بچوں میں جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح

  • سوموار 31 / اگست / 2015
  • 4874

پچیس اگست 2015 دہلی کے تقریباً تمام اخبارات میں یہ افسوسناک خبر شائع ہوئی کہ نویں کلاس کے ایک پندرہ سالہ طالب علم ،شبھم جندل جو کرشنا ماڈل اسکول میں زیر تعلیم تھے، کو ان کی کلاس کے دو ساتھیوں نے لکٹری کے ڈنڈے سے سر پر لگاتار وار کرکے شدید زخمی کر دیا جس کے نتیجہ میں نجوان کا انتقال ہو گیا۔شبھم اور اس کے ساتھیوں کے درمیان پہلے بھی کئی مرتبہ جھگڑا ہو چکا تھا اور بارہا وہ اُسے زدکوب کر تے رہے تھے۔شبھم چونکہ پڑھنے میں تیز تھا لہذا اس کے ساتھی اس سے حسد رکھتے تھے اور مختلف بہانوں سے اس کے ساتھ چھیڑ خانی ولڑائی جھگڑا کیا کرتے تھے۔ اس طرح کی افسوسناک خبریں آئے دن سامنے آتی ہی رہتی ہیں۔ یعنی کم عمر جرم بھی کرتے ہیں اور خود بھی ظلم و زیادتیوں کا شکار ہوتے ہیں۔

گزشتہ پانچ سالوں میں ہندوستان میں بچیوں کے ساتھ زیادتی کے معاملات 151 فیصد بڑھے ہیں۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعداد و شمار کی روشنی میں 2010 میں درج شدہ 5,484 معاملات بڑھ کر 2014 میں 13,766ہو چکے ہیں۔ بچوں کے استحصال کے معاملات ملک بھر میں 8,904درج کئے گئے ہیں۔ این سی آر بی کی روشنی میں ہندوستانی پینل کوڈ کی دفعہ 354 کے تحت بچیوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور عصمت دری کے ارادے سے کئے گئے حملے کے واقعات11,335 درج کئے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کم عمر بچوں کے ساتھ مختلف قسم کے جرائم میں اضافہ ہورہا ہے۔ گزشتہ چار سالوں میں بچیوں کے ساتھ زیادتیوں کے اضافہ کی عموماً دو وجوہات بیان کی جا تی ہیں۔i ) خوف ،ڈر اور بدنامی کی وجہ سے شکایت درج نہیں کروائی جاتی ii) نئے قانون کا نفاذ ۔
صورتحال کے پس منظر میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ بچوں کے ساتھ ہونے والے یا بچوں کے ذریعہ انجام پانے والے جرائم کی وجوہات کیا ہیں؟ سوال کے دو الگ الگ پہلو ہیں،جن کا اگر بغور مطالعہ نہ کیا جائے تو نتائج تک پہنچنا مشکل ہوگا۔فی الوقت ہم بچوں کے ذریعہ انجام دئے جانے والے جرائم کا تذکرہ کریں گے۔ ساتھ ہی ان وجوہات کو بھی جاننے کی کوشش کریں گے جن کے سبب یہ جرائم انجام دئے جا تے ہیں۔

ہندوستان میں لازمی تعلیم کا ایکٹ نافذ ہونے کے باوجودتقریبا ایک کروڑ بچے مزدور ہیں جن کی زندگی استحصال پر مبنی ہے۔ساتھ ہی ملک کے تمام شہروں میں بڑی تعداد میں سڑکوں پر بے یارومددگار زندگی گزارنے والے بچے بچیاں موجود ہیں جنہیں بھیک مانگنے کے پیشہ سے باضابطہ وابستہ کیا جاتا ہے۔ ملک میں لاپتہ بچوں کی بھی ایک بڑی تعداد پائی جاتی ہے۔یہ لاپتہ بچے و بچیاں سرگرم گروہوں کے ذریعہ اغوا کئے جاتے ہیں، جن کی تعداد تقریباً ہر سال ایک لاکھ سے زائد ہوتی ہے۔ اغوا شدہ بچوں کے حوالے سے سپریم کورٹ آف انڈیا نے پولیس سے کہا ہے کہ وہ مسئلہ کے حل میں منصوبہ بندی کرے اور منظم انداز میں سرگرم ہو۔ لیکن معاملہ حل ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔آپ اور ہم باخوبی جانتے ہیں کہ ان اغوا شدہ، لاپتہ بچوں سے کہیں جبراً مزدوری کروائی جاتی ہے تو کہیں بھیک منگوائی جاتی ہے ۔ نیز حد درجہ غیر اخلاقی حرکتوں میں بھی ان بچوں کو ملوث کیاجاتا ہے۔ چونکہ وہ ایک طرح سے قید میں ہیں لہذا وہ یہ سب کرنے پر مجبور ہیں۔دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ انتظامیہ بے حد سستی سے کام لیتی ہے۔نتیجتاً ہر دن جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے۔

بچوں کے استحصال کے ذریعہ انجام دئے جانے والے جرائم کی وجہ سماج کا ٹوٹتا بکھرتا خاندانی نظام بھی ہے۔ ماں باپ اور بچوں کے درمیان الفت و محبت کا ماحول ختم ہو رہاہے۔جس کے نتیجہ میں ہمدردری و تربیت کا وہ ادارہ پروان نہیں پاتا جس کی ذمہ داری ماں باپ پر عائد ہوتی ہے۔نیز ان دوروّیوں کا سبب وہ شہری ماحول بھی ہے جہاں عموماً ماں اور باپ دونوں ہی نوکری پیشہ ہوتے ہیں۔اس نوکری پیشہ ہونے کی بنیادی وجہ بھی ان کے نزدیک یہی ہوتی ہے کہ وسائل کی فراوانی یا آسودگی کے ذریعے بچوں کی تعلیم و تربیت بہتر ہو سکے گی۔ اس کے برعکس دیکھنے میں یہی آیا ہے کہ معاشی طور پر مستحکم بچے و نوجوان عموماً جرائم میں زیادہ ملوث ہوتے ہیں ۔ساتھ ہی وہ زندگی کے اُن حقیقی مسائل سے بیگانہ ہوتے ہیں جو شخصیت کے ارتقاء کا لازمی جزو ہے۔یہی سبب ہے کہ لاشعوری زندگی گزارتے ہوئے پہلے وہ اخلاقی آوارگیوں میں مبتلا ہوتے ہیں اور بعد میں غیر محسوس انداز سے جرائم کی دنیا میں قدم رکھ دیتے ہیں۔نتیجتاً بچوں کے ذریعہ انجام دئے جانے والے جرائم کہیں انفرادی تو کہیں اجتماعی،اورکہیں منظم تو کہیں غیر منظم سامنے آتے ہیں۔

دہلی کا نربھیا معاملہ ہو یا شبھم کا قتل ، یہ دونوں ہی معاملے اجتماعی بھی ہیں اور منظم بھی۔ بچوں کے ذریعہ اجتماعی اور منظم انداز میں جرائم انجام دیے جارہے ہوں تو یہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ خاندان ومعاشرہ اندر سے حد درجہ کمزور پڑ چکا ہے۔ یہ ایک تشویشناک صورتحال ہے۔ایک ایسی تشویشناک صورتحال جہاں نہ خاندان مثالی پایا جاتا ہے ،نہ معاشرہ اورنہ ہی بچوں کے لئے ماں باپ کا وہ کردار موجود ہے جس کی روشنی میں وہ تربیت پا سکیں۔تربیت صرف قول ہی سے نہیں ہوتی بلکہ اس چھوٹے وبڑے عمل کو دیکھ کر بھی ہوتی ہے،جو ان کے سامنے انجام دیا جا رہا ہے۔اور یہ ایک مستقل عمل ہے جو غیر محسوس انداز میں ہمہ وقت جاری رہتا ہے۔لہذا ایسے ماں باپ جو اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کرتے،کردار کے لحاظ سے نہایت کمزور ہوتے ہیں،مزید وہ بد اخلاقیوں میں ملوث ہوتے ہیں۔ایسے ماں باپ خود بھی چاہتے ہیں کہ وہ بچوں سے دور رہیں تو بچے بھی ماں باپ سے دوری اختیار کرلیتے ہیں۔ دوہرے کردار والے ماں باپ کی بداخلاقیاں جب بچوں پر ظاہر ہونا شروع ہوتی ہیں تو وہ بچے یا توخود ہی ماں باپ سے مکمل علیحدگی اختیار کرلیتے ہیں یا ایسے ظالم ماں باپ بھی سامنے آتے ہیں جو اپنی بداخلاقیوں کے نشے میں اپنے ہی بچوں کا قتل کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔یہ خبریں بھی ہم وقتاً فوقتاً سنتے رہتے ہیں،کہ فلاں نے اپنی بیٹی کا قتل کر دیا ۔کہیں قتل کی وجہ بیٹی کی اخلاق سوز حرکت ہوتی ہے تو کہیں ماں اپنی اخلاق سوزحرکت کو چھپانے کے لئے ایسا کرتی ہے۔مزید یہ کہ ہندوستانی معاشرہ جس تیز رفتاری کے ساتھ " ترقی یافتہ قوموں " کے نقشہ قدم پر آگے بڑھ رہا ہے،اس میں لاوارث و ناجائز بچے و بچیاں اوران کے معاشرتی مسائل بھی جرائم کے فروغ سبب بن رہے ہیں۔

اس صورت حال میں ہندوستانی مسلمان اپنے مذہب کی روشنی میں ایسی زندہ مثالیں فراہم کریں جس سے معصیت سے پاک وہ معاشرہ فروغ پاسکے۔ اس قسم کی مثالیں تشویشناک صورتحال سے نکلنے میں آسانی پیدا کریں گی اورملک کی تعمیر و ترقی میں بھی مددگار ثابت ہوں گی۔