اردو کون ہے
- جمعرات 13 / اگست / 2015
- 18846
ڈاکٹر مجاہد صاحب کا فون آیا جیسے ان پر وحی نازل ہوتی ہو۔ بڑی گرما گرمی میں بولے، سارے انتظامات مکمل ہو چکے ہیں۔ نعمان الحق صاحب تشریف لا رہے ہیں۔ محفل منعقد کرنا مقصود ہے۔ ڈاکٹر عبدالحئی صاحب اسلامیات پر گفتگو کریں گے۔ ڈاکٹر تحسین چیمہ صاحب پاکستانی سیاست پر بولیں گے اور آپ فروغ اردو پر بات کریں گے۔ وقت متعین ہو چکا ہے۔
ہم نے جھجھکتے ہوئے عرض کی کہ ہمارا تعلق پشاور سے ہے۔ اور اگر آج بھی پشاور جائیں تو پشاور اور اس کے گرد و نواح میں یہ بحث بدستور زور شور سے جاری ہے کہ: ” وہ دیوار کھڑی ہے یا وہ دیوار کھڑا ہے“۔ انہوں نے غور سے ہماری بات سنی اور فرمانے لگے آپ کو فروغ اردو پر بولنا ہی پڑے گا۔
ہم سوچنے لگے کہ انہیں آج اکیسیوں صدی میں فروغ اردو کا احساس کیوں ستانے لگا؟
ہم جسے اردو کہتے ہیں اوائل میں اس کا نام ” لشکری “ تھا۔ جس کی ترویج میں ابوالفضل اور فیضی کے نام بھی آتے ہیں۔ امیر خسرو کا عملی کردار بھی نظر آتا ہے۔ جنہوں نے مقامی بولیوں اور بھاشا کی فارسی میں پیوند کاری کی۔ امیر خسرو کمال کے عالم اور شاعر تھے۔ وہ طوطئ ہند کہلاتے تھے۔
زے حال مسکین مکن تغفل
درائے نیناں بنائے بتیاں
کہ تاب ہجراں نہ د ارم اے جان
نہ لیہو کاہے لگائے چھتیاں
شبان ہجراں دراز چوں زلف
و روز وصلت چو عمر کوتاہ
سکھی پیا کو جو میں نہ دیکھوں
تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں
زبان کی ترویج و ترقی کی راہیں کھلتی گئیں۔ زمانے نے نئے زبان و بیاں کے آہنگ کی پرورش کی ذمہ داری سنبھال لی اور اہل علم پر نئے دبستان آشکار ہوتے چلے گئے۔ پیچھے مڑ کر دیکھیں تو اس میں فورٹ ولیم کالج بھی دھند میں لپٹا نظر آئے گا۔ انڈیا آفس لائبریری (لندن) نے قیمتی اثاثوں کو سنبھالا۔ ادب کی تاریخ میں قابل احترام نام ابھرنے لگے۔ دکن سے ولی دکنی کا اسم گرامی اردو کی ترویج میں اولین ہے۔ ان کے کلام میں شاعری بھی ہے شوخی بھی ہے اور ترنم بھی ہے۔
ولی کون کہے تو اگر یک بچن
رقیباں کے دل میں کٹاری لگے
یا
اے آشنا کرم سوں یک بار آ ورس اے
تجھ باج سب جہاں سوں بیگانہ ہو رہا ہوں
تیرھویں صدی میں جب میر تقی میر کا دور آیا تو گویا وہ اردو شاعری اور اردو زبان کے عروج کا زمانہ کہلایا۔ میر تجدید کے رہبر گردانے جانے لگا۔ انہوں نے اردو زبان میں درد کے بیج بوئے اور اس میں محبت کی چاشنی بھر دی۔
نازکی ان کے لب کی کیا کہئے
پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے
یا
فقیرانہ آئے صدا کر چلے
میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے
سودا، میر درد، انشا کے دور سے گزر کر جب ہم یادش بخیر مرزا غالب کے عہد میں آتے ہیں تو غزل میں جھنکار تڑپ اٹھتی ہے
جمع کر کے یوں کہوں رقیبوں کو
اک تماشہ ہؤا غم نہ ہؤا
یا
سر ہائے خم پہ چاہے ہنگام بے خودی
روسوئے قبلہ وقت مناجات چاہئیے
اب ہم مومن ، ذوق ، بہادر شاہ ظفر کے دور سے نکل کر علامہ اقبال کے دور میں داخل ہوتے ہیں تو یہی غزل فلسفے سے اٹھکھیلیاں کرتی نظر آتی ہے۔ یہ دور نسیم سحر کا تازہ جھونکا تھا۔
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن
یا
منصور تو ہوا اب گویا پیام موت
اب کا کسی سے عشق کا دعویٰ کرے کوئی
یا
اگر کج رو ہیں انجم آسماں تیرا ہے یا میرا
مجھے فکر جہاں کیوں ہو جہاں تیرا ہے یا میرا
ہمارے دور کے ناقدین اقبال تک تو باآسانی رسائی حاصل کر لیتے ہیں لیکن آگے بڑھتے ہوئے ان کے پر جلتے ہیں۔ ہماری درس گاہوں میں ولی دکنی سے لے کر اقبال تک کا ذکر ضرور ملتا ہے۔ لیکن اس کے بعد ہمارے ناقدین گنجے فرشتے بن جاتے ہیں۔ اور دانستہ یا نادانستہ فیض احمد فیض ، اختر شیرانی ، جوش ملیح آبادی ، اسرار الحق مجاز، احمد ندیم قاسمی ، عبدالحمید عدم اور احمد فراز کو یوں نظر انداز کر جاتے ہیں جیسے ان کا ادب سے کوئی علاقہ ہی نہیں۔
فیض احمد فیض
محتسب کی خیر اونچا ہے اسی کے نام سے
رند کا، ساقی کا، مے کا ، خم کا ، پیمانے کا نام
اختر شیرانی
اب وہ باتیں نہ وہ راتیں نہ ملاقاتیں ہیں
محفلیں خواب کی صورت ہیں ویراں کیا کیا
عبدالحمید عدم
عشق جب دم توڑتا تھا تم نہ تھے
موت جب سر دھن رہی تھی میں نہ تھا
اسرار الحق مجاز
اب گل سے نظر ملتی ہی نہیں، اب دل کی کلی کھلتی ہی نہیں
اے فصل بہاراں رخصت ہو، ہم لطف بہاراں بھول گئے
جوش ملیح آبادی
بہت جی خوش ہؤا اے ہم نشیں کل جوش سے مل کر
ابھی اگلی شرافت کے نمونے پائے جاتے ہیں
احمد ندیم قاسمی
اگر گھنا ہو اندھیرا اگر ہو دور سویرا
تو یہ اصول ہے میرا کہ دل کے دیپ جلاﺅ
احمد فراز
تو خدا ہے نہ میرا عشق فرشتوں جیسا
دونوں انساں ہیں تو کیوں اتنے حجابوں میں ملیں
یا
شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع دیپ جلاتے جاتے
ہم نے غزل خوانی تو کر لی، غزل کی محبت کے علم بردار بسیار، اس کے متوالے بے شمار۔ لیکن گھات میں صیاد بھی ہے۔ بعض شاعروں نے دو مصرعوں یا ایک شعر میں مدعا بیان کرنا محال سمجھا تو نظم کی ابتدا کی۔ نظمیں لکھی گئیں اور خوب لکھی گئیں۔ اب بدعت کی بنا پڑ چکی تھی تو نظم کو ورغلا کر آزاد نظم کا جامہ پہنایا گیا تھا۔ ن م راشد اور میرا جی آزاد نظم کے مرشد کہلائے۔ لیکن معاملہ یہیں ختم نہیں ہوتا۔ ایک اور صنف انگڑائیاں لینے لگی۔ جسے دانشوروں نے ” نثری نظم “ کا نام دیا۔ عرض خدمت ہے کہ اگر نثر میں نظم کہنا ہے تو نثر کہئے۔
ادب کے شیدائی سرعام اور ادب کے دشمناں پس پردہ اپنی اپنی کارروائیوں میں مبتلا رہے۔ آپ پوچھتے ہیں کہ ادب اور اردو زبان کا مستقبل کیا ہے؟ یہ ایک گنجلک سوال ہے۔ ماحول سازگار نظر نہیں آ رہا۔ اور اس کی وجوہات چلتی پھرتی نظر آ رہی ہیں۔ دیکھا آپ نے کہ ایک زمانہ خطوط نگاری کا تھا۔ خط لکھنا ایک آرٹ تھا۔ دل لگی تھی۔ اب E.MAIL ہے۔ رات سونے سے پہلے بتی جلا کر کتاب پڑھنا معمول تھا۔ اب کمپیوٹر کو ہی بستر پر لے جایا جاتا ہے۔ کتاب زینت طاق ہیں۔ کمپیوٹر ارزاں ہیں کتاب مہنگی، اشاعت مہنگی کاغذ مہنگا۔ دکاندار ادبی کتاب سے بے زار، کیونکہ اس کی نظر میں کوئی خریدار ہے ہی نہیں۔ لائبریریاں سکڑتی جا رہی ہیں۔
اردو کے فروغ کے بارے میں بات کریں تو شاید آنکھیں بند کر کے جواب دیا جائے تو کسی حد تک ممکن ہو۔ لیکن چشم بینا کے لئے یہ سوال دشوار ہے۔ تارکین وطن جو امریکہ یا یورپ میں مقیم ہیں اور ان کے گھروں میں اگر دوغلے کی حکمرانی ہے تو آسانی سے کہہ سکتے ہیں کہ بچے زبان سے لاعلم ہیں۔ لیکن دہائی تو اس بات کی ہے کہ ماں بھی پاکستانی اور باپ بھی پاکستانی اور بچے زبان سے سراسر نابلد۔
دوسری طرف اپنے ملک پر نظر ڈالئے۔ بچے گلی گلی غلط اردو بولتے دندناتے پھر رہے ہیں۔ اور اپنی زبان سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ بعض یونیورسٹیوں میں مقامی زبانوں پر زور دیا جا رہا ہے لیکن واجبی۔ علاقائی زبانیں ہمارا ورثہ ہیں۔ ہمارا کلچر ہے، وہ مر رہا ہے۔ جس زبان میں ہماری ماں نے ہمیں لوری دی تھی وہ بولی ، وہ زبان ہم سے چھوٹ رہی ہے۔
اردو ہماری قومی زبان ہے۔ لیکن ایک سوال ذہن میں ابھرتا ہے۔
” اردو کون ہے“ ؟
پنجابی کی سرزمین ہے، سندھی کی سرزمین ہے، بلوچی کی سرزمین ہے، ہندکو کی سرزمین ہے، پشتو کی سرزمین ہے لیکن اردو کس آب و گل کی پیداوار ہے اور کیا آج سے ایک صدی بعد اردو کہیں کہیں سنائی دے گی؟
دیکھو یہ میرے خواب دیکھو یہ میرے زخم ہیں
میں نے تو سب حساب جاں برسر عام رکھ دیا