قاتل ریاست

  • اتوار 30 / اگست / 2015
  • 4488

کالم کے عنوان سے ہی شاید لوگوں کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑے۔  مجھے مکمل طور سے احساس ہے کہ عنوان میں شدت پسندی شامل ہے۔ لیکن ہم صرف لفظوں میں شدت پسندی ظاہر کر سکتے ہیں۔ یا پھر ملک دشمن عناصر وطن عزیز کی جڑیں کھوکھلی کرنے میں شدت پسندی دکھا سکتے ہیں۔ انصاف کی فراہمی میں ریاست ہرگز شدت پسندی نہیں دکھاتی ۔ نہ دکھا پا رہی ہے۔ اب تو سرخ آندھیوں نے بھی اپنا رستہ بدل لیا ہے۔ معاملہ  ایک آدھ ناحق قتل تک محدود نہیں۔  جہاں قتل عام جاری ہو وہاں گواہیاں کہاں سے لائی جائیں۔

انصاف کا ایک نیازی اسمبلی میں واپس جانے کی تیاریوں میں تھا تو انصاف کے دوسرے نیازی کو سپرد خاک کر دیا گیا۔ صد افسوس کے ایوان میں واپس جانے والے نیازی کو بریکنگ نیوز بنا دیا گیا۔ لیکن سپرد خاک ہونے والے نیازی کو جو حقیقی معنوں میں انصاف کا قتل ٹھہرا پس پردہ چلا گیا۔ اخبارات نے دو کالمی خبروں پہ اکتفا کیا تو الیکٹرانک میڈیا پہ چند لمحوں کے ٹکرز کے بعد صورت حال آگے نہ بڑھ سکی ۔ اور ماضی کو سامنے رکھیں تو چند دن بعد لوگ اس واقعے کو بھول کر زندگی میں مگن ہو جائیں گے۔

طاہر خان نیازی کا گھر میں گھس کر قتل  نے صرف ان کی زندگی کا چراغ گل نہیں کیا  بلکہ ہچکیاں لیتے انصاف کو بھی عالم نزع تک پہنچا دیا گیا۔ شنید ہے کہ JIT بنے گی ۔ یا کچھ آگے بڑھ کر کمیشن بھی بنا دیا جائے۔ کیوں کہ ہم کمیشن بنانے میں خود کفیل ہیں۔ بلکہ شاید زائد الکفیل ہیں۔ انصاف کے اس قتل کی ریاست ذمہ دار اس لئے ہے کہ ریاست تب تک حرکت میں نہیں آتی جب تک 150 بچے خون میں نہ نہلا دئے جائیں۔ ریاست اس وقت تک پہلوتہی برتتی رہتی ہے جب تک کم و بیش پندرہ سو ہزارہ کو گاجر مولی کی طرح کاٹ نہ دیا جائے۔ ریاست اس وقت تک مجرمانہ خاموشی سادھے رکھتی ہے جب تک ہر فرقے کی مساجد و امام بارگاہوں کے در و دیوار سرخ نہیں کر دئے جاتے۔

صوبائی وزیر داخلہ ایک منظم شخص اور ایک بہترین انسان تھے۔  انہیں دن دیہاڑے اپنے ہی گھر میں دہشت گردی کا نشانہ بنا دیا گیا۔  اب تک یہ  پتہ بھی نہیں چل پایا کہ حملہ آور ایک تھا یا دو۔ حفاظت کا اتنا بہترین انتظام تھا کہ عینی شاہدین کے بقول حملہ آور نے شجاع خانزادہ سے ہاتھ ملایا اور دھماکہ کر دیا۔ یہ  ملک کے سب سے بڑے  صوبے کی سیکورٹی کا عالم ہے۔ ایک شورش زدہ صوبے کے وزیر داخلہ کی حفاظت بس اللہ کے سپرد تھی۔ چاہے انہوں نے خود سیکیورٹی نہیں لی یا کوئی اور وجوہات تھیں ایک بہادر انسان بہرحال منوں مٹی تلے چلا گیا۔ لیکن دعوے برقرار ہیں ۔ جنگ جیتنے کے بھی اور جنگ لڑنے کے بھی۔

رشید گوڈیل ریاستی نااہلی کی تازہ ترین مثال ہیں۔ وہ زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ سرِ بازاران پر گولیوں کی بوچحاڑ کردی گئی۔  وہ تو قسمت اچھی تھی کہ ان کا مضبوط سینہ گولیوں کا بوجھ جھیل گیا اور سانسوں کی ڈور ابھی بندھی ہے ورنہ اب تک نہ جانے۔۔۔ یہ صرف چند مثالیں ہیں ۔ لکھنے پہ آئیں تو ایسے ایسے واقعات سامنے آتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔

ریاست اس وقت تک خواب غفلت میں رہتی ہے جب تک باوردی جرنیل سڑکوں پر شہید نہ کر دئے جائیں۔ ریاست اس وقت تک اپنی ذمہ داریوں کا بوجھ نہیں اٹھاتی جب تک کسی سابق وزیر اعظم کو ابدی نیند نہ سلا دیا جائے۔ ریاست اس وقت تک پلوں اور سڑکوں کی تعمیر میں ہی مصروف رہتی ہے جب تک کہ نوبت اس نہج پر نہ پہنچ جائے کہ مجرموں کو تختہ دار پر لٹکانے کی جرات کرنے کے بجائے پولیس مقابلوں میں مار دیا جائے۔
ریاست جب جب کمزوری دکھاتی ہے تب تب خونِ انساں ارزاں ہوتا ہے۔

کافی عرصہ گزرا ایک ننھی کلی کا ریپ کر دیا گیا۔ اس پر ایک کالم لکھا جس کا عنوان تھا " پاکستان کا ریپ " اس پر مجھے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ۔ اخبارات نے شائع تک کرنے سے انکار کیا کہ کالم کے عنوان میں اچھا تاثر نہیں دیا گیا تھا۔ مجھے سمجھ نہیں آتی ایک ننھی کلی جس نے کل کو ماں بن کر پاکستان کی نئی نسل کی امین بننا تھا اس کو مسل دینے کو پاکستان کا ریپ نہ گردانا جائے تو کیا کہا جائے؟

جو ریاست اپنے حساس اداروں تک کی حفاظت کرنے سے قاصر ہو، اس ریاست میں طاہر خان نیازی جیسے دلیر جج کو گولی سے بھون دینا بھلا کیونکر آسان نہ ہوتا۔ قاتل حسب معمول دندناتے ہوئے آئے طاہر خان کو گولی ماری اور چلتے بنے وہ بھی بیچ شہر میں۔ نامعلوم افراد آئے۔ نامعلوم گولی انصاف کا خون کر گئی۔

فوجی عدالتوں کے حق میں فیصلہ آنا یقیناً ملکی تاریخ میں ایک اہم واقعہ ہے۔ اعلیٰ عدلیہ بھی ملکی وقار میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔ لیکن نہ تو اعلیٰ عدلیہ تک عام آدمی کی پہنچ ہے نہ ہی فوجی عدالتوں میں غریبوں کی رسائی ہو گی ۔ عام آدمی کی رسائی تو طاہر خان نیازی جیسوں تک ہی ہوتی ہے۔ شو مئی قسمت کہ نچلی عدالتوں میں جج کوئی نیازی جیسا بیٹھا ہو تو عام لوگوں کو بھی جلد انصاف کی امید  ہو جاتی ہے۔ انصاف کی بنیاد نچلی عدالتیں ہیں ۔ منصف انصاف تبھی کرے گا جب اس کا اپنا تحفظ یقینی ہو گا۔  جب ایک جج کو گھر میں گھس کر بآسانی قتل کر دیا جائے اور فرار کی راہ میں کوئی رکاوٹ ، کوئی ناکہ نہ آئے تو زندہ رہ جانے والے جج صاحبان کیسے انصاف کے تقاضے پورے کر سکتے ہیں۔

انصاف کے بغیر معاشرے جنگل بن جاتے ہیں جہاں ہر کسی کا اپنا قانون ہوتا ہے اور اپنی ہی عدالت۔ کیوں کہ جب معاشرے میں صوبوں میں وفاق کی علامت کو قتل کرنے والے ہیرو کا درجہ پا لیں تو پھر انصاف پر فاتحہ ہی پڑھی جا سکتی ہے۔ ایک شخص کو مارنے والا قاتل کہلاتا ہے۔ اسی طرح جو ریاست تحفظ دینے میں ناکام ہو جائے وہ کیوں " قاتل ریاست "  نہیں کہلا سکتی؟