کوئی صورت نظر نہیں آتی۔۔

  • اتوار 30 / اگست / 2015
  • 4628

جس طرح ہر عروج کو زوال ہے۔ اسی طرح کسی نہ کسی نے تو جناب آصف علی زرداری، جن کا نعرہ ہوتا تھا، ’’ ایک زرداری سب سے بھاری ‘‘ کو کنٹرول کرنا ہی تھا۔ این آر او کی گنگا سے نہانے اور پرویز مشرف کو محفوظ راستہ دینے کی یقین دہانیوں کے بعد پیپلزپارٹی اقتدار میں آئی تو اس نے پوری دنیا کو کرپشن کے نئے نئے طریقے بتائے۔

نئے طریقوں کی وضاحت کرنے کی ضرورت نہیں، ہر دوسرا پاکستانی ان سے واقف ہو چکا ہے۔ زرداری صاحب کھلے دل کے آدمی ہیں ، انہوں نے یہ ٹیلنٹ اپنے یا حلقہ احباب تک محدود نہیں رکھا بلکہ پوری قوم کو کرپشن کی لت لگا دی تا کہ اس حمام میں سارے ہی ننگے ہوں۔

خیر اب اس حمام کو بند کرنے کا وقت آ رہا ہے تو ظاہر ہے حمام کے مالک کو تکلیف ہو رہی ہے۔ دکانداری متاثر ہو تو ہر تاجر ہاتھ پاؤں مارتا ہے اور پھر دکانداری بھی ایسی کہ سرمایہ کاری چند کروڑ روپے کی اور آمدنی۔۔۔ اس کے لئے کرپشن اسکینڈلز پر نظر دوڑائیے ، ہر ایک کی مالیت 400،500 ارب روپے سے کم نہیں ہوتی۔ اس سے کم پر تو بات ہی نہیں کی جاتی۔ یہاں تو شبیر ابو طالب جیسے چھوٹے موٹے مولوی ہی 70،80 کروڑ روپے ادھر ادھر کر دیتے ہیں، پھر سیاست دان تو ماشا اللہ، کرپشن ڈگری ہولڈر، بلکہ پی ایچ ڈی ہولڈر۔

ایک دن ڈاکٹر عاصم کو اٹھایا گیا تو اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے یہ بیان دیا کہ زرداری پر ہاتھ ڈالا گیا تو جنگ ہو گی۔ یعنی انہیں پوری طرح ادراک ہو گیا تھا کہ ڈاکٹر عاصم کے بعد زرداری صاحب کا نمبر ہے۔ خورشید شاہ کی تشفی کیلئے اسی رات کے ایم سی کے سابق افسر اور آج کل بہت بڑی شخصیت حضور بخش کلہوڑ کو بھی پکڑ لیا گیا۔ ٹھیک ہے بندے کو تنقید کا جواب دینا چاہئے مگر اتنا سخت بھی نہیں کہ کسی کو بولنے کے قابل ہی نہ چھوڑا جائے۔

اتنے سخت جوابات ملنے کے بعد پیپلز پارٹی نے اپنا غصہ وفاقی حکومت پر اتارنا شروع کیا ہے اور غصے میں یہ اعتراف تو کر لیا ہے کہ گزشتہ دو برس سے وہ فرینڈلی اپوزیشن کا کردار ادا کر رہے تھے مگر اب ایسا نہیں ہو گا۔ پیپلز پارٹی اس وقت حکومت گرانے کی پوزیشن میں تو نہیں البتہ اسے غیر مستحکم ضرور کر سکتی ہے۔ مگر ایسا کرنے کے لئے اس کے پاس صرف ایک صوبہ یعنی سندھ کا پلیٹ فارم موجود ہیں۔ باقی صوبوں اور گلگت بلتستان کے عوام تو پیپلز پارٹی کی“ کرپشن “ سے محفوظ ہو چکے ہیں۔

بات سندھ کے پلیٹ فارم سے آواز اٹھانے کی ہو رہی تھی تو پیپلز پارٹی اس محاذ سے لڑنے کی ہلکی پھلکی کوشش کر رہی ہے۔ مگر اس حوالے سے ایک مجبوری یہ ہے کہ تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اپنی توجہ کراچی اور وزیرستان پر مرکوز کر رکھی ہے۔ اب اگر کراچی میں کوئی ہلچل پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو یہ سندھ حکومت کی اپنی ناکامی تصور ہو گی۔ یعنی اُگلے چین، نہ نگلے چین۔ پیپلز پارٹی تو کرپشن کے خلاف ہونے والی تابڑ توڑ کارروائیوں پر کھل کر رو بھی نہیں سکتی۔ اگر رونا چاہے تو ایم کیو ایم ساس اور سسر جیسے طعنے دینا شروع کر دیتی ہے۔ جیسے سسر ہمیشہ اپنی اہلیہ کو یہی کہتے ہیں کہ تمہیں سمجھایا تھا ایسی بہو مت لاؤ ، مگر تم نے میری ایک نہیں مانی۔

پیپلز پارٹی کے کچھ لوگ اس صورتحال میں پارٹی کا دفاع کرنے کو تیار نہیں۔ وہ میڈیا پر آنے سے گریز کرتے ہیں۔ اس کی ایک تازہ مثال بھی موجود ہے۔ صحافتی حلقے بتاتے ہیں کہ ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری کے روز محترمہ شیری رحمان اور قمر زمان کائرہ کو اعلیٰ قیادت نے پریس کانفرنس کرنے کا حکم دیا تو پہلے انہوں نے انکار کر دیا تھا مگر اعلیٰ قیادت کے اصرار پر دونوں رہنماؤں نے “ مجبوراً “ پریس کانفرنس کی ۔

ویسے اس حوالے سے پیپلز پارٹی سے ایم کیو ایم کی حالت زیادہ اچھی ہے۔ زیر عتاب ہونے کے باوجود ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے ارکان الطاف بھائی کی تمام تقریروں(آپ تقریر کی جگہ اپنی مرضی کا لفظ استعمال کر سکتے ہیں) کا دفاع کرتے ہیں۔ اب اسے پارٹی ڈسپلن کہیں، جان کا خوف یا کوئی اور مجبوری لیکن بہر حال الطاف بھائی کی ہر ذمہ دارانہ یا غیر ذمہ دارانہ بات پر رابطہ کمیٹی صفائیاں ضرور پیش کرتی ہے۔

پیپلز پارٹی کی حکمت عملی یا مجبوریوں کو دیکھ کر غالب کا ایک شعریاد آتا ہے:
کوئی امید بر نہیں آتی کوئی صورت نظر نہیں آتی
موت کا ایک دن معین ہے نیند کیوں رات بھر نہیں آتی