حدود کا تعین کر لیا گیا ہے
- منگل 25 / اگست / 2015
- 3937
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں کسی بھی ملکی یا غیر ملکی شخص یا تنظیم کو دہشت گردی کی اجازت نہیں دیں گے ایسے لوگوں کو فوراً پاکستان کی سرزمین چھوڑ دینی چاہئے، دہشت گردی کے خلاف بھاری قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے، عسکریت پسندوں کے خلاف گھیرا تنگ کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا ہے کہ افواج پاکستان اور حکومت ایک ہی پیج پر ہیں۔ انہوں نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی کوششوں کو سراہا۔
جیسا کہ سب جانتے ہیں دہشت گردوں یا عسکریت پسندوں یا شدت پسندوں یا جو بھی ہیں کے خلاف میاں نواز شریف کی حکومت نے ایک زبردست مہم چھیڑ دی ہے۔ یوں تو یہ عسکریت پسند عناصر خود کو مذہبی کہتے ہیں لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ کوئی بھی مذہب کسی بھی طرح کی شدت پسندی یا تشدد کی اجازت نہیں دیتا۔ دنیا کے ہر مذہب نے انسانیت کی اچھائیوں کو اپنانے اور برائیوں سے دور رہنے کا سبق دیا ہے اگر کوئی شخص غلط کام کرتا ہے تو یہ اس کا ذاتی فعل ہو سکتا ہے مگر اس کام کو اس کے مذہب سے نہیں جوڑا جا سکتا یا نہیں جوڑا جانا چاہئے۔ کچھ مذہبی حلقے اس کو ”جہاد“ سے تعبیر کرتے ہیں لیکن آج قومی اوربین الاقوامی سطح پر جو دہشت گردی ہو رہی ہے اس کو جہاد کا نام ہرگز نہیں دیا جا سکتا کہ انتقامی جذبہ یا نظریہ کے تحت معصوم افراد کا قتل جہاد نہیں ہو سکتا۔ جہاد تو ایک ایسی لڑائی (مقدس) ہے جس کے شروع کرنے میں بہت سی شرائط ہیں، کیا یہ جہادیئے ان شرائط کو پورا کر رہے ہیں؟ نہیں ہرگ زنہیں۔ یہ ایک نہایت افسوسناک بات ہے لیکن بدقسمتی سے حقیقت ہے کہ اسلام کی نام لیوا بعض جماعتیں اور تنظیمیں گزشتہ کئی سال سے پاکستان میں تشدد اور نفرت پھیلانے میں ملوث ہیں۔ مسجدوں میں نمازیوں پر فائرنگ اور خودکش حملوں سے لے کر امام بارگاہوں تک ہر جگہ کشت و خون کا بازار گرم کر رکھا ہے ۔
امریکہ میں 9/11 سے پہلے کی حکومتوں نے مذہبی انتہاپسندی، تشدد اور قتل و غارت کے رجحان کے خلاف کوئی زبردست قدم نہیں اٹھایا۔ بے نظیر، نواز شریف اور پرویز مشرف نے گاہے بگاہے وقت بے وقت ان کی مذمت تو کی لیکن ان کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کی۔ اس طرح ان انتہاپسند عناصر کو شہ ملتی گئی۔ 1988 کے بعد پاکستان میں مذہبی گروہوں اور فرقہ واریت کی وجہ سے خون خرابے میں اضافہ ہوتا گیا۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ملک عزیز میں موجودہ مذہبی انتہاپسندی کو مرد غارت گر جنرل ضیا الحق کے دور میں فروغ حاصل ہوا۔ پاکستانیوں کی ایک کثیر تعداد اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے کہ جنرل ضیا الحق جیسا شاطر حکمران پاکستان میں کوئی دوسرا نہیں ہوا۔اس شخص نے ہی مذہبی انتہاپسندی کی بنیاد ڈال کر اپنا الو سیدھا کیا اور ملک وقوم کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ اتفاق سے اسی کے دور میں پاکستان کے پڑوسی ملک ایران میں اسلامی انقلاب آیا جس کے باعث دنیا بھر کے شیعہ حضرات میں ایک نئی بیداری آئی۔ پاکستان میں بھی اس کا اثر پڑنا لازمی تھا۔ چنانچہ ان کے مقابل میں ضیا الحق نے سنی جماعتوں اور مولوی حضرات کو آگے بڑھایا اس طرح اور بھی کئی دیگر اسباب کی وجہ سے پاکستان میں شیعہ سنی تنازعہ کو ہوا دی گئی۔
سوچنے والی بات یہ ہے کہ پاکستان کی سیاست میں مذہبی جماعتوں کا دخل شروع سے ہی رہا ہے جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام، جمعیت علمائے پاکستان وغیرہ نے کئی انتخابات میں بھی حصہ لیا یہ جماعتیں چند نشستیں حاصل کرنے کے باوجود ملک کی سیاست کا حصہ رہیں اور انہوں نے کئی بار بائیں بازو کی جماعتوں سے اتحاد یا انتخابی اتحاد بھی کیا۔ صوبہ سرحد اور بلوچستان میں جمعیت علمائے اسلام نے حکومت سازی بھی کی، جماعت اسلامی بھی اقتدار میں رہی لیکن کل ملا کر ان کی سیاست میں مذہبی رواداری (میں یہاں سیکولرازم کا لفظ دانستہ نہیں لکھ رہا) اور اعتدال پسندی قائم رکھی۔ انہوں نے مخالفوں کے خلاف سیاسی جنگ چھیڑی، مذہبی جنگ یا جہاد جاری نہیں کیا۔ یوں پاکستان میں کلی طورپر مذہبی انتہاپسندی کو ترجیح نہیں دی گئی اور سیاست میں رواداری قائم اور مستحکم رہی۔ اس سے یہ ہوا کہ عام پاکستانی ہمیشہ مذہبی رواداری اور اعتدال پر چلتے رہے اور ایسا بھی ہوا کہ جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام کو عوامی اکثریت نے انتخابات میں شکست دے کر خارج کر دیا۔
واقعہ یہ ہے کہ مولانا مودودی کی قیادت میں 1940 سے 1970 تک کی تیس سالہ جدوجہد کے نتیجہ میں جماعت اسلامی، متحدہ پاکستان میں قومی اسمبلی کی صرف چار نشستیں حاصل کر سکی گو اس کی اہمیت سے انکار نہیں کہ یہ جمہوری سیاست کا حصہ ہے لیکن مذہبی جماعتوں کو وہ مقام نہ ملا جو پیپلز پارٹی، مسلم لیگ، نیشنل عوامی پارٹی یا مہاجر قومی موومنٹ نے حاصل کیا اور اب تحریک انصاف کر چکی ہے۔
یہ بات تو طے ہے کہ اگر موجودہ حکومت سختی سے کام لے تو انتہاپسند گروپوں مذہبی جماعتوں اور فرقوں کے اثر سے ملک کو نجات دلا سکتی ہے۔ دراصل حکومتیں ہی ایسی تنظیموں کو چارہ دیتی ہیں ان کی نشوونما کرتی ہیں پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ اس طرح کی مذہبی انتہاپسند جماعتیں حکومت، اہل اقتدار اور عوام کیلئے درد سر بن جاتی ہیں۔ پاکستان میں ایسا ہی ہو رہا ہے۔ اس میں رتی برابر شک نہیں کہ پاکستان نے جو برسوں پہلے بویا تھا اس کی کٹائی کے بغیر ان دہشت گردی کے مراکز کو یکلخت اور یکسر ختم کر دینا بھی آسان نہیں۔ بدقسمتی اور بدبختی سے یہ مراکز صرف زمین پر ہی نہیں ذہنوں میں بھی بنے ہوئے ہیں۔
مملکت خداداد میں تاریخ کی غلط بیانی و ترجمانی، دروغ گوئی، نفرت سے محبت، فوجی آمریت، فرقہ واریت اور مذہبی انتہاپسندی کبھی کم اور کبھی زیادہ کتابوں تعلیم گاہوں اور میڈیا کی دین بھی ہے اس لئے اس کے خاتمہ کیلئے صرف طاقت کا استعمال کافی نہیں ہے اس بات میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستانی فوج ملک کے شمال مغربی حصوں میں انتہاپسندوں اور دہشت گردوں کیخلاف حقیقی انداز میں جنگ لڑ رہی ہے لیکن ملکی تاریخ میں پہلی بار افواج پاکستان پوری طرح طالبان اور طالبانیت کے خلاف سچ مچ اور سنجیدگی سے نبردآزما ہے اور اس کا واضح اشارہ یہ ہے کہ ”نواز راحیل“ حکومت پر طالبان کے ”جذبہ جہاد“ کی قلعی اور حقیقت کھل چکی ہے۔
وہ جو دھوپ تھی وہ سمٹ گئی وہ جو چاندنی تھی بکھر گئی
مگر ایک جگنو حقیر سا ابھی تیرگی کے خلاف ہے