” دل پشوری “

  • سوموار 31 / اگست / 2015
  • 9828

یہ نیو میکسیکو کی عام سی نیم صحرائی شام تھی۔ ڈاکٹر چیمہ صاحب کا فون آیا۔ کہنے لگے کل شام کا کیا پروگرام ہے۔ ہم نے عرض کی کوئی خاص تو نہیں۔ تو کہنے لگے تو پھر یہیں آ جائیں۔ شام کا کھانا بھی ہو جائے گا اور آپ کو اپنے دوست سے ملائیں گے جو میری لینڈ سے آئے ہوئے ہیں۔

بات ڈاکٹر صاحب سے ہو رہی تھی اور کام و ذہن بھابی ساحرہ کے دست لذیذ کا طواف کر رہا تھا۔ ہم نے بے خطر ڈاکٹر چیمہ کی دعوت قبول کر لی۔

میری لینڈ سے آنے والے مہمان کی تواضع خالص نیو میکسیکو آداب سے شروع ہوئی۔ بھابی ساحرہ نے ” ٹوٹوپوسی “ کا طشت لا کر میز پر رکھ دیا اور گفتگو کا آغاز ہؤا تو دل چلا اٹھا۔ ’ اے میرے شہر عرب میں تیرے واری جاﺅں ‘۔  ڈاکٹر شاہین یوسف میری لینڈ سے آنے والے خانہ دل کے مکین نکلے۔ کہنے لگے انہوں نے اسلامیہ کالج پشاور سے تعلیم حاصل کی اور پھر خیبر میڈیکل کالج سے ڈگری لی ۔ پھر کہنے لگے آپ پشاور سے ہیں اور شعر و ادب سے علاقہ رکھتے ہیں۔ آپ کی اطلاع کے لئے یہ بھی عرض کر دیں کہ FSC میں ان کے اردو پروفیسر احمد فرااز تھے:

لوگ کہتے ہیں تم ہی رونق محفل ہو فراز
گو تعلی ہے مگر بات خدا لگتی ہے

پشاور اسلامیہ کالج اور احمد فراز نام کے ساتھ ساتھ یادوں کے دریچے یک بیک وا ہونے لگے۔ ہمیں طالب علمی کے زمانے کی شامیں یاد آنے لگیں۔ ان یادوں کے بھنور میں جگمگاتے بے داغ چہرے ابھرنے لگے جن میں فراز، محسن احسان، فارغ بخاری، خاطر غزنوی، رضا ہمدانی، قلندر مومند، جوہرمیر، تاج سعید، نثار احمد شیخ اور جانے کیسے کیسے دلربا چہرے اندھیروں اجالوں میں رقصاں زینہ بہ زینہ ابھرنے لگے۔

” ایں نشہ آید سینہ بہ سینہ “

یادوں کی بارات ہمارے چاروں طرف رقصاں تھی کہ ڈاکٹر شاہین نے ایک اور پھلجھڑی چھوڑی کہ ” خیبر میڈیکل کالج میں ہمارے پروفیسر ڈاکٹر امجد حسین تھے“۔

ہم بھرے شہروں میں بھی تنہا ہیں جانے کس طرح
لوگ ویرانوں میں کر لیتے ہیں پیدا آشنا

ڈاکٹر چیمہ صاحب نے مزید تعارف کرایا کہ ڈاکٹر امجد ہمارے قریبی اور مہربان دوست ہیں۔ ڈاکٹر شاہین احترام سے کھڑے ہو گئے ہمارے ساتھ ہاتھ ملایا اور کہنے لگے ’ ہمیں افرادیت کا درس دینے والے ڈاکٹر امجد حسین تھے۔ ہم ان کے بے حد مداح ہیں‘۔ ہم نے عرض کی کہ آپ ڈاکٹر سید امجد حسین کو تو مانتے ہیں لیکن شاید آپ ” بابائے پشاور“ کو نہیں جانتے جو پشاور کا پرستار ہے اور اس کی محبت میں گرفتار ہے۔ ہماری برسوں کی رفاقت ان سے ان کی ڈاکٹری کی وجہ سے کم اور ” پشاور ولی“ کی وجہ سے زیادہ ہے۔ وہ ہمارے درویشوں کی ٹولی کے معتبر درویش ہیں۔ یہ ان آشفتہ سر درویشوں کی ٹولی ہے جس میں محسن احسان (مرحوم) ڈاکٹر ظہور اعوان (مرحوم) سید امجد حسین، عتیق احمد صدیقی، جوہرمیر (مرحوم) اور ہم شامل ہیں۔ ہم سدا اس جستجو میں رہتے ہیں کہ اس سال کب اور کہاں حلقہ درویشاں مل کر دھونی رمائیں۔ ” گرو جی“  ڈاکٹر ستیہ پال آنند کو بھی بلائیں۔ اور جب ہم کسی مقام پر مل بیٹھتے ہیں تو ایک اور درویش اپنی ساری روایات کے ساتھ محفل درویشاں میں شام ہو جاتا ہے اور وہ ہے پشاوربنفس نفیس۔

دوسرے دن ڈاکٹر چیمہ صاحب نے جھیل پر پکنک منانے کا مژدہ سنایا۔ پکنک پر ساحرہ کا حسن انتظام دیکھ کر ایک بار پھر ششدر رہ گئے۔ وہ اپنے ساتھ کیا کیا نہ لائیں تھیں۔ انگریزی میں اسے کہتے ہیں "Frow soup & nuts"جھیل کنارے خاصی چہل پہل تھی۔ لوگ چھوٹی چھوٹی کشتیوں کو چپو سے کھے رہے تھے۔ بچے پانی اچھال رہے تھے، کچھ گناہ گار بے گناہ مچھلیوں کا شکار کر رہے تھے۔ کچھ لمبی لمبی پک نک میز پر منہ پر ہیٹ رکھے خراٹے لے رہے تھے۔

ڈاکٹر شاہین کہنے لگے جس نے ایک بار پشاور دیکھ لیا وہ اسی کا ہو رہا ہے۔ ہم نے کہا: ’ آپ کو پشاور کی دل پر کندہ ہونے والی کون سی بات لگی‘۔ برملا بولے: ’ لوگ، پشاوری۔ محبت کرنے والے، وضع دار، روایت پرست، روایت کے علمبردار، پشاور منفرد شہر ہے، اس کی وجہ شاید یہ بھی ہو کہ وہ درہ خیبر کی عظیم تاریخ کا علمبردار ہے:

اسی رستے سے جو کرہن اور اہل تتار آئے
کئی خانہ خراب آئے، کئی آباد کار آئے
یہ ہے وہ خارزار اس میں ہزاروں آبلے پھوٹے
نہیں ٹوٹے مگر وہ سنگ دل کانٹے نہیں ٹوٹے

ڈاکٹر شاہین ڈیگری گارڈن میں رہتے تھے۔ کہتے ہیں رہائش ڈیگری میں تھی۔ ذہن پشاور یونیورسٹی میں تھا اور دل قصہ خوانی میں۔

ہم نے انہیں بتایا کہ ڈاکٹر امجد صاحب اب بھی پشاور کی پرانی گلیوں میں اپنے قدیم مکان میں رہتے ہیں۔ محسن احسان کی تبدیلی چارسدہ کالج میں ہو گئی۔ وہ روزانہ بس لے کر چارسدہ جاتے تھے۔ کالج کی انتظامیہ نے محسن صاحب سے کہا کہ ان کی رہائش کا بندوبست چارسدہ میں کیا جا سکتا ہے۔ لیکن محسن صاحب نے انکار کر دیا اور کہا کہ اگر میں شام کو قصہ خوانی کو نہ دیکھ لوں تو میرا دن مکمل نہیں ہوتا۔ مجھے نیند نہیں آتی۔

ہم سوچتے ہیں کہ ڈاکٹر شاہین یوسف سے نیو میکسیکو میں ملاقات کرنا دل پشوری کرنا نہ ہؤا تو کیا ہؤا؟

جہان لوح و قلم کے مسافران جلیل
ہم اہل دشت پشاور سلام کہتے ہیں
دلوں کا قرب کہیں فاصلوں سے مٹتا ہے
یہ حرف شوق بصد احترام کہتے ہیں