راحیل شریف کا “ شوکت عزیز“

  • سوموار 31 / اگست / 2015
  • 4838

کہا جا رہا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف ایک ہی پیج پر ہیں۔ یعنی ملکی مسائل کی نشاندہی اور انکے حل کے لئے ان میں عمومی اتفاق پایا جاتا ہے۔ بظاہر یہ بات سچ معلوم ہوتی ہے۔ ملک کی دونوں مقتدراعلی شخصیات کے درمیان اکثر اورباقاعدہ ملاقاتوں سے شائد یہی تاثر ملتا ہے۔

وزیراعظم نوازشریف اور جنرل راحیل شریف کی ملاقاتوں میں طے پانے والے پالیسی امور وفاقی کابینہ سے بالاتر طے پا جاتے ہیں۔ اب تو وزیر اعظم نواز شریف کابینہ کا اجلاس بلانے کا تکلف بھی گوارہ نہیں کرتے۔ ملک کے داخلی امور جن میں دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشن ضرب عضب، کراچی میں جاری اپریشن اورعمومی امن و امان کے اقدامات کو وفاقی “ ایپکس کمیٹی “ میں زیر بحث لانے کی رسمی کاروائی کو ہی کافی سمجھا جاتا ہے۔

یہ تصور اپنی جگہ تقویت پکڑ چکا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ، قومی سلامتی اورخارجہ پالیسی سے متعلقہ پالیسی امور تو بہرحال وفاقی کابینہ کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں۔ پارلیمنٹ میں قومی سلامتی کے مسائل کو زیر بحث لانا یا پارلیمنٹ کا مشورہ طلب کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔

کیا پاکستان کی جمہوریت، پارلیمنٹ اور جمہوری ادارے پسپائی اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ کیا نواز شریف جنرل راحیل شریف کے “ شوکت عزیز “ بن چکے ہیں۔ کیا ملٹری اسٹبلشمنٹ کا قومی معاملات کی پالیسی سازی میں کلیدی اختیار حاصل کر لینا جمہوریت اور جمہوری سول اداروں کی آئینی و قانونی اختیارات سے عملی دستبرداری سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ اگر ریاستی معاملات اسی طرح چلائے جاتے رہے تو کیا ملک کو کبھی سیاسی، اقتصادی اور سماجی استحکام نصیب ہو پائے گا۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ روش جمہوری اقدار کی پامالی کرتے کرتے جمہوری نظام کی بساط تو نہیں الٹ دے گئی۔

نوازحکومت ملکی اقتدار پر سول مٹری پارٹنرشپ کی ایسی تصویر پیش کرتی ہے جس میں ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا پلڑا دن بدن بھاری ہوتا جا رہا ہے۔ کابینہ اپنی اہمیت تقریبا کھو چکی ہے۔ اہم وزارتوں پر فائز وزرا بے اختیار اور دکھاوے کی حد تک وزیر ہیں۔ پارلیمنٹ محض اقتدار برقرار رکھنے کے آئینی وسیلہ اور روز مرہ کے عمومی معاملات نمٹانے کےعلاوہ اختیارات سے محروم ادارہ کی صورت پیش کرتی نظر آرہی ہے۔ چند استثنیات کےعلاوہ نواز حکومت عملاً مشرف دور کی جمالی اور شوکت عزیز کی نام نہاد “ جمہوری “ حکومتوں کے ادوار کا نقشہ پیش کررہی ہے۔ جمہوری اور سول اداروں کی بالادستی قائم کرنے کے نواز شریف کے تمام تر دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔

مودی حکومت کی مخاصمانہ اور مذاکرات سے اجتناب کی پالیسی کی وجہ سے نوازشریف کی ہندوستان کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے کی سوچ کو عملی جامہ پہنانا ممکن نیہں رہا۔ اور ساتھ ہی افغانستان سے کشیدگی جلد ختم ہوتی نظر نیہں آرہی۔ ان حالات میں ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے لئے قومی سلامتی کی روایتی پالیسی کو جاری رکھنے میں کسی دشوای کا سامنا نہیں ہے۔ عمران خان کی احتجاجی اور حکومت سے ٹکراؤ کی حکمت عملی نے بھی نواز حکومت کی اسٹیبلشمنٹ کی بالادستی تسلیم کرنے کے لئے راہ ہموار کی ہے۔  

سابق صدر آصف علی زردای نے آج ایک بیان میں پی پی پی کے خلاف ناجائز انتقامی کاروائی کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف نوے کی دہائی کی سیاسی محاذ آرئی کی طرف پلٹ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا اس محاذ آرئی کے بھیانک نتایج نکلیں گے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بیان پی پی پی کا نواز لیگی حکومت کے ساتھ مفاہمت کی سیاست ترک کرنے کا اعلان سمھجا جانا چاہئیے۔ تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا پی پی پی اب نواز حکومت کو ٹف ٹائم دینے کی پالیسی اختیار کرے گی۔ بلاول بھٹو پہلے ہی پنجاب میں پارٹی امور نمٹانے میں مصروف ہیں۔ یہ کہنا شائد مناسب ہوگا کہ حکومت کے خلاف احتجاجی لہجہ پی پی پی کو نئی زندگی دینے کا موقعہ بن سکتا ہے۔  

پی ٹی آئی کی احتجاجی سیاست کے ساتھ اگر پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم بھی اسمبلیوں سے باہر اور اندر احتجاجی سیاست کا راستہ اپنا تی ہیں تو نواز حکومت کے ساتھ ساتھ جمہوریت کا مستقبل مخدوش ہونے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ پاکستان میں فوجی آمریت کے دلدادہ بعض نام نہاد سیاستدان، سابق فوجی و سول افسران اور میڈیا میں اسٹیبلشمنٹ کے نام نہاد ترجمان یک زبان ہو کر ملکی صورت حال کا ایسا نقشہ پیش کر رہے ہیں جس سے جمہوری حکومت کے خاتمے اور فوجی آمریت کی راہ ہموار ہو سکے۔

پاکستان میں چار فوجی آمروں کوخوشآمدید کہنے والے مفادپرست عناصر اگر کم نہ تھے تو یہ بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ فوجی آمروں کو یہ خوشامدی اور مفادپرست عناصرعوام کی نفرت اورغیظ و غضب سے نہ بچا پائے۔ اگر عوام جمہوری حکومتوں کی کارکردگی پرعدم اعتماد کر کےان سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو فوجی آمروں کا انجام بھی رسوائیوں سے بھرپور اور عبرتناک رہا ہے۔

ایوب، ضیا اور مشرف کی طویل فوجی آمریتیں عوام کی زندگیوں میں خوشحالی لانے میں ناکام رہیں۔ اور ملک کو ٹھوس ترقی کی سمت پر نہ ڈال سکیں۔ مالی کرپشن، انتظامی نااہلی اور بد انتظامی ان کا طرہ امتیاز رہا۔ فوجی آمریتوں سے سیاسی بحران گہرا ہوتا گیا۔ سول اداروں میں عدم استحکام، نااہلیت اور عوام دشمنی کا رجحان پرورش پاتا رہا۔ 

آمریت کے حامی عناصر آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو قوم کا واحد نجات دہندہ بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ نواز حکومت کی ناکامیوں کو بنیاد بنا کر ملک میں میڈیا کے ذریعے ایسی فضا بنائی جارہی ہے کہ حکومت ملک کو درپیش اندرونی اور بیرونی خطرات سے نپٹنے میں ناکام ہو چکی ہے اور اس کا واحد حل یہ ہے کہ جنرل راحیل شریف آگے بڑھ کر عنان اقتدار سنبھال کر ملک کو درپیش خطرات سے نجات دلائیں۔  جنرل راحیل شریف ملکی تاریخ سے بخوبی آگاہ ہو نگے اور چار فوجی آمروں کے عبرتناک انجام سے بھی باخبر ہونگے۔ انہیں یہ علم بھی ہو گا کہ خوشامدی اور مفادپرست عناصر مشکل بحرانی وقت میں گرتی ہوئی آمریت کو سہارا دینے کے لئے کندھا  دینے کے قابل نہیں ہوتے۔

آج جنرل راحیل شریف اور مسلح افواج کا احترام اس لئے ہے کہ ابھی تک انکے جمہوری حکومت ختم کرنے کے کوئی عزائم نظر نہیں آئے۔ با خبرتجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے براہ راست اقتدار پرشب خون مارنے کی بجائے سول حکومت کو اقتدار میں بحال رکھتے ہوئے اپنی متعین کردہ پالیسوں پرعملدرآمد یقینی بنانے کا طریقہ کار اپنانے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔ مگر اقتدار کے بھوکے بعض مفادپرست سیاستدان، بعض سابق جرنیل، ریٹائرڈ سول افسران اور میڈیا میں بیٹھے اسیبلشمنٹ کے خودساختہ ترجمان، اس پرمطمئن نہیں ہوسکتے۔ یہ عناصر جمہوری سول حکومت کے خاتمہ سے کم پر مطمئن نہیں ہوں گے۔

پاکستان کی نوزایئدہ، غیر مستحکم اور کمزورجمہوریت بحرانوں کے گرداب میں گھری ہوئی ہے۔ یہ نواز حکومت اوراپوزیشن سیاسی جماعتوں کی سیاسی مہارت کے امتحان کے دن ہیں۔ مگر سب سے بڑا اور تاریخی امتحان آرمی چیف جنرل راحیل شریف کا ہے کہ وہ ملک کو آئینی اور جمہوری راستے پر گامزن دیکھنا چاہتے ہیں یا ڈکٹیڑشپ کے منحوس سائے ملک اور عوام کا ایک بار پھر مقدر بنتے ہیں۔