ناقص طرز سیاست بدلنا ہو گا
- جمعرات 13 / اگست / 2015
- 4025
پاکستان کی سیاست میں کچھ بعید ہے نہ ہی قریب۔ ایم کیو ایم کے استعفوں کو ہی لے لیں۔ کوئی ان استعفوں کو ترپ کا پتہ قرار دے رہا ہے تو کوئی پھسپھسی چال، کوئی عقلمندانہ اور شاطرانہ فیصلہ مان رہا ہے تو کوئی آپریشن پر اثر انداز ہونے کی بھونڈی کوشش۔ لیکن ایم کیو ایم نے استعفے اس یقین کی بنیاد پر دئیے تھے کہ تحریک انصاف ماڈل پر ان کی استعفے بھی قبول نہیں کئے جائیں گے اور متحدہ کا یہ یقین درست قالب میں ڈھلتا نظر آ رہا ہے۔
ایم کیو ایم کے استعفوں سے جہاں اسلام آباد میں سیاسی بھونچال برپا ہے تو وہیں بہت سارے سوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔ خاص طور پر ایم کیو ایم اور تحریک انصاف کے استعفوں کے معاملے پر حکومت کے رویے پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔ تحریک انصاف کے استعفے چھ ماہ تک قبول نہ کر کے انہیں سیاست کے قومی دھارے میں رکھا گیا جبکہ ایم کیو ایم کے استعفوں پر اسپیکر قومی اسمبلی نے فوری ‘‘ پراسیس’’ لکھ کر انہیں منظر نامے سے شاید غائب کرنے کی کوشش کی۔ لیکن وزیراعظم کی مداخلت پر اب یہ معاملہ بھی کھٹائی میں پڑتا نظر آ رہا ہے۔
ایم کیو ایم پر عسکری ونگ رکھنے اور پرتشدد طرز سیاست کی جو چھاپ لگ چکی ہے اسے دھونا اب شاید ایم کیو ایم کے لئے ممکن نہیں رہا اور ایم کیو ایم بھی دھونس اور دھمکی کی سیاست کے بغیر اب زندہ نہیں رہ سکتی۔ گالی اور گولی کی سیاست متحدہ کی سرشت میں رچ بس چکی ہے اور اس سے چھٹکارا پانا اب ممکن نظر نہیں آ رہا۔
کوئی بھی سیاسی جماعت جب ایک طرز فکر کو اپناتی ہے تو اس جماعت کے کارکنان کی تربیت بھی اسی انداز میں کی جاتی ہے۔ ایم کیو ایم کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس کا خمیر ہی مزاحمت سے اٹھا ہے اور اسے عروج بھی پرتشدد طرز سیاست کے باعث حاصل ہؤا۔ اہل کراچی اچھی طرح جانتے ہیں کہ ایم کیو ایم کے کارکنان سیاسی پرداخت مزاحمتی تربیت سے ہوئی ہے۔ مزاحمت سے تشدد نے جنم لیا۔ یہ تشدد آج ایم کیو ایم کی فطرت کا حصہ بن چکا ہے۔
ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کو ایک زیرک سیاستدان کہا جاتا ہے لیکن مجھے اس سے اختلاف ہے۔ زیرک سیاستدان تو اس قائد کو کہنا چاہئے جو الجھی ڈور کو سلجھائے مگر ہر مسئلہ دھونس اور دھمکی سے حل کرنے اور احکامات جاری کرنے کے عادی ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین اس وصف سے عاری ہیں جو مسائل کو بروقت حل کرنے میں مددگار ہوتا ہے۔ خصوصاً ماضی قریب میں الطاف حسین بارہا اپنی جماعت کے مسائل کو سلجھانے کی بجائے انہیں مزید سنگین بنانے کا سبب بنے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ان کی حاکمانہ سوچ ہے۔ اسی سوچ کی وجہ سے آج تک ایم کیو ایم میں ان کے سامنے لیڈر پنپ نہیں سکا اور نہ ہی الطاف حسین نے ایسا ممکن ہونے دیا۔ اس حوالے سے ایم کیو ایم کے قائد پر متعدد الزامات بھی عائد کئے جاتے رہے جن میں سرفہرست پارٹی چیئرمین عظیم احمد طارق کا قتل شامل ہے۔
استعفوں کے معاملے پر بھی الطاف حسین کی سوچ کا حاکمانہ پہلو کارفرما نظر آتا ہے۔ کراچی میں جاری آپریشن اور ایم کیو ایم کے ساتھ ساتھ پیپلز پارٹی کا دباؤ کارگر نہ ہونے پر ہی الطاف حسین نے اپنے ممبران اسمبلی سے ‘‘ استعفے دلوانے’’ کا فیصلہ کیا اور استعفوں کے چند ہی گھنٹوں بعد کسی نے ایسا ‘‘ چھومنتر’’ پڑھا کہ وہ جرنیلوں کی تعریفوں کے پل باندھتے اور استعفے واپس لینے کا عندیہ دیتے نظر آئے۔ الطاف حسین کی یہی پل میں تولہ پل میں ماشہ فطرت پارٹی کی مشکلات بڑھاتی ہے۔
اس میں شبہ نہیں کہ ایم کیو ایم کو کراچی اور حیدر آباد میں مینڈیٹ حاصل ہے ( اتنا نہیں جتنا اسمبلیوں میں نظر آتا ہے) مگر اس مینڈیٹ کا یہ مطلب نہیں کہ عوامی مسائل حل کرنے کی بجائے ہمیشہ ایک ہی طرز سیاست برقرار رکھ جائے اور زبان کی بنیاد پر تشکیل کردہ جماعت کو قومی دھارے میں لانے سے گریز کیا جائے۔ ایم کیو ایم مہاجر قومی موومنٹ سے متحدہ قومی موومنٹ تو بن گئی مگر سوچ میں تبدیلی نہ لا سکی اور یہی ایم کیو ایم کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔
اگر ایم کیو ایم کو پاکستانی سیاست میں زندہ رہنا ہے تو اسے حقیقی معنوں میں متحدہ قومی موومنٹ بننا ہو گا۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کو اپنی سوچ میں مثبت تبدیلی لانا ہو گی۔ تبھی کراچی اور پاکستان کی حقیقی ترقی ہو سکے گی۔ موجودہ ناقص طرز سیاست اور سوچ کے ساتھ ایم کیو ایم اب مزید پاکستانی سیاست میں نہیں چل سکے گی کیونکہ دنیا تو بدل چکی اور اب پاکستان بھی بدل رہا ہے۔