سازشوں کی لپیٹ میں

  • ہفتہ 15 / اگست / 2015
  • 5026

جہاں ادارے مضبوط نہ ہوں، قانون کی حکمرانی نہ ہو اور قانون کو استمعال کرتے ہوئے مجرم کی معاشی اور سماجی حثیت کو مد ِ نظر رکھا جائے، جہاں اداروں کے تقدس کی درجہ بندی کر دی جائے، جہاں اخبارات کے صفحوں سے الفاظ اُکھاڑ لئے جائیں اور اخبار کو چھپنے سے پہلے سنسر کے مرحلوں  سے گزرنا پڑے، وہاں سازشیں جنم لیتی ہی رہتی  ہیں۔

سازشوں سے پہلے شہر شہر گلی گلی افواہیں بھنگڑے ڈالتی پھر رہی ہوتی ہیں اور بقول مشتاق یوسفی کے انہی میں سے بعض افواہیں سچ ثابت ہو جاتی ہیں۔ اس ملک کی پیدائش کو بھی ایک سازش کہا جاتا ہے۔ اس ملک کے ایک حصہ کا الگ ہونا بھی ایک سازش سمجھا جاتا ہے۔ کچھ لوگ کھلم کھلا کہتے ہیں کہ اس ملک کو ختم کرنے کی سازش تیار کی جا رہی ہے۔ حتیٰ کہ کچھ کہتے ہیں کہ سازش بالکل تیار ہے اور ملک کے اندر بیٹھے کچھ عناصر اس سازش میں شامل ہیں۔

اس ملک میں آج تک جتنی سول حکومتوں کا تختہ اُلٹا گیا،  کہتے ہیں وہ ایک سازش کے تحت اُلٹا گیا تھا۔ بلکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ  فوجی حکومتوں کو ختم کر کے مختصر عرصے کے لئے جو سول حکومتیں آئیں، وہ بھی ایک سازش کے تحت ہی آتی رہی ہیں۔

اس ملک کے عوام  نے جو فوجی حکومتوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کوڑے کھائے، جیلوں میں زندگیاں گزاریں، ان پر جو تشدد کیا گیا،  گردنیں لمبی کی گئیں ۔۔۔  اس پر بھی ایک جملہ کس دیا جاتا ہے:  “ چھڈو جی آپس دی گل اے۔ ایہہ سارا کجھ کسے دے کہن تے ہویا اے “

اخبارات پر سنسر، اخبارات کی بندش، کسی کو چُپ کرانے کی سازش تھی۔ اس کے خلاف جدوجہد کی تحریکیں بھی ایک سازش اور اب تو یہ کہا جا رہا ہے کہ اخبارات کو آزادی بھی ایک سازش کے تحت دی گئی ہے۔

نئی نویلی سازش
جب سے عمراں خان نے انتخابی دھاندلی کے خلاف لاہور سے جلوس نکال کے اسلام آباد میں دھرنا دیا ملک کے شہر شہر دفتروں، مسجدوں، تعلیمی اداروں اور چائے خانوں میں کچھ لوگ ایک ہی ریکارڈ بجا رہے ہیں کہ یہ سب ایک سازش کے تحت ہؤا تھا۔ عمران اور طاہر القادری کو کہیں سے اشارہ ملا تھا۔ لاہور میں 14 افراد  کا قتل بھی ایک سازش کے تحت ہؤا۔  ان کو پولیس نے نہیں کسی اور نے مارا تھا۔ بلکہ جب پہلے قادری نے اور پھر عمراں خان نے دھرنا ختم کیا تو کہا گیا کہ یہ ایک سازش تھی جو کامیاب نہ ہو سکی اور اب کسی کے اشارے پر دھرنے ختم کر دئیے گئے ہیں۔

جوڈیشنل کمیشن کے فیصلہ کو بھی ایک سازش قرار دیا گیا اور کہا ہم اس سازش کو ناکام بنانے کے لئے پھر سڑکوں پر آئیں گے۔ سب سے پہلے چھپے چھپے انداز میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک ٹاک شو میں اس دھرنے کی سازش کو بے نقاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ فوج کے اندر ایک گروپ تھا جس کی قیادت اس وقت کے آئی ایس آئی کے سربراہ کر رہے تھے۔ وہی عمران اور طاہرالقادری کو پلان بنا کر دے رہے تھے اور یہ سازش راحیل شریف کے بھی خلاف تھی۔

مگر اب ایک اور وفاقی وزیر مشاہد اللہ نے بڑی تفصیل سے اس سازش کو بے نقاب کیا ہے۔ مشاہد اللہ نے تو تفصیل سے بتا دیا ہے کہ پارلمینٹ پر جس دن حملہ ہؤا اور ٹی وی پر قبضہ ہؤا،  اس دن اور کیا کیا ہونا تھا۔ کس طرح اسلحے سے بھر ی ہوئی دو گاڑیاں پارلمینٹ کی طرف بھیجی گئیں تاکہ وہاں قتل و غارت شروع ہو سکے۔ اور فوج کا وہ گروپ جو عمران خان کے دھرنے کے پیچھے تھا اس کو نوازشریف اور راحیل شریف کے خلاف کاروائی کرنے کا موقع مل جائے۔  مگر راحیل شریف گروپ نے اس سازش کو ناکام بنا دیا اور پھر نواز شریف نے راحیل شریف کو وہ کیسٹ سنا دی جس میں آئی ایس آئی کا سربراہ عمران خان کو ہدائتیں دے رہا ہے کہ کیسے پارلمینٹ کی طرف بڑھنا ہے۔

کیا یہ انکشافات بھی کسی سازش کے تحت تو منظر عام لائے جا رہے ہیں؟
سوال یہ ہےالطاف حسین یا آصف زرداری یا کوئی بھی دوسرا اگر ذرا سا بھی فوج کے کردار کے خلاف بولے تو پاکستان کے سارے تھانوں میں ان کے خلاف غداری کے مقدمے درج ہو جاتے ہیں۔ ان کے خلاف ریلیاں نکلنا شروع ہو جاتی ہیں۔ مگر اب فوج کےایک گروپ پر اتنا بڑا الزام لگ رہا ہے۔ اب کوئی کیوں نہیں بول رہا۔ فوج کے جاسوسی ادارے ہر فوجی پر گہری نظر رکھتے ہیں اور کئی دفعہ ہوچکا ہے کہ فوجیوں کو سازش کرتے ہوئے  پکڑا بھی گیا اور ان کو سزائیں بھی دی گئیں۔ مگر اب اتنا بڑا انکشاف ہونے پر فوج کے اس گروپ کے خلاف کاروائی کیوں نہیں ہو رہی۔

سوال یہ ہے کے اپنے نام کی مشہوری کرانے کے لئے اور لوگوں پر یہ ثابت کرنے کے لئے کہ کراچی میں شروع کیا گیا آپریشن کسی خاص گروہ کے خلاف نہیں ہے،  اپنے چند سابق فوجیوں کو ان کے عہدوں پر بحال کر کے ان کو سزائیں دی جا سکتی ہیں ۔۔۔ تو کیا فوج اور سول حکومت کے خلاف اتنی بڑی سازش کرنے والے اس فوجی گروپ کے خلاف فوجی مقدمہ دائر کر کے انکوئری نہیں کی جا سکتی۔ اگر الزام درست نہیں  تو الزام لگانے والوں کے خلاف مقدمہ نہیں درج ہونا چاہئیے۔ سپریم کورٹ کو از خود اس کا نوٹس نہیں لینا چاہیے؟

تھوک کے حساب سے سول حکوتوں کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کرنے والوں میں سے کوئی ایک سپریم کورٹ نہیں جا سکتا کہ جناب یہ الزام لگا کر فوج کو بدنام کیا جا رہا ہے۔ کورٹ اس کی انکوئری کرائے۔

یا پھر ۔۔۔ یا پھر حسب معمول مشاہد اللہ اور خواجہ آصف کے انکشافات کو یہ کہہ کر اس پر مٹی ڈال دی جائے گی کہ ملک اس وقت نازک حالات سے گزر رہا ہے۔ ایسے وقت میں فوج کے خلاف ایسے بیانات فوج کو بدنام کرنے کی ایک غیر ملکی سازش ہے۔