جشن آذادی اور ہمارا کردار

  • ہفتہ 15 / اگست / 2015
  • 5311

پاکستان میں یوم آزادی  حسب سابق روائتی جوش و خروش سے منایا گیا۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کے پاکستانیوں نے اپنے اپنے ہاں اس دن کی مناسبت سے جوش و ولولے سے  تقریبات کا اہتمام کیا۔ 

دہشت گردی کی خوف کے بادل چھٹنے کے بعد اس سال قومی پرچموں اور رنگا رنگ تقاریب نے پاکستان کے اندرونی ماحول کو گزشتہ برسوں کی تقریبات سے بہت مختلف اور پرجوش بنا دیا تھا.اس یوم آزادی کی غیر معمولی بات کوئٹہ میں 400 علیحدگی پسند بلوچوں کا ہھتیار ڈالنا ہے۔ اس کے علاوہ  شہر میں قومی پرچموں کی پہلی بار بہت زیادہ رونق دیکھنے میں ائی۔

وفاقی اور صوبائی دارالحکومتوں میں توپوں کی سلامی سے تقریبات کا آغاز پؤا  اور پھر پاکستان سمیت دنیا بھر میں رنگارنگ پروگرام و تقریبات کا سلسلہ رات گئے تک جاری رہا۔ آتش بازی کے زبردست مظاہرے  بھی  کئے گئے۔ واہگہ بارڈ لاہور  کی تقریب حسب معمول یادگار رہی اور مینار پاکستان پر اہلیان لاہور فیملیز کے ساتھ دن بھر خوب لطف اندوز ہوئے۔

صدر مملکت نے کنونشن سنٹر میں پرچم کشائی کی ۔ اس موقع پر وزیراعظم  بھی موجود تھے۔ آرمی چیف نے ریٹائرڈ افسروں اور جوانوں کے اعزاز میں عشائیہ دیا۔ کراچی میں مزارقائد پر گارڈز کی تبدیلی کی روایتی تقریب  کے بعد دن بھر شہریوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہا جو اپنے عظیم قائد،  جن کے فرمودات کو لیڈروں نے پس پشت ڈال رکھا  ہے،  کے مزار پر فاتحہ پڑھتے رہے۔

.یوم آزادی کاجشن  اور قومی زمہ داریاں دونوں میں توازن بہت ضروری ہے۔ اگر اپنے ہی مسلم بچوں کی بے آبروریزی اپنے وطن میں ہوتی رہے گی، عورتوں کی عزت بھی محفوظ نہیں ہوگی، انصاف کاترازو ایک ہی سمت جھکے گا ، انصاف غریب کا خواب بن کر رہ جائے گا، عقیدہ کی بنیاد ریاستی تعصب ہر حکومت کی پہلی ترجیح بنی رہے گی،  تو پھر ایسے جشن محض جذباتی رسم بنکر رہ جاتے ہیں۔ 

پاکستان میں تبدیلی اور آزادی کے ثمرات اسی وقت قوم کو مل سکیں گے جب مذہب کو سیاست  سے الگ کیا جائے گا اور تمام ریاستی اداروں میں سیاسی مداخلت قانوناً جرم قرار دی جائےگی۔ ادارے زوال پزیر ہو کر ناکام ریاست کی منظر کشی کرتے نظر آتے ہیں، جس کی بنیادی وجہ سیاست دان کی  اقربا پروری ہے۔

بانئ پاکستان نے دستور ساز اسمبلی کے سامنےاپنی پہلی تقریر میں جن سماجی برائیوں کا ذکر کیا تھا ان میں ذخیرہ اندوزی، رشوت اور اقربا پروری شامل تھیں۔ انہوں نے ان برائیوں کو کسی بھی ریاست  کی ناکامی کی بنیادی  وجوہات بتایا تھا۔ آج  کوئی باشعور پاکستانی ااس بات سے انکار نہیں کر سکتا  کہ یہ سب برائیاں پاکستان کے اندر پھل پھول چکی ہیں۔ انصاف میانی صاحب  قبرستان میں دفن ہو چکا ہے۔

انقلاب ، ترقی ، خوشحالی، امن ، بجلی،  پانی کبھی بھی جھنڈوں کی بہتات اور قومی اعزازات کی تقسیم سے نہیں آتے۔ جاپان، چین جرمنی اور دیگر ملکوں کی تاریخ روشن مثالیں ہیں۔ سیاسی لیڈر عوام کو بے وقوف سمجھنے کی بجائے اگر حقیقی خدمت کو اپنا نصب العین بنائیں تب ہی یہ ملک ترقی کرسکتا ہے۔