حقیقی آذادی کیسے ممکن ہے

  • ہفتہ 15 / اگست / 2015
  • 5476

ناروے میں ہرسال جشن آزادی پاکستان کی تقریبات بھرپور جوش وخروش سے انعقاد کی جاتی ہیں ۔ پاکستان سے سیاسی شخصیات وزیر ومشیر مدعو کئے جاتے ہیں جو خطابات کے جوہر دکھاتے ہیں ۔ سیرو تفریح کے مزے لوٹتے ہوئے ، دعوت پر دعوت نوش کرتے ہوئے واپس پلٹ جاتے ہیں ۔

مانا کہ ہم مادروطن سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔ جہاں سے ہماری شناخت اور ہمارے آباواجداد کا تعلق ہے۔ اسی لئے ہم وطن کی آزادی کے موقع پر جشن کا سماں پیداکرتے ہیں۔ لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا کہ آزادی کا دن تجدید عہد کا دن ہے۔ پاکستان حاصل کیوں کیا گیا ؟ ہم اپنی شناخت چاہتے تھے ۔ ہم باوقار رہنا چاہتے تھے ۔ کیا جن شخصیات کو ہم مدعو کرتے ہیں انہوں نے پاکستان کا نام روشن کیا یا بدنامی کا ذریعہ بنے ۔ انہوں نے ہمارے وقار میں اضافہ کیا یا ہمیں بے وقار کیاْ ۔ کیا ہم ان کے ضمیروں پر دستک دے کر ان کو بیدار کرتے ہوئے وطن سے حقیقی محبت کا اظہارکرتے ہیں۔ انکے سامنے اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل بیان کرتے ہوئے انکے ازالہ کیلئے ان کو تگ ودو کیلئے آمادہ کرتے ہیں یا پھر خوشامد اور چاپلوسی کرتے ہوئے قومی مفادات چند لمحوں کے ذاتی مفادات پر قربان کر دیتے ہیں:
مشکل سے یہ باتیں کہی جاتی ہیں
پھانسیں ہیں کہ قلب میں رہی جاتی ہیں
تفصیل نہ پوچھ ہیں اشارے کافی
یونہی یہ باتیں کہی جاتی ہیں

وقت تقاضا کرتا ہے کہ ہمیں تدبر کرنا ہوگا۔ اپنا محاسبہ کرنا ہوگا ۔ اگر ہم مادروطن کے ساتھ مخلص ہیں اور یقینی طور پر ہیں تو پھر ہمیں منافقانہ روش ترک کرنی ہوگی:
خدانے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہوجسے خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

خدا نے ہمیں بہت کچھ دیا ۔ اسکی نعمتوں کا جتنا شکر بجا لائیں کم ہے۔ ھم ناروے میں پرامن اور پرسکون زندگی گزار رہے ہیں۔ مال ودولت کی فروانی ہے ۔ ہماری اولادیں تعیلم کی منزلیں طے کرکے اعلی عہدوں پر فائز ہو کر یورپئین سوسائٹی میں اپنا مقام پیداکر رہی ہیں ۔

ہر معاشرے میں تین طرح کے افراد ہوتے ہیں۔ ایک پوت ، دوسرے دپوت اور تیسرے سپوت۔ پوت افراد اپنا نام بھی بدنام کرتے ہیں اپنے والدین کانام بھی ، سوسائٹی کا بھی اور وطن کا بھی۔ یہ لوگ رسوائی کا ذریعہ بنتے ہیں ۔ خدا ہماری نسلوں کو پوتوں سے بچائے۔ آمین ۔دوسرے افرد دپوت رسوائی کا ذریعہ تو نہیں بنتے لیکن نام روشن کرنے میں میں بھی تگ ودو نہی کرتے ۔ یہ افراد اپنی زندگی میں مگن رہتے ہیں ۔ حرص ولالچ میں  مزید سے مزید تر کی جستجو میں رہتے ہیں۔ صبح وشام مادہ پرستی میں مبتلا، مال ودولت کے انبارحاصل کرنے کی جدوجہد میں لگے  محو رہتے ہیں ۔ اوور ٹائم کو ہاتھ سے جانے نہی دیتے اور یونہی اپنی ساری عمر گزار دیتے ہیں ۔

تیسرے افراد جنہیں سپوت کہا جاتا ہے وہ اپنا نام ، اپنے والدین کا نام، اپنی کمیونٹی کا نام اور اپنے وطن کا نام روشن کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں انہیں قائداعظم ، علامہ اقبال ،طارق بن زیاد اور صلاح الدین ایوبی کے نام سے پکار کرفخر کیا جاتا ہے ۔ مائیں اپنے بچوں کو انکی مثالیں دیتی ہیں۔ قومیں انکے مرنے کے بعد انکے ایام منا کا انہیں خراج عقیدت پیش کرتی ہیں۔

ہم اوورسیز پاکستانی اپنے مادر وطن کو ترقی کرتا ہؤا دیکھنا چاہتے ہیں ۔ ایسا وطن جس کی مثال دے کر ہم فخر کر سکیں ۔ جہاں اچھی قیادت ہو جو صرف اپنے خاندان کے افراد پر نہیں بلکہ اہل اور قابل لوگوں  پر مشتمل ہو۔ جہاں قانونی کی حکمرانی ہو۔ امیر اور غریب کے لئے ایک قانون ہو۔ ایسا وطن جو رشوت ، سفارش ، کرپشن جیسی لعنت سے پاک ہو۔ جہاں پانی بھی ہو، بجلی بھی ہو اور سکون بھی ہو ۔ یہ تبھی ممکن ہے جب ہم اچھے افراد کا ساتھ دیں گے۔ اچھے افرد کی حوصلہ افزائی کریں گے اور اچھے افراد کو جشن آزادئ پاکستان کی تقریبات میں دعوت دیں گے ۔ ھم سپوت دیکھنا چاہتے ہیں تو پھر سپوتوں کا ساتھ دینا ہو گا۔ تب ہی اہل پاکستان حقیقی آذادی کے ثمرات پا سکیں گے۔ خدا ہمارا حامی وناصر ہو۔