غلطی در غلطی

  • ہفتہ 22 / اگست / 2015
  • 6822

ایم کیو ایم نے استعفوں کے معاملے پر مذاکرات کے دروازے بند کرتے ہوئے مزید بات چیت سے انکار کر دیا ہے۔ ساتھ ہی مولانا فضل الرحمن کو بھی زحمت نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ دورہ کراچی کے دوران وزیراعظم کا لہجہ دھمکی آمیز تھا۔

ایم کیو ایم کے اسمبلیوں میں واپسی کے واضح انکار کے باوجود منشی صاحب(اسحاق ڈار) کوشاں ہیں کہ کسی طریقے سے ایم کیو ایم کو منایا جائے اور اسی سلسلے میں انہوں نے ایک بار پھر مولانا صاحب کو اپنی صلاحیتوں کا جادو جگانے پر اصرار کیا ہے اور مولانا بھی بخوشی ثالثی کا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔

ایم کیو ایم کراچی آپریشن پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے جمہوری پراسیس سے باہر نکلی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اب پارٹی کی تمام تر توجہ نئے صوبے کی تشکیل پر ہو گی۔ متحدہ قومی موومنٹ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو درحقیقت ’’ مہاجر کارڈ ‘‘ پر زندہ ہے، کی تان مہاجر صوبے پر ہی آ کر ٹوٹتی ہے۔

متحدہ نے یقیناً تمام عوامل پر غور کئے بغیر عجلت میں استعفے دئیے جس کا احساس اسے بہت جلد ہو گیا اور وہ یہ استعفے فوراً سے پیشتر واپس لینے پر بھی آمادہ ہو گئی لیکن وزیراعظم کے دورہ کراچی کے دوران ان کی باڈی لینگویج اور خطاب میں چھپے پیغام کو بھانپتے ہوئے ایم کیو ایم ایک بار مہاجر کارڈ کھیلنے پر اتر آئی ہے۔

ایم کیو ایم سینیٹ ، قومی اور سندھ اسمبلی سے انصاف نہ ملنے کی دہائیاں دیتے ہوئے باہر نکلی تھی مگر شاید ایم کیو ایم رہنماؤں کو یہ یاد نہیں کہ وہ گزشتہ کئی دہائیوں سے مسلسل اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان ہیں۔ مگر کراچی کا یہ حال ہے کہ آج بھی یہاں کے شہری صاف پانی، صحت کی بہتر سہولیات، سستے اور فوری انصاف سمیت زندگی کی تمام بنیادی ضروریات کے لئے ترستے رہے ہیں۔ کراچی دنیا کا وہ بدنصیب میگا سٹی ہے جس کے دعویدار تو بہت ہیں مگر اسے ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنے کے لئے کوئی بھی سنجیدہ نہیں۔

گو کہ ایم کیو ایم اپنے قائد کی طرح بارہا استعفوں کا کھیل کھیلتی رہی ہے اور اپنی شرائط منوانے پر پھر اسی تنخواہ پر کام بھی کرتی رہی ہے مگر اس بار عجلت میں کئے گئے فیصلے نے ایم کیو ایم سے سنگین غلطی کروا دی ہے۔ ایم کیو ایم جمہوری عمل کا حصہ رہتے ہوئے اور جہموری انداز میں اپنے مطالبات بہتر طور پر عوام اور حکومت کے سامنے رکھ کر جائز شکایات کا ازالہ کروا سکتی تھی۔ مگر کیا کیجئے کہ جب قسمت خراب ہو تو اونٹ پر بیٹھے شخص کو بھی کتا کاٹ لیتا ہے۔

ایم کیو ایم کے لئے اب ایک ہی راستہ بچا ہے اور وہ ہے عدم تشدد کا راستہ۔ کراچی کے عوام نے ہمیشہ ایم کیو ایم کو محبت اور عزت کے ساتھ ووٹ بھی دیا (مگر ایم کیو ایم نے محبت اور عزت سے زیادہ پیسہ لیا) لیکن بدلے میں انہیں ٹارگٹ کلنگ، بوری بند لاشیں، الزامات کی سیاست ، ضروریات زندگی سے محرومی جیسے مسائل ملے۔ آج بھی ایم کیو ایم اور الطاف حسین کے چاہنے والے کراچی میں بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ لیکن حالات بہت تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں اور یہ محبت اب زیادہ دیرپا ثابت نہیں ہو گی۔

الطاف حسین کو بھی اب چاہئے کہ وہ لندن میں بیٹھ کر ایم کیو ایم ورکرز کے مسائل بڑھانے کی بجائے بالغ نظری اور سمجھ داری کا ثبوت دیتے ہوئے پرتشدد سیاست کے دائرے سے باہر نکلیں۔ برطانیہ جیسے جمہوری معاشرے میں اتنا وقت گزار کر اور وہاں پرلطف زندگی بسر کرکے بھی اگر وہ جمہوریت کے ثمرات سے ناواقف ہیں تو انہیں کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ کراچی کے عوام سے ووٹ اور سپورٹ مانگیں اور ساتھ ہی الگ صوبے کا مطالبہ بھی کریں۔

اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کے موقع پر قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار نے اپنی تقریر کا اختتام یہ شعر پڑھ کر کیا تھا:
نہ گنواؤ ناوک نیم کش، دل ریزہ ریزہ گنوا دیا
جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو، تن داغ داغ لٹا دیا
مرے چارہ گر کو نوید ہو، صف دشمناں کو خبر کرو
جو قرض رکھتے تھے جان پر، وہ حساب آج چکا دیا

لفاظی اور شعر و شاعری سے اگر حساب چکتا ہوتے تو آج دنیا بڑی پرسکون ہوتی۔ فاروق ستار ، الطاف حسین اور ایم کیو ایم کو آج اپنے گریبان میں جھانکنے اور جو غلطیاں وہ کرتے آئے ہیں ان سے تائب ہو کر ایک نئی شروعات کی اشد ضرورت ہے۔ ایم کیو ایم اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی غلطی کے بعد اب انہیں واپس لینے سے انکار کر کے غلطی در غلطی کر رہی ہے۔ ایم کیو ایم کو چاہیے کہ وہ اپنی پالیسیوں کا از سر نو جائزہ لے کر نئی صف بندی کرے اور جرائم پیشہ عناصر سے جان چھڑائے۔ ورنہ تشدد کا جو ٹھپہ ایم کیو ایم پر لگا ہؤا ہے، وہ اسے کسی پل چین سے جینے نہیں دے گا۔