غوث بخش بزنجو کی یاد میں
- منگل 18 / اگست / 2015
- 8756
ہر سال 11اگست کے آتے ہی دھیان غوث بخش بزنجو کی طرف جاتا ہے۔ میر غوث بخش بزنجو..... اس نام کے ساتھ ہی ذہن میں ایک طویل جدوجہد ابھرتی ہے۔ پہاڑوں، ساحلی چٹانوں اور سبزہ زاروں کی سیاست کے رزمیہ نغموں کا سلسلہ بھی در آتا ہے۔ 11 اگست 1989 کو جب مجھے ان کے انتقال کی خبر ملی تو میرے ذہن میں دھماکہ نہیں ہؤا بلکہ دھماکے کے بعد جو سناٹا سا پیدا ہو جاتا ہے اس نے میری سوچ کو گھیر لیا۔ کتنا کرب تھا اس سناٹے میں، جس نے ہر آواز کا گلہ گھونٹ دیا تھا، ہر سسکی اپنا مفہوم کھو چکی تھی اور ہر چیخ غیر ضروری ہو گئی تھی۔ بزنجو صاحب کو کیا معلوم کہ اب وہ ہم میں نہیں ہیں ان کیلئے تو دکھ یا پریشانی کی کوئی بات نہیں مگر ہمارے لئے.....
ماکسم گورکی نے لینن کے متعلق لکھا تھا ” وہ سادہ مزاج ہے، سچ کی طرح سادہ “ گورکی نے یہ بات اس طرح کہی تھی جیسے اس نے کافی عرصہ غور کیا ہو اور یہ رائے قائم کی ہو۔ غوث بخش بزنجو کیلئے بھی یہ بات یقین کے ساتھ کہی جاتی ہے کہ یہ ان میں سب سے نمایاں وصف تھا۔
میر صاحب کی زندگی کا سرسری جائزہ لیا جائے تو یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ یہ عظیم انسان اور بااصول سیاستدان عہد حاضر کے نوادرات میں سے ہے۔ وہ ہمیشہ اپنے اردگرد کی زندگی سے قریبی تعلق رکھتے تھے ان میں توجہ مرکوز کرنے کی بے پناہ صلاحیت پائی جاتی تھی۔ وہ انتہائی خوش مزاج اور مستقل مزاج آدمی تھے جنہیں اپنے اوپر بے حد قابو تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بہت رجائیت پسند تھے۔
میر غوث بخش بزنجو سے میری واقفیت کا آغاز نیشنل عوامی پارٹی سے ہؤا۔ یہ واقفیت ذاتی نہ تھی بلکہ پارٹی کے حوالے سے تھی۔ انہی دنوں وہ لاہور آئے تو پروفیسر امین مغل اور ملک شمیم اشرف نے ان سے میرا تعارف کرایا۔ اس شناسائی نے مجھ پر ایک انمٹ نقش چھوڑا جو پارٹی میں میرے تمام تر کام کے دوران محو نہ ہو سکا۔ ولی خان، عطااللہ مینگل، خیر بخش، اجمل خٹک.....لیکن جب میں میر غوث بخش بزنجو کی سادگی، سچائی، عوام دوستی، جمہوریت پسندی اور انقلابی خیالات اور سرگرمیوں سے واقف ہؤا تو میں نے محسوس کیا کہ بزنجو ایک غیر معمولی شخصیت کے حامل انسان ہیں۔
میری نگاہ میں وہ نیشنل عوامی پارٹی (NAP) کے محض رہنما ہی نہ تھے بلکہ اس کے حقیقی بانی بھی تھے۔ اس لئے کے وہی ہماری پارٹی کے عوامی نظریات، پارٹی کی عوامی ماہیت اور اس کے فوری تقاضوں سے واقف تھے۔ جب کبھی میں نے ان کا مقابلہ اپنی پارٹی کے دوسرے رہنماﺅں سے کیا تو ہر بار دوسروں کے مقابلے میں بزنجو صاحب کو نہ صرف ایک رہنما بلکہ ایک اعلیٰ درجہ کا رہنما پایا۔ گویا وہ ایک شاہین تھے جنہیں پلٹنا، جھپٹنا، جھپٹ کر پلٹنے میں کوئی خوف محسوس نہ ہوتا ہو، جو پاکستان میں انقلاب کے اَن دیکھے راستے پر پارٹی کی جرات مندانہ انداز میں رہنمائی کیا کرتے تھے۔ بزنجو صاحب سے میری پہلی ملاقات لاہور میں پارٹی کے دفتر میں ہوئی تھی۔ میں اپنی پارٹی کے اس رہنما سے ملنے کا مشتاق تھا۔ اس عظیم انسان سے جو نہ صرف سیاسی اعتبار سے عظیم تھا بلکہ خود کو ذہنی طور پر بھی ان کے بہت قریب پاتا تھا۔
ان دنوں بھی اسلام پسند یا رجعت پسند یا دائیں بازو یا کچھ بھی کہہ لیجئے صحافی، نیشنل عوامی پارٹی کی تمام تر لیڈر شپ میں زیادہ تر بزنجو صاحب کی انقلابی سوچ کے خلاف زہر اگلتے تھے، جن میں نوائے وقت، مشرق اور اردو ڈائجسٹ وغیرہ پیش پیش تھے۔ ان نام نہاد صحافیوں نے حکومت وقت کے ساتھ مل کر بزنجو اور اس کی عوامی سیاست کے ساتھ وہ سلوک کیا جیسا کہ روایتی طور پر ایک جن نے اپنے مہمانوں کے ساتھ روا رکھا تھا۔ وہ بظاہر بڑے خلوص و احترام سے اجنبی مسافروں کو اپنے ہاں قیام کرنے کی دعوت دیتا۔ پھر جو مہمان اس کی چارپائی سے چھوٹا ہوتا وہ اس کے پیٹ کا ایندھن بن جاتا اور جس کا قد چارپائی سے بڑا ہوتا وہ بھی اس پاداش میں موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا۔ یوں ہر کسی کو کھا جانا اس جن کی فطرت بن گئی تھی اور بہانہ یہ بنا رکھا تھا کہ آدمی یا تو چارپائی سے بڑا نکلا یا چھوٹا۔ یعنی چارپائی کو پیمانے کی حیثیت دے دی گئی تھی اور بدقسمتی سے نیشنل عوامی پارٹی اس چارپائی پر فٹ نہ بیٹھتی تھی۔
نیشنل عوامی پارٹی میں باچا خان، میاں افتخار الدین، جی ایم سید، حیدر بخش جتوئی، خان عبدالصمد خان اچکزئی، غوث بخش بزنجو، میرگل خان نصیر، عطااللہ مینگل، ولی خان، خیر بخش مری اور دوسرے بہت سے ترقی پسند اور انگریز (کالے اور سفید) استعمار کے خلاف سینہ سپر ہونے والے سیاستدان شامل تھے۔ نیشنل عوامی پارٹی سے قبل باچا خان کی خدائی خدمتگار، جی ایم سید کی سندھی محاذ، میاں افتخار الدین کی آزاد پاکستان پارٹی، حیدر بخش جتوئی کی ہماری کمیٹی، عبدالصمد اچکزئی کی الدور پختو اور غوث بخش بزنجو کی استھان گل، الگ الگ جماعتیں تھیں۔ پھر سب لوگوں نے مل کر ایک پارٹی تشکیل دی جس کا نام پاکستان نیشنل پارٹی رکھا گیا۔
بعد میں مولانا بھاشانی کی شمولیت پر یہی جماعت نیشنل عوامی پارٹی کہلائی، جس کا منشور غوث بخش بزنجو کی ذہنی عرق ریزی کا نتیجہ تھا کہ انہیں یقین کامل تھا کہ مصائب و آلام، دکھ درد و غم انسانی زندگی کیلئے ناگزیر نہیں ہے بلکہ ایسی مکروہ چیزیں ہیں جن سے انسان کو قطعی چھٹکارا حاصل کرنا چاہئے۔ بزنجو صاحب کے ساتھ کسی بھی مسئلہ پر متنازعہ بحث کی جا سکتی تھی اور ایسی بحثیں اکثر ہوتی تھیں۔ نہ صرف پاکستان بلکہ لندن اور میرے گھر ایمسٹرڈیم میں بھی، وہ یہ کبھی نہیں سوچتے تھے کہ ان کے خیالات سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا اور بڑی توجہ سے دوسروں کے خیالات سنتے تھے۔ لیکن وہ ایسی کسی چیز کو، کسی بات کو کبھی نظرناداز نہیں کرتے تھے جو بنیادی اور منطقی طور پر غلط ہو۔ اصول کے معاملے میں وہ کوئی رعایت نہ برتتے تھے۔ مجھے کل کی طرح آج بھی یاد ہے ایمسٹرڈیم میں میرے گھر پر ایک بار فیض احمد فیض کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا: ” اگر فیض جیسا شخص پیدا نہ ہوتا تو ہم انقلاب کیلئے اسے پیدا کرتے “۔
بزنجو صاحب اپنے بیٹے بزن بزنجو کے ساتھ میرے گھر آئے ہوئے تھے۔ ہم چند دوست رات گئے تک ان کی دلچسپ باتیں اور سیاسی تبصرے سنتے رہے۔ سفر کی وجہ سے وہ کافی تھکے ہوئے تھے۔ کہنے لگے ” مفتی! مجھے میرا کمرہ دکھاﺅ۔ نیند آ رہی ہے.....“ میں انہیں ان کے کمرے میں لے گیا۔ ضرورت کی تمام چیزیں پہلے ہی سے کمرے میں رکھ دی گئی تھیں۔ پھر بھی احتیاطاً میں نے کہا: ” اب آپ آرام کیجئے۔ رات کے کسی حصے میں بھی کسی چیز کی ضرورت پیش آئے تو بلاتکلف مجھے آواز دے لیجئے گا “۔
کہنے لگے: ” نہیں؟ اب میں سوﺅں گا اور صبح تک سوتا رہوں گا۔ بس تم یہ کرنا کہ سویرا ہو تو مجھے جگا دینا “۔ میں ہولے سے قدم لیتا ہؤا کمرے سے باہر نکل آیا۔
بزنجو صاحب! ابھی آرام سے سوئیں جب سویرا ہو گا تو میں یا میرے بچے ضرور آپ کو جگا دیں گے۔