شہر آشوب

  • سوموار 17 / اگست / 2015
  • 4093

آج پورا معاشرہ غم و غصہ میں ڈوبا ہؤا ہے۔ کیونکہ ان کے سامنے قصور کے وحشتناک واقعہ کی پرتیں کھلتی جا رہی ہیں۔ دنیا انگشت بدنداں ہے کہ یہ گھناﺅنا جرم جو دنیا کے سامنے آ رہا ہے یہ نیا عمل نہیں بلکہ اس کی جڑیں روایت اور کلچر میں دور دور تک سرایت کرتی نظر آتی ہیں۔

قصہ کوتاہ یہ جرم ہے۔ قانون اور عدلیہ کی رو سے جرم ہے۔ اور ہم جانتے ہیں انتظامیہ ، پولیس اور خفیہ ادارے اس سے بخوبی واقف ہیں اور کچھ نہیں کر رہے۔ یہ کہنا کسی حد تک درست ہو گا کہ اس سیاہ دھندے کو حکومت کی پشت پناہی حاصل ہے۔ کیا یہ اس بات سے عیاں نہیں ہوتا کہ وزیر قانون پنجاب بوکھلا کر کہہ بیٹھے کہ یہ سیاہ کاری نہیں آئین کا مسئلہ ہے۔ کیا ہم قانون کے محافظ سے پوچھ سکتے ہیں کہ وہ ویڈیو جو گلی گلی بک رہی ہیں اور جو برسر عام دکھائی جا رہی ہیں، وہ کہاں سے برآمد ہو رہی ہیں۔

ہماری اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے کھلے عام کہہ دیا کہ یہ اسمبلی میں قابل بحث معاملہ نہیں یہ تو محض صوبائی مسئلہ ہے۔ ہم پھر یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ کون کس کی پشت پناہی کر رہا ہے؟ اور ہماری اسمبلی میں بیٹھے منتخب ممبران بٹ بٹ دیکھتے رہے۔ لگتا یوں ہے کہ ہماری اشرافیہ اس کار سیاہ میں ملوث ہے۔ ہم سوچ بھی نہیں سکتے کہ عوام کے منتخب ، قابل احترام ممبران ایسے گھناﺅنے سانحہ پر خاموش کیوں ہیں؟ وہ کس کی جانبداری کر رہے ہیں، وہ کس کی پردہ داری کر رہے ہیں، وہ کس کی طرف داری کر رہے ہیں؟ ہم یہ کیوں کہہ رہے ہیں کہ ہماری اشرافیہ اس میں ملوث ہے۔ کیونکہ اس سانحہ کے فوراً بعد ایک صدا یہ بھی آئی کہ قصور تو دور کی بات ہے۔ بابا بلھے شاہ کی نگری دور ہے۔ اس بلھے شاہ کی نگری جس نے عمر بھر محبت کی شمعیں جلائیں، یہ کالا کاروبار ہمارے دارالحکومت کی ناک کے نیچے ” پیر ودھائی “ میں بھی جاری و ساری ہے۔ امرتا پریتم کی صدا مستعار لوں تو کہوں:

اج آکھاں بلھے شاہ توں کتھوں قبراں وچوں بول
تے اج کتاب عشق دا کوئی اگلا ورقا پھول

سوال یہ ہے کہ دنیا کے کس ملک میں ایسے جراثیم سرعام مدتوں سے پنپ رہے ہیں اور حاکم وقت کو معلوم ہی نہ ہو؟ کیا یہ تو نہیں کہ حاکم وقت جان بوجھ کر خاموش تماشائی بنا بیٹھا ہو۔ اس جرم اور ایسے جرائم سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حاکم وقت، رہنماﺅں کی اسمبلی، عوام دشمن ذہنیت رکھتی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے حکم صادر کیا ہے کہ اس اندوہناک سانحہ کی تفتیش کے لئے کمیشن بنایا جائے اور خود بدستور لاہور میں اپنے حجلہ زریں میں فروکش ہیں۔ ان کو سرکاری ہیلی کاپٹر پر بلھے شاہ کی نگری تک جانے کی توفیق نہیں ہوئی۔ یہ تو تھے چھوٹے میاں اور اب بڑے میاں تو سبحان اللہ حسب معمول کروفر اور طمطراق کے ساتھ بیلاروس سدھارے اور وہاں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔

حیراں ہو دل کو روﺅں کہ پیٹوں جگر کو میں
مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں

کسی حکومتی صاحب حیثیت شخصیت کا کہنا ہے کہ اس جرم میں ملوث جرائم پیشہ لوگوں کو نشان عبرت بنایا جائے۔ ہم تہہ دل سے ان کی ہم نوائی کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی یقین کرتے ہیں کہ شاید انہیں ” نشان عبرت “ بنانے کا پورا شعور نہ ہو۔ ہم ان کی خدمت میں عرض کرنا چاہتے ہیں کہ وہ ” نشان عبرت “ بنانے کا سبق ہٹلر سے لیں اور عمل کریں۔ ہم ذمہ دار شخصیات سے بار بار سن رہے ہیں کہ جرائم پیشہ افراد کو گرفتار کیا جائے، انہیں جیلوں میں ڈالا جائے، کمیشن بنائے جائیں، عدلیہ فیصلے سنائے۔ لیکن کسی ذمہ دار شخصیت کو یہ کہنے کی توفیق نہ ہوئی کہ بچوں کے والدین کے گھاﺅ کے اندر بھی جھانک کر دیکھا جائے۔ ان بے بس اور نادر ماﺅں کے زخم زخم دل و جگر پر مرہم کا پھاہا رکھا جائے۔ ان کی ڈوبتی ہوئی ناﺅ کو تلاطم سے نکالا جائے۔

انداز بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات