مائنس الطاف فارمولہ ناکام

  • جمعرات 13 / اگست / 2015
  • 4435

وفاقی اور صوبائی منتخب ایوانوں سے ایم کیو ایم کے استعفوں سے اسٹیبلشمنٹ کی مبینہ “ مائنس الطاف حسین “  فارمولے کی کوششوں کو منہ کی کھانی پڑی۔ الطاف حسین کے سیاسی  “ چھکے “ نے حکومت اور اسٹبلشمنٹ کی ہوایئاں اڑا دیں۔ الطاف حسین نے طاقت کا بھر پور مظاہرہ کر کے اپنے خلاف ہونے والی مبینہ سازشوں پر پانی پھیر دیا ہے۔

ایم کیو ایم کے مستعفی اراکین نے کہا ہے کہ انہوں نے کراچی آپریشن میں ایم کیو ایم کے کارکنوں کے ماورائےعدالت قتل، اغوا اور ریاستی اداروں کے تشدد پر اہتجاج کرتے ہوئے قومی اسمبلی، سینٹ اور سندھ اسمبلی سے استعفے دئے ہیں۔ بقول انکے اب تک ایم کیو ایم کے 40 کارکنوں کا قتل کیا جا چکا ہے جبکہ 150 کارکنوں کو گرفتار کرکے کسی عدالت میں پیش کئے بغیر غیر قانونی حراست میں رکھا گیا ہے۔ ان کارکنوں کے متعلق کوئی معلومات فراہم نہیں کی جارہیں کہ وہ زندہ ہیں یا ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہزاروں کارکنوں کی گرفتاریاں اس کے علاوہ ہیں۔

ایم کیو ایم کے نمایاں رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ نواز حکومت نے اصولی طور پر تسلیم کرنے کے باوجود سیکورٹی اداروں کی غیر قانونی کاروایئوں پر نظر رکھنے کے لئے مانیٹرنگ کمیٹی قائم کرنے کا وعدہ پورا نہیں کیا۔ وہ بار بار درخواست کرنے کے باوجود وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایم کیو ایم کی پوزیشن واضع کرنے کے لئے آرمی چیف اور کور کمانڈر کراچی سے ملاقات کا وقت حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ بقول انکے کراچی کلین آپ آپریشن صرف ایم کیو ایم کے خلاف کیا جا رہا ہے اور انکے کارکنوں کے ساتھ جنگی قیدیوں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔ فاروق ستار نے ماورائےعدالت ہلاکتوں پر تحقیق کرنے کے لئے جوڈیشل کمشن بنامے کا مطالبہ بھی دہرایا۔  

حکومتی وزرا اور اپوزیشن سیاسی جماعتیں وسیع تر قومی اور جمہوری اداروں کے مفاد میں الطاف حسین سے استعفے واپس لینے کی درخواستیں کر رہی ہیں۔ پاکستان کی کمزور اور غیر مستحکم جمہوریت ایک کے بعد دوسرے سیاسی بحران کی زد میں ہے۔

1987 سے آج تک ایم کیو ایم سندھ کے شہری علاقوں سے قومی اسمبلی، سینٹ اور سندھ اسمبلی میں نمائیندگی کرتی آ رہی ہے۔ کراچی اور سندھ کے شہری علاقوں میں اپنی طاقت کو بڑھانے اور مستحکم کرنے کے لئے ایم کیو ایم کو فوجی آمروں جنرل ضیا اور جنرل مشرف کی بھر پور حمایت حا صل رہی۔ ایم کیو ایم مشرف حکومت کے علاوہ وفاق میں پی پی پی اور نواز لیگی حکومتوں اور سندھ حکومت کا بھی حصہ رہی ہے۔ کراچی کی مقامی حکومت پر بھی ایم کیو ایم برسراقتدار رہی اور آزاد کشمیر حکومت میں بھی شامل رہی ہے۔

مگر ایم کیو ایم کراچی میں بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ اور مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات سے پیچھا نیہں چھڑا سکی۔ جبکہ بھارت سے تعلقات اور مالی امداد وصول کرنے کے الزامات بھی اس میں شامل ہو چکے ہیں۔ الطاف حسین کی پاکستان کے دفاعی اداروں کے خلاف حالیہ ہرزہ سرائی نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ 

1992 سے آج تک ایم کیو ایم کے خلاف متعدد ریاستی آپریشن کئے گئے۔ 1992 سے الطاف حسین کے بیرون ملک قیام کے باوجود ریاستی اداروں کی ایم کیو ایم کے خلاف قانونی یا غیر قانونی کاروائیاں الطاف حسین کی ایم کیو ایم پر گرفت اور کراچی کے عوام میں انکی حمایت ختم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ 1987 سے 2013 تک متعدد انتخابات میں کوئی سیاسی جماعت ایم کیو ایم کو سیاسی اور انتخابی میدان میں شکست سے دوچار نیہں کر سکی۔ پنجاب کے چند ریٹائرڈ جرنیلوں، بیوروکریٹوں، دانشوروں، میڈیا اینکروں اور سیاستدانوں نے اپنی تاریخی روایت برقرار رکھتے ہوئے غداری کے الزامات کا شور بلند کرتے ہوئے الطاف حسین کو پاکستان واپس لا کر تختہ دار پر لٹکانے کا شور مچانا شروع کر دیا ہے۔

کیا کراچی کے مسائل صرف جرائم پر قابو پانے یا امن و امان بحال کرنے تک محدود ہیں یا کہ یہ سنجیدہ سیاسی، معاشی اور سماجی مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں اور یہ کہ کیا ان میں غیرملکی قوتوں کےاثرات کا عمل دخل بھی شامل ہو چکا ہے۔

ریاستی سیکورٹی اداروں کا جرائم کے خاتمےاور امن وامان بحال کرنے تک محدود کلین اپ آپریشن کراچی میں وقتی مقاصد حاصل کر سکتا ہے۔ اگر ماضی میں کئے گئے ریاستی آپریشنوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ واضع ہو جاتا ہے کہ صرف ریاستی اداروں کے کلین اپ آپریشن کراچی کے گمبھیر مسائل کا مستقل حل نہیں کر سکے۔ 
وزیر اعظم نواز شریف نے بیرون ملک دورے سے واپسی پر پارلیمانی پارٹی لیڈروں کے ہنگامی اجلاس میں الطاف حسین سے ایم کیو ایم کے اراکین کے استعفے واپس لینے کی درخواست کر دی۔ اجلاس میں مولانا فضل الرحمان کو ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ اس سلسلہ میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین سے رابطہ کر کے انہیں اپنی جماعت کے اراکین سے استعفے واپس لینے کا کہیں۔ دوسری جانب کراچی میں سیکورٹی ایجنسی حکام نے اپریشن جاری رکھنے کا عہد دہرایا ہے۔

اس کے بعد ایم کیو ایم کے استعفوں سے پیدا ہونے والے بحران کے حل ہونے کے امکانات نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔ ایم کیو ایم کے مستعفی ہونے کے حربے کے بعد وزیراعظم نواز شریف کلین اپ اپریشن پر مانیٹرنگ کمیٹی کے قیام کا اعلان کر سکتے ہیں اور یہ بھی امکان ہے کہ ماورائے عدالت ہلاکتوں پر جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ بھی تسلیم کر لیا جائے۔ مگر اسکو کراچی کے انتہائی سنجیدہ سیاسی، معاشی اور سماجی مسائل کے مستقل حل سے تعبیرنہیں کیا جا سکتا۔ 

کراچی کے معاملات صرف سیکورٹی اداروں پر چھوڑ نے سے انہیں وقتی طور پر خوف کے زیراثر دبایا تو جا سکتا ہے مگر بعد ازاں رفتہ رفتہ مسائل زیادہ بگاڑ کے ساتھ سطح پرامڈ آئیں گے۔ ریاستی طاقت کے بل بوتے پر ایم کیو ایم اور الطاف حسین کی کراچی میں قوت ختم کرنا خام خیالی ہو گا۔ لیکن الطاف حسین اور ایم کیو ایم کا زیرزمین مسلح گروہ کی غیر قانونی اور مجرمانہ سرگرمیوں کو جاری رکھ کر جمہوری عمل میں طویل عرصہ اپنے وجود کو برقرار رکھنا بھی مشکل ہو جائے گا۔ کیونکہ اب کراچی میں ایم کیو ایم کی حامی آبادی کے علاوہ اس کے مخالف دیگرثقافتی گروہوں کی آبادی اور قوت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ کراچی میں ایم کیو ایم کے لئے تحریک انصاف ایک بڑے چیلنج کی صورت ابھر رہی ہے۔          

حکومت، پارلیمنٹ اور اسٹبلشمنٹ کو الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے ساتھ معاملات طے کرنے کے لئے مستقل سیاسی حل تلاش کرنے کی سنجیدہ کوششوں کا آغاز کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ جبکہ الطاف حسین اور ایم کی ایم کو حکومت، جمہوری قوتوں اور اسٹیبلشمنٹ کے خدشات کو دور کرنے کی کوششیں کرنی ہونگی۔ ایم کیو ایم کو ملک کے جمہوری سیاسی دھارے میں شامل رکھنا پاکستان، جمہوریت اور کراچی کے عوام کے مفادات کے لئے ضروری ہے۔