ماں کے آنسو
- سوموار 24 / اگست / 2015
- 4953
کبھی کبھی مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے صاحبان اقتدار و اختیار جو علم رکھتے ہیں اس میں انسانی ہمدردی کے کاموں کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ وہ یہ سوچتے ہیں کہ دنیا اور آخرت میں عوام کا ان سے کوئی تعلق اورواسطہ نہیں ہے۔ وہ صرف اپنے اہل و عیال اور قریبی لوگوں کی خوشیوں کے لئے جواب دہ ہیں۔
اگر ایسا نہیں ہے تو کیوں غریب غریب سے غریب تر ہوتا جارہا ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پاکستان کے وسائل اور ان سے حاصل ہونے والے فوائد کی ساری نیکیاں چند مراعات طبقے تک کیوں محدود ہیں ؟ کیوں غریبوں پر بھاری ٹیکسوں کا بوجھ لاد کر امیروں کے آنگن وسیع کئے جارہے ہیں ؟۔
دوستو مجھے یقین ہے کہ میرے یہ الفاظ نہ میرے اور نہ ہی کسی اور کے کام کے ہیں۔ بہت سے محب وطن سیاستدان ایسے بھی گزرے ہیں جنھیں ایساسچ بولنے کی پاداش پرزندان خانوں میں ڈال دیا گیا۔ اس وطن میں رہنے والے اور اسکے جانثاروں نے اس بربریت اور ظلم کے خلاف آوازیں اٹھائیں مگر کوئی فرق نہیں پڑا ۔ مگر میں یہ سوچ کر اس تحریر کو لکھتا چلاجارہا ہوں کہ اس عمل سے میرے دل کا بوجھ تو ہلکا ہورہا ہے۔
شاید اس تحریر کے چند الفاظ کسی صاحب اختیار کی زندگی بدلنے کے کام آجائیں۔ جو سیاستدان اقتدار میں ہیں انہیں سب اچھا کی رپورٹیں دینے والوں کا جم غفیر انہیں عوام کے گھروں میں بجھتے چولہے دیکھنے ہی نہیں دیتا۔ اورافسوس کہ اس ملک میں جو لوگ خود کو اپوزیشن کے نام سے اس ملک کی مسائل سامنے لانے کے ذمہ دار ہیں، ان کی حقیقت بھی اخباروں میں چھپنے والے بیانات سے آگے نہیں ہے۔
اس ملک میں حکمرانی ایک ایسی کیفیت کا نام ہے جس میں مفاد پرستی کا چشمہ پہن کر لیڈر سب وعدوں کو یکسر بھول جاتا ہے۔ اسے دکھ میں ڈوبے عوام دکھائی نہیں دیتے۔ اسے غریبوں کی بھوک یاد نہیں رہتی ۔ یہ بات درست ہے کہ ہر کام حکومت نے نہیں کرنا کچھ کام ہمارے کرنے کے بھی ہیں۔ ہمیں اس معاشرے میں برائیوں کوروکنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ہمیں یہ سوچ کر آگے بڑھنا ہے کہ ہماری وجہ سے کوئی تکلیف میں مبتلا نہ ہو جائے۔ جب ہم سب اپنی اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گے تو حالات خودبہ خود بہتر ی کے طرف آنا شروع ہوجائینگے۔
مگر یہ تمام باتیں ان لوگوں کے لئے بھی ہیں جنہوں نے ہمارے معاشرے کو نفرتوں کی آگ میں جھونک رکھا ہے۔ یہ باتیں ان لوگوں کے لئے بھی عمل کرنے کی ہیں جن لوگوں نے سیاست کو لوٹ مار کرنے کا زریعہ بنا رکھا ہے۔ حال ہی میں ایک تحریرمیری نظرو ں سے گزری ہے جسے میں اپنے پڑھنے والوں کے ساتھ ضرور شیئر کرونگا۔ ایک یوتھ کانفرنس میں ایک مہمان نے ایک دل ہلادینے والا واقعہ سنایا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ایک نوکری کے لئے انٹریو لے رہے تھے۔ ایک لڑکا انٹریو دینے کے لیے آیا۔ ہم جو پوچھتے وہ صحیح جواب دیتاچلاگیا۔ ہم نے اس سے لڑکے سے چالیس سے زائد سوال کئے۔ اس لڑکے نے ایک بھی غلط جواب نہ دیا۔ اس کی ذہانت دیکھ کر ہم دنگ رہ گئے ۔ وہ لڑکا جاتے ہوئے ہمیں کہہ گیا کہ مجھے معلوم ہے کہ آپ منسٹر کی دی ہوئی لسٹ والوں کو نوکریاں دیں گے۔ مجھے یہ نوکری نہیں ملے گی۔
ہم وزیر صاحب کے پاس گئے اور انہیں اپنی بنائی ہوئی لسٹ دی۔ جس میں اس لڑکے کا نام بھی شامل کیا گیا تھا۔ منسٹر نے وہ فہرست پھاڑ دی۔ دو برس بعد ایک اخبار میں پولیس مقابلے میں مرنے والے ڈاکوؤں کی لاشوں کی تصویر آئی۔ اس تصویر میں وہ لڑکا بھی شامل تھا۔
اس واقعے کو سننے کے بعد ہال میں بیٹھے لوگوں کی طرح میری آنکھیں بھی اشک بار ہوگئیں ۔ دوستو یہ ایک حقیقت ہے۔ پاکستان میں 65 فیصد یوتھ ہے۔ آپ جس بھی صاحب اقتدار سیاستدان سے مل لیں، وہ الیکشن میں کامیابی کے لئے روٹی کپڑا مکان اور لوڈشیڈنگ کے خاتمے کی بات کریگا۔ نوجوانوں کے لئے پرکشش نوکریوں کا جھانسا بھی ضرور دیگا۔ ملک میں آج رنگ ونسل اور فرقوں میں بٹی قوم اس بات کا ثبوت ہے کہ مفاد پرست سیاستدان ہر جگہ موجود ہیں۔
جب ایسے لوگوں کو اختیار ملتا ہے تو وہ نوکریوں کو من پسند لوگوں میں تقسیم کرنے یا انہیں بیچنے کے معاملے میں یہ کیوں نہیں سوچتے کہ اس ملک کے معمار جن کی مائیں اپنے کنگن بیچ کر ان کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کرتی ہیں، ان ماؤں کے دلوں پر کیا گزرتی ہوگی، جب ان کا ان بیٹا ان کی امیدوں کامرکز نہیں بن پاتا۔ ان بیٹوں پر کیا گزرتی ہوگی جو بچپن میں اپنی ماں کے آنسو پونچھ کر کہتے تھے، ماں تو کیوں روتی ہے مجھے بڑا ہوجانے دے تیرے سارے دکھ دور کردوں گا !
جب انہیں سخت محنت اور لگن سے حاصل کی ہوئی تعلیم کے بعد بھی نوکری نہیں ملتی۔ جب انہیں سننے کو ملے کے 5لاکھ روپے لگیں گے اس نوکری کے لئے۔ جب انہیں یہ سننے کو ملتا ہے کہ کوئی سفارش ؟ تو اس پڑھے لکھے نوجوان کے پاس ماں کے آنسوؤں کے سوا کوئی سفارش نہیں ہوتی۔ وہی آنسو جو اس نے بچپن میں ماں کی آنکھوں سے پونچھتے ہوئے کہا تھا: ماں فکر نہ کر۔ مجھے بڑا ہونے دے تیرے سارے دکھ دور کردوں گا۔