویں اور اکیسویں ترامیم کو درست تسلیم کرتے ہوئے فوجی عدالتوں کے قیام کو جائز قرار دیا ہے ۔ چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں گیارہ ججوں نے فوجی عدالتوں کے حق میں اور چھ نے مخالفت میں فیصلہ دیا اور سینیئر جج جسٹس جواد خواجہ نے فیصلے پر اپنے اختلافی نوٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ ملکی آئین تمام ریاستی اداروں پر فوقیت رکھتا ہے ۔ ان کے علاوہ پانچ ججوں نے بھی ان کا ساتھ دیا ۔ خیال رہے کہ پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے علاوہ متعدد وکلاء تنظیموں نے اکیسویں آئینی ترمیم کے تحت ملک بھر میں شدت پسندی کے مقدمات کی فوری سماعت کے لئے فوجی عدالتوں کے قیام کو چیلنج کیا تھا ۔ان کا مؤقف تھا کہ فوجی عدالتیں متوازی نظام عدل ہے اور یہ موجودہ عدلیہ کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔
جن 6 ججوں نے اختلافی نوٹ لکھے ہیں وہ اخباری ذرائع کے مطابق سابق چیف جسٹس افتخار محمدچوہدری کے گروپ سے تعلق رکھتے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ فوجی دباؤ کے پیش نظر اکیسویں ترمیم کی گئی اور اب سپریم کورٹ نے بھی صحیح فیصلہ کیا ۔ مذہبی دہشت گردی کی وجہ سے یہ فیصلے کئے گئے ہیں۔البتہ وزارت داخلہ جن کیسز کو فوجی عدالتوں میں بھیجے گی انہی پر کارروائی ہو گی ۔فوجی عدالتوں کے قیام کی ضرورت اس لئے پیش آئی چونکہ ہماری عدالتیں اپنے من پسند فیصلے کرتی ہیں ۔ ان میں کوئی حقیقی عدل و انصاف کی روح مفقود ہوتی ہے ۔ تبھی لاکھوں کیسز ان کی عدالتوں مین زیر التوا ہیں۔بالخصوص مذہبی دہشت گردی کی نوعیت کے فیصلہ کرنے میں یہ عدالتیں گھبراتی ہیں اور عدل و انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہو سکتے۔ فوجی اداروں نے پندرہ ہزار دہشتگرد ان کو پکڑ کر دئے تھے۔ ان میں سے آٹھ ہزار کو ان عدالتوں نے رہا کر دیا۔ باقی ہزاروں کو جیلوں سے فرار کروا دیا گیا۔ باقی معاملات میں ان عدالتوں نے چند سو کے فیصلے کئے اور باقی زیر التوا ہیں ۔
اس ضمن میں ایک جج کے فیصلے پر سے پردہ اٹھاتا ہوں آپ خود اندازہ لگا لیں کس طرح یہ فیصلے کرتے وقت کس قدر خوفزدہ ہوتے ہیں۔ سابق گورنر پنجاب سلیمان تاثیر کے قتل کے ملزم ممتاز قادری کے کیس میں جج نے فیصلہ دینے سے دو روز قبل بیرون ملک کا ویزہ لگوایا پھر جیل میں اس کا فیصلہ کر کے اگلے روز ملک سے باہر چلے گئے ۔ مذہبی دہشت گردوں نے یہ واضح پیغام دیا تھا کہ ججوں کو قتل کر کے اور اسلام آباد، راولپنڈی اور کراچی کی عدالتوں پر حملہ کر یں گے ۔ جن کی وجہ سے انصاف کرنے والے ڈر گئے۔
اعلیٰ عدالتوں اور نیب میں کئی سو اہم کیسز زیر التوا ہیں ۔ ان کے فیصلے اب تک ہماری عدلیہ کیوں نہ کر سکی ۔ اربوں، کھربوں کی کرپشن کے اہم شخصیات کے کیسز ہیں۔ یہ جرأت اور حقیقی عدل کیوں نہیں کر رہے ؟ علاوہ ازیں ہمارے صوبائی اور وفاقی تمام ادارے بری طرح کرپشن میں ملوث ہیں یہ تو ایک نہ ایک دن ہونا ہی تھا ۔ اب دو سال تک اس سپریم کورٹ کے فیصلے سے بہتری کی طرف پاکستان جاتے ہوئے نظر آتا ہے۔ فوجی عدالتوں میں کام کرنے والے افسروں کے لئے یہ نہایت ضروری ہے کہ عدل کے قیام کے ضمن میں ، وہ اس بات کو پیش نظر رکھیں جو قرآن کریم اور سنت رسول ؐ ہمیں سکھاتی ہیں۔ یعنی ’’امانت اور احتساب‘‘ کے اصول پر عمل کیا جائے۔ قرآن کریم میں استعمال ہونے والا لفظ ’’امانت‘‘ لازماََ احتساب کے مضمون کی طرف رہنمائی کرتا ہے ۔ یہ ایک المیہ ہے کہ جمہوری ادارے امانت کی اس ذمہ داری کو یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں جس سے انہیں اپنے منتخب کرنے والوں کے سامنے بہر حال عہدہ برآ ہونا چاہئے ۔ اسی طرح وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے بھی جواب دہ ہیں جس نے ان کے سپرد اپنی امانت کی ہے۔
اس معاشرہ میں جہاں امانتیں ضائع ہو رہی ہوں نا انصافی اور ظلم کا الزام ایسے اداروں یا افراد پر ہو تا ہے جو بیک وقت بنی نوع انسان اور اللہ تعالیٰ دونوں سے کئے ہوئے عہد کو توڑ رہے ہوتے ہیں ۔ جب بھی کوئی منتخب شدہ تنظیم یا فرد اپنی امانت کا حق ادا نہیں کرتا تو اس کا لازمی نتیجہ مختلف معاشرتی برائیوں کی صورت میں برآمد ہوتاہے ۔ چنانچہ انسان عدل و انصاف پر قائم ہونے کے بجائے جبرو استبداد کا مقابلہ کرتے کرتے فنا ہو جاتا ہے ۔ قرآن کریم تقاضا کرتا ہے کہ وہ اس احساس کو ہمیشہ مد نظر رکھتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور جوابدہ ہے۔