اردو نافذ نہیں ہو سکتی
- سوموار 24 / اگست / 2015
- 5926
چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے اپنے عہدے کا حلف اردو میں کیا لیا کہ ملک بھر میں اردو کے بزعم خویش شیدائیوں، سرپرستوں اور وکیلوں کو یہ امید پیدا ہو گئی کہ اردو سے محبت کرنے والے چیف جسٹس اپنے عہدے کی مختصر ترین (23روز) مدت پوری ہونے سے قبل کوئی ایسا حکم جاری کر دیں گے کہ مملکت خداداد پاکستان میں انگریزی کا راج چوپٹ اور اردو کا بول بالا ہونے لگے گا۔
ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کی مہر لگے اس حکم نامے کے سامنے حکومت بھی مجبور ہو جائے گی، پارلیمنٹ بھی پابند ہو گی اور عام لوگ بھی منصف کے حکم سے تھر تھر کانپتے اردو میں کلام و بیان کرنے پر مجبور ہوں گے۔ بس یہ دلاورانِ اردو یہ سمجھنے اور سمجھانے سے قاصر ہیں کہ اگر عدالتی احکامات سے زبانیں نافذ ہو سکتی ہوں، رویئے تبدیل ہو سکتے ہوں اور تہذیبی دھارے اپنا رخ بدل لیتے ہوں تو قوموں کو درسگاہوں اور ثقافتی و سماجی اداروں میں جوتے گھسنے اور زبان کے رموز سمجھنے اور سمجھانے کی ضرورت کیوں محسوس ہو۔
یہ لوگ یہ بنیادی سا نکتہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اس ملک میں اردو زبان کولسانی رویئے اوررواج کے ذریعے فروغ دینے کی بجائے سیاسی فیصلوں اور مذہبی نعروں کے ذریعے مروج کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ اب اس طرز عمل میں قانونی طریقہ اختیار کرنے کی شدید خواہش شامل ہو چکی ہے۔ چند روز بعد جسٹس جواد ایس خواجہ اپنے عہدے سے ریٹائر ہو جائیں تو یہ سارے محبان اور عاشقانِ زبان اردو پھر سے کسی ” عادل “ جج کے انتظار میں مراقبے میں چلے جائیں گے جو ایک حکم کے ذریعے وزیراعظم کو پابند کر سکے کہ بس بہت ہو گیا۔ اب قومی زبان اردو ہی اس ملک کی سرکاری زبان ہو گی۔
زبان کی سرپرستی اور فروغ کے سلسلہ میں سب سے پہلی اور بنیادی بات یہ ہے کہ اسے سیاست اور تبلیغ کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔ یہ کہنا بند کیا جائے کہ اردو کو نقصان پہنچا تو پاکستان کی بنیادیں ہل جائیں گی یا اگر اردو نافذ اور رائج العام نہ ہو سکی تو خدانخواستہ اسلام کو شدید خطرات لاحق ہو جائیں گے۔ دراصل اسی بیمار ذہنیت کی وجہ سے اب اسلام سے دوسروں سے زیادہ محبت کرنے کے دعویدار اردو کی بجائے عربی کو نافذ اور مروج کرنے کے درپے ہیں۔ دکان کو بقالہ، خدا حافظ کو اللہ حافظ اور پاکستان کو الباکستان قرار دینے والے یہ لوگ عقیدے کے ایسے چیمپئن ہیں جو اس ملک کے مسلمانوں کی مشکل آسان کرنا چاہتے ہیں۔ وہ یہ ” راز “ پا چکے ہیں کہ قبر میں فرشتے جب سوال جواب کرنے آئیں گے تو اردو دانوں کو شدید مشکل کا سامنا کرنا پڑے گا اور شاید اس وقت عربی سے اردو کے مترجم کا اہتمام بھی نہ ہو سکے۔ کیوں کہ مذہبی روایتوں میں اس حوالے سے صراحت موجود نہیں ہے۔
یہ تو خیر جملہ معترضہ تھا لیکن نکتہ صرف یہ ہے کہ اگر آپ زبان کو مذہب اور ملک کی سالمیت سے جوڑ دیں گے تو اس میں اپنا نقصان بھی کریں گے، ملک کا بھی، زبان بھی متاثر ہو گی اور عقیدے کو بھی کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ اس لئے اہل پاکستان اور خاص طور سے اس ملک میں اردو کی ترویج کے خواہشمندوں کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ قائداعظم محمد علی جناح اور ذوالفقار علی بھٹو کے حوالے دے کر اردو کی کوئی خدمت نہیں ہو سکتی۔ یہ مؤقف بے بنیاد اور احمقانہ تاریخ بینی کا نتیجہ ہے کہ محمد علی جناح نے ڈھاکہ میں اردو کی ہمہ گیریت اور اسلامی ثقافت سے اس کے ربط و تعلق کی بنا پر اسے قومی و سرکاری زبان بنانے کا اعلان کیا تھا۔ ایک ایسا شخص جس کی مادری زبان اردو نہیں تھی۔ جو اس زبان میں گفتگو نہیں کرتا تھا اور جس نے اپنی ساری سیاسی جدوجہد بزبان انگریزی کی تھی، اس کے بارے میں اس قسم کی فتوے بازیوں سے صرف اردو کی ہی نہیں قومی یکجہتی اور ہم آہنگی کو بھی شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔ حیرت ہے کہ ملک کے ایک بڑے اخبار کے ایڈیٹر اور کالم نویس ارشاد عارف اس حوالے سے چند روز قبل اپنے مرثیہ نما کالم میں رقمطراز ہیں:
” قائداعظم انگریزی زبان کی اہمیت سے آگاہ تھے اور انگریزی کلچر کی تباہ کاریوں سے کلی طور پر آشنا، اس بنا پر انہوں نے ڈھاکہ یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ” سرکاری زبان واضح طور پر اردو ہونی چاہئے جس کی آبیاری برصغیر کے دس کروڑ عوام نے کی، وہ زبان جو پاکستان کے طول و عرض میں سمجھی جاتی ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ زبان جس میں کسی اور صوبائی زبان کے مقابلے میں اسلامی ثقافت اور مسلم روایات کے بہترین مظاہر موجود ہیں “۔
محمد علی جناح کی خواہش اور اردو کے بارے میں ان کی معلومات کے حوالے سے اس قسم کے تصورات کو عام کرنا قومی مفاد کا تقاضہ قرار دیا گیا ہے۔ حالانکہ عام عقل کا آدمی بھی یہ جان سکتا ہے کہ انگریزی زبان جس شخص کا اوڑھنا بچھونا رہی ہو اور جو اردو کی ابجد سے بھی واقف نہ ہو اسے یہ علم کیسے ہو سکتا ہے کہ برصغیر کے دس کروڑ عوام نے اس زبان کی آبیاری کی ہے۔ اگر یہ بات درست مان لی جائے تو یہ قبول کرنا پڑے گا کہ جب تک اردو کو بزور” مسلمان “ نہیں کیا گیا تھا، اس وقت تک ہندوﺅں اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کی کثیر تعداد بھی اردو پڑھتی اور اس سے محبت کرتی تھی۔ نیز یہ کہ اگر جناح کے منہ سے یہ الفاذ ادا کروائے گئے تھے کہ اردو میں اسلامی ثقافت اور مسلم روایات کے بہترین مظاہر موجود ہیں۔ تو اس کے پیچھے عاقبت نااندیش سیاسی لیڈروں کا وہی ٹولہ تھا جنہوں نے بابائے قوم کو ایک مہلک سیاسی بیان جاری کرنے پر آمادہ اور مجبور کیا تھا۔ اب جناح کی طرف سے اردو کو قومی یا سرکاری زبان قرار دینے کی سیاسی ہلاکت خیزی تاریخ کا حصہ بن چکی ہے۔ اس لئے اب اس قومی تباہ کاری کا سہرا قائداعظم کے سر باندھنے کا سلسلہ بند ہونا چاہئے۔ اور صورت حال کو درست حقائق کے تناظر میں دیکھنے کی کوشش کرنی چاہئے تاکہ نہ صرف اردو بلکہ پاکستان کے ساتھ بھی انصاف کیا جا سکے۔
اس بحث میں پڑے بغیر کہ ڈھاکہ میں قائداعظم کا اردو کو قومی/سرکاری زبان قرار دینے کا اعلان ان کا اپنا خیال تھا یا یہ کہ انہیں اس حوالے سے گمراہ کیا گیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے فیصلے ٹھونسنے کی سیاسی ذہنیت کی وجہ سے ہی غلط فہمیوں، بدگمانیوں اور شبہات نے جنم لینا شروع کیا۔ جس کے نتیجے میں 1971 میں پاکستان دولخت ہو گیا۔ یہ بھی تاریخ کا ایک انوکھا سبق ہے کہ کسی ملک کی اکثریت نے اپنے ہی ملک کی اقلیت کے استبداد اور جبر سے مجبور ہو کر علیحدہ ہونے کا فیصلہ کیا اور اقلیت نے نہ صرف نام بلکہ اس سیاسی میراث کا وارث ہونے کابھی اعلان کیا جو ان دونوں کی مشترکہ جدوجہد کا نتیجہ تھا۔
یہاں تاریخ کے اس افسوسناک باب سے بحث مطلوب نہیں ہے لیکن یہ اہم نکتہ سامنے لانا مقصود ہے کہ کوئی ملک یا عقیدہ کسی ایک زبان کا محتاج نہیں ہوتا اور نہ ہی ایک زبان کو کسی خطے کی واحد ضرورت قرار دیتے ہوئے وہ دعوے کئے جا سکتے ہیں جو پاکستان میں کئے جاتے ہیں۔ کہ اردو مواصلت کی واحد زبان ہے، یکجہتی کی علامت ہے، ترقی کا اکلوتا راستہ ہے یا یہ کہ یہ ہماری دینی ثقافت اور روایت کی امانت دار ہے۔ کسی کو یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ اپنی پسندیدہ زبان کی وکالت کرتے ہوئے اس زبان کو نہ بولنے والوں کو کمتر مسلمان قرار دے۔ اس طرح یہ بات بھی سامنے لانے کی ضرورت ہے کہ اگر اردو کو اسلامی ثقافت اور دین کی نمائندہ کے طور پر سرپرستی یا اپنانے کی ضرورت ہے تو اس ملک میں آباد اقلیتوں..... جن میں ہندو، سکھ، عیسائی اور متعدد دوسرے عقائد شامل ہیں .....کے لئے ہمارے قومی تصور میں کیا گنجائش ہو گی۔ یوں تو یہ کہا جا سکے گا کہ اگر وہ اردو اپناتے ہیں تو ایک ایسے ثقافتی ورثے کو گلے لگاتے ہیں جو ان کے عقائد اور نظریات و روایات سے لگا نہیں کھاتا۔ اور اگر اس کی بجائے کوئی دوسری زبان اختیار کرتے ہیں تو وہ قومی دھارے سے نکال باہر کئے جائیں گے۔ یہ تضاد ہی ہمارے قومی مباحث کی بنیاد بنا ہؤا ہے اور اسی کی وجہ سے پاکستان میں اردو کی ترویج کے لئے کوششیں کرنے اور جذباتی نعرے بلند کرنے کے باوجود اس خوبصورت اور اہم زبان کو مروج نہیں کیا جا سکا۔
یوں بھی زبان کو قبول کرنے کا یہ تصور لسانی تقاضوں کے برعکس ہے۔ ہر شخص وہی زبان بولتا ہے اور اسی میں شعور کی منزلیں طے کرنے میں سہولت محسوس کرتا ہے جو وہ اپنے گھر میں سنتے ہوئے بڑا ہوتا ہے۔ یہ زبان اردو بھی ہو سکتی ہے لیکن پاکستان میں ایک قلیل اقلیت کے سوا اردو کو ماں بولی کا درجہ حاصل نہیں ہے۔ البتہ سیاسی اور لسانی تصور کو طاقت کی بنا پر ٹھونسنے کے حامی ایک گروہ نے ضرور پنجاب کو اپنا مرکز بنا کر اردو کے حوالے سے ایسے بے بنیاد اور غیر سائنٹفک تصورات کو فروغ دیا ہے کہ ان کے نتیجے میں اردو کو تو کوئی فائدہ نہیں ہؤا لیکن ایک قومی بے یقینی اور کنفیوژن نے ضرورجنم لیا ہے۔ پنجابی ایک اہم زبان ہے اور اب تک پنجاب میں آباد لوگوں کی اکثریت اسے بولتی اور سمجھتی ہے۔ لیکن یہ اس بڑے صوبے کی تدریسی زبان کا درجہ حاصل نہیں کر سکی۔ اس کی واحد وجہ وہ قومی تصور ہے جس کی بنیاد قومیت پرستی اور اسلام کے آمیزے سے تیار کی جاتی ہے۔ کیوں کہ اس تصور کا لوگوں کے رہن سہن، بول چال، ملنے جلنے اور رویوں اور برتاﺅ سے کوئی تعلق نہیں ہے، اسی لئے پاکستان کے باشندے ابھی تک یہ سمجھ نہیں پائے کہ وہ کیوں کر ایک قوم ہیں۔ یہ نظریہ صرف اردو کو نافذ کرنے سے تبدیل نہیں ہو سکتا۔ اس کے لئے کچھ دوسرے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے سب سے پہلے یہ بات سمجھنا ہوگی کہ مقامی زبانوں اور رویات کو کچل کر قومیں تشکیل نہیں پاتیں۔ قوم بنانے کے لئے سب کو ساتھ لے کر چلنا پڑتا ہے۔ اسی لئے اردو نافذ کرنے کے حوالے سے قاید اعظم کا بیان یا فرمان بنگالی بولے والوں نے کبھی قبول نہیں کیا اور ملک دو لخت ہو گیا۔ لیکن ہم اپنی ہٹ چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہیں۔
کسی قوم کی تعمیر کے لئے علاقائی روایات جن میں زبان اور مختلف عقائد شامل ہوتے ہیں، کو مسترد یا ختم نہیں کیا جا سکتا۔ بلکہ ان کو خود میں سموتے ہوئے ایک شکل واضح کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ قیام پاکستان کے ساتھ یہ تصور کر لیا گیا کہ پاکستان میں آباد اگر اردو بولیں گے اور اپنائیں گے اور مسلمان ہوں گے تب ہی وہ ایک قوم بن سکیں گے۔ قوم کا یہ تصور قائداعظم محمد علی جناح کے تصورِ قومیت سے بالکل مختلف تھا۔ اس کی نشاندہی بانئ پاکستان نے 11 اگست 1947 کی تقریر میں نہایت صراحت سے کر دی تھی۔ اس تقریر سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ کسی قوم میں ہر عقیدہ کے لوگ شامل ہو سکتے ہیں۔ لیکن وہ دھرتی سے اپنے تعلق، باہمی مشترکہ مقاصد و ضروریات اور رابطے کی وجہ سے ایک بڑی شناخت کا حصہ بنتے ہیں۔ ان کا عقیدہ اور مواصلت کے ذرائع مختلف ہو سکتے ہیں۔ لیکن پاکستان کے مقتدر گروہوں نے کبھی اس تصور کو قبول نہیں کیا۔ قائد کے انتقال کے فوراً بعد قرارداد مقاصد کے نام سے جو رہنما اصول متعین کئے گئے تھے اور جو پاکستان کے موجودہ آئین کا بھی حصہ ہیں.....وہ قائد کے اصولوں اور تصورات سے قطعی مختلف ہیں۔
اردو کو یقیناً اہمیت اور ترویج دینے کی ضرورت ہے۔ لیکن جو لوگ اس زبان کی وکالت کو خود پر فرض سمجھتے ہیں، وہی اپنے شدت پسندانہ ناقص نظریات کی وجہ سے اسے سب سے زیادہ نقصان پہنچانے کا سبب بھی بنتے ہیں۔ اسی ماردھاڑ کے نتیجے میں نہ تو اردو حاوی ہو سکی بلکہ اس کے ساتھ ہی ملک کا تعلیمی نظام بھی بحران کا شکار ہو گیا۔ ایک ملک میں مختلف زبانیں بولتے ہوئے تو قومی تشخص تعمیر کیا جا سکتا ہے لیکن تعلیمی نظام کو چند بنیادوں پر استوار کئے بغیر قوم کی تعمیر ممکن نہیں ہوتی۔ پاکستان میں آباد لوگوں کو ہرگز یہ معلوم نہیں ہے کہ ان کے بچوں کی بہتری کس قسم کی تعلیم حاصل کرنے میں ہے۔ لہٰذا ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا بچہ انگریزی سیکھ لے اور انگلش میڈیم میں تعلیم پائے کیوں کہ اسے ترقی اور آگے بڑھنے کی علامت بنا دیا گیا ہے۔
یہ قرار دینا کہ اس ملک کی ” حقیر اقلیت “ نے خود کو ممتاز کرنے کیلئے انگریزی کو رواج دیا ہے اور اردو کو محروم کیا ہے.....درست رویہ نہیں ہے۔ اگرچہ عملی طور سے فیصلوں کا سامنا کرتے ہوئے یہ احساس ضرور پیدا ہوتا ہے کہ صرف اردو سیکھنے سے ترقی ممکن نہیں۔ انگریزی میں دسترس سے معاملات آسانی سے طے ہو جاتے ہیں۔ البتہ یہ صورت حال پیدا کرنے میں اردو کے محبان کی غلط حکمت عملی کو بھی عمل دخل حاصل ہے۔ اردو کا جھنڈا بلند کرتے ہوئے علاقائی زبانوں کو مسترد کیا گیا۔ اس طرح سیکھنے کے بنیادی فطری عمل کا راستہ روک دیا گیا۔
ہم چالیس برس قبل ناروے آئے تو ہمیں اس تضاد سے آگاہی ہوئی۔ اسکولوں میں جانے والے پاکستانی بچوں سے پوچھا جانے لگا کہ ان کی مادری زبان کیا ہے۔ جب یہ جواب ملتا کہ ” مادری زبان “ اردو ہے تو مقامی استاد حیران ہوتے اور کہتے مگر آپ لوگ تو پنجابی بولتے ہیں۔ 80 کی دہائی میں مقامی اسکولوں کے استادوں اور پاکستانی والدین کے درمیان یہ بحث چلتی رہی۔ استاد اور اسکول کانظام یہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ ایک گروہ کے آبائی وطن میں رابطے کی زبان جسے قومی زبان بھی کہا جاتا ہے، وہ اس کے لوگوں کی مادری زبان کیوں کر ہو سکتی ہے۔ جبکہ ان بچوں کی مائیں پنجابی بولتی ہوں۔ گو عقلی لحاظ سے مقامی ماہرین کبھی اس الجھن کو سمجھ نہیں سکے لیکن ناروے کے اسکولوں کو پاکستانیوں کے جذبہ حب الوطنی سے مجبور ہو کر اردو کو ہی پاکستانی بچوں کی بنیادی زبان (یا مادری زبان) تسلیم کرنا پڑا۔ البتہ وقت کے ساتھ جوں جوں سماجی اور سیاسی حالات تبدیل ہوئے، مقامی اسکینڈری اسکولوں میں اردو کو ذریعہ تعلیم کے طورپر استعمال کرنے کا رواج بھی ختم ہوگیا۔
اس مثال سے صرف یہ واضح کرنا مطلوب ہے کہ عالمی ماہرین تعلیم اسی زبان کو ابتدائی تعلیم کا بہترین ذریعہ کہتے ہیں جو بچوں کے والدین آپس میں بولتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ جب کوئی زبان سماجی اور روزگار کی ضرورتیں پوری کرنے سے قاصر رہے تو اس کو اپنانے کا رویہ بھی ماند پڑنے لگتا ہے۔ ان مشاہدات کو اگر پاکستان کی صورت حال کو سمجھنے کیلئے بروئے کار لایا جائے تو یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ علاقائی یا مادری زبانوں کو ابتدائی تعلیم کے لئے اپنانا اور ان کی سرپرستی کرنا بچوں کی پرداخت اور انہیں سیکھنے کے عمل کا تیزی سے حصہ بنانے کیلئے بے حد ضروری ہے۔ بعد میں اپنی سہولت، ضرورت اور حالات کے مطابق کسی بھی دوسری زبان کو تعلیم کے نقطہ نظر سے اختیار کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان میں قومی یکجہتی کے علمبردار اس بنیادی علمی اصول کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اس کے نتیجے میں اردو کو انٹرمیڈیٹ تک لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس سے یہ فائدہ تو ہؤا کہ اردو پڑھانے والے استادوں کی آسامیوں کی صورت میں کئی ہزار لوگوں کو روزگار میسر آ گیا۔ لیکن کیا یہ استاد اردو کو مروج کروا سکے؟ اس زبان کے لئے طالب علموں/لوگوں میں لگن پیدا کر سکے؟ ان دونوں سوالوں کا جواب نہ میں ملے گا۔
اس وقت صورت حال یہ ہے کہ اردو میں چھپنے والی کتاب 500 کی تعداد میں شائع ہوتی ہے اور اس کا بھی کوئی خریدار نہیں ہوتا۔ اردو کے نام پر سرکاری ادارے ضرور بنائے گئے ہیں لیکن وہ اردو کی تبلیغ اور تعمیر کی بجائے ذاتی مفاد اٹھانے کے ٹھکانے بن چکے ہیں۔ اردو میں لکھے ہوئے لفظ غیر معتبر اور بے اعتبار ہو چکے ہیں۔ اردو اخبار میں چھپی ہوئی خبر پر اس وقت تک یقین نہیں آتا جب تک کسی انگریزی اخبار سے اس کی تصدیق نہ ہو جائے۔ یہ صورت حال کسی اشرافیہ کی سوچی سمجھی سازش کے تحت پیدا نہیں ہوئی ہے۔ اسے پیدا کرنے میں اردو کو ترویج دینے کے علمبرداروں کا عمل دخل ہے۔ اگر آپ ساری زندگی اردو کو پڑھانے اور اس کی خدمت کرنے کے باوجود اس زبان کو سماجی قبولیت کی سند دلوانے میں کامیاب نہیں ہو رہے تو اس ناکامی کا جائزہ لیتے ہوئے سب سے پہلے آپ کو خود آئینہ دیکھنے کی ضرورت ہے۔
اردو کے ایک ماہر اور استاد ڈاکٹر انوار احمد نے ایک خط میں چیف جسٹس سے اردو کی محرومی دور کرنے کی استدعا کی ہے۔ سپریم کورٹ کے سربراہ کے نام اس خط کو مسعود اشعر نے روزنامہ جنگ میں اپنے کالم کے ذریعے لوگوں تک پہنچایا ہے۔ ڈاکٹر صاحب جسٹس جواد ایس خواجہ کے اختیار سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اردو کے نام پر بنے ہوئے بعض اداروں میں خالی آسامیوں کو پُر کروانا چاہتے ہیں۔ دنیا کے مختلف ملکوں میں اردو چئیر کے نام سے شروع ہونے والے منصوبوں کے لئے سرکاری سرپرستی کے خواہشمند ہیں۔ اور اردو کے مختلف اداروں کے زیرتسلط قیمتی اراضی کو تحفظ دلوانا چاہتے ہیں۔
یہ سارے کام ضروری ہیں لیکن کیا اس سے اردو کا وقار بحال ہو جائے گا۔ لوگ اردو کو اوڑھنا بچھونا بنانا شروع کر دیں گے؟ ڈاکٹر انوار احمد کو خبر ہونی چاہئے کہ جو کام وہ ان کے ساتھی 40 برس تک اردو پڑھا کر نہیں کر سکے، وہ سپریم کورٹ کا چند دنوں کا مہما ن چیف جسٹس کیوںکر کر سکتا ہے۔ البتہ اس کے حکم سے آپ جیسے چند ضرورت مندوں کو اعلیٰ عہدوں پر کام کرنے کا موقع ضرور مل سکتا ہے۔
المناک سچائی یہ ہے کہ اس وقت پاکستان میں نئی نسل اردو اسکولوں، کالجوں کی بجائے بھارتی فلموں سے سیکھ رہی ہے۔ یا پھر پاکستانی ڈرامے اور ٹاک شوز ان کی لسانی اور شعوری تربیت میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ اسکول اور کالج اور وہاں پڑھانے والے استاد کیوں اردو کو رواج دینے میں ناکام ہوئے۔ اس کا جواب ڈاکٹر انوار احمد اور ان کے ایسے سب ساتھیوں اور دوستوں پر واجب ہے جو اردو کی ترویج کے لئے سرکاری سرپرستی ضروری سمجھتے ہیں۔ موجودہ حالات میں اردو کو ایک محدود اکیڈمک زبان بنا دیا گیا ہے۔ اسے عوامی مقبولیت دلوانے کے لئے ملک کی سیاسی پالیسی بھی بدلنی چاہئے لیکن اس سے پہلے سماجی رویوں میں تبدیلی ضروری ہے۔ صرف دوسروں پر الزام عائد کرکے اور ناکامیوں کا سہرا انگریزی کے سر باندھ کر مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔ جب تک لوگ خود کسی زبان کو سیکھنا، اپنانا اور برتنا نہیں چاہیں گے، اس وقت تک اسے احترام اور قبولیت حاصل نہیں ہو سکتی۔
اس وقت صرف بیرون ملک آباد پاکستانیوں کے ہاں پیدا ہونے والے بچے ہی نہیں پاکستان میں درسگاہوں سے تعلیم حاصل کرنے والی نسلیں بھی اردو رسم الخط سے بیگانہ ہو رہی ہیں۔ سوشل میڈیا پر رومن اردو میں لکھنے کا رواج عام ہے۔ مگر اس موضوع پر علمی بحث کا آغاز بھی نہیں ہو سکا کہ یہ کیا بدلتے ہوئے حالات میں رومن رسم الخط کو مروج کرکے اردو کا بھلا ہو سکتا ہے یا اس کی بجائے نئی نسلوں کو اس نئے چلن سے روکنا ضروری ہے۔
اردو میں مستند سائنسی علوم کی تدریس کو عام کرنا تو بہت دور کی بات ہے..... ابھی تو بنیادی تفہیم کے لئے اسے قبول کروانا ہی سب سے بڑا چیلنج ہے۔ یہ کام نہ قومی اسمبلی کی قراردادوں سے ہو گا نہ حکومتی فیصلوں اور عدالتی احکامات سے۔ اس کے لئے اردو کو بڑی اور اہم زبان سمجھنے والوں کو خود محنت کرنا ہوگی۔ لوگوں کو اور خاص طور سے نئی نسلوں کو اس زبان کے حسن و خوبی اور قوتِ مواصلت سے آگاہ کرنا ہو گا۔ آپ یہ کام نہیں کر سکتے تو زبانیں نافذ کرنے کا اختیار کسی کے پاس نہیں ہے۔ کتنی ہی زبانیں اپنے سمجھنے اور بولنے والوں کی بے اعتنائی اور ترک کرنے کی وجہ سے فراموش کی جا چکی ہیں۔