ضرب عضب اور مسئلہ کشمیر

  • منگل 01 / ستمبر / 2015
  • 4714

پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات ایک بارپھر شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہوگئے ہیں۔ بھارت کی خواہش ہے کہ پاکستان کسی نہ کسی بہانے سے کشمیر کے معاملے سے دستبردار ہوجائے۔  گزشتہ دوماہ میں بھارت کی جانب سے پاکستان میں مسلسل لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری کی خلاف وزری کی جارہی ہے۔ پاکستان مذاکرات کے ذریعے اس اتعال انگیزی کو ختم کرنا چاہتا ہے۔

بھارت 68 برسوں سے مسلمانوں کے خلاف ظلم اور بربریت کی تاریخ رقم کررہاہے۔ بھارت کے وزیراعظم متحدہ عرب امارات سمیت جہاں جہاں دورے کررہے ہیں، وہاں  وہ پاکستان کے خلاف زہر اگل رہے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاک فوج نے آپریشن ضرب عضب میں دہشت گردی کے خلاف کامیابیاں سمیٹی ہیں۔ اس عمل سے جہاں دہشت گردی کی کمر ٹوٹی ہے وہاں ہمارے پڑوسی ملک کو بھی بہت تکلیف کا سامناہے۔

گزشتہ دنوں سے دہشت گردی کے عفریت نے ایک بار سر اٹھانے کی کوشش کی ہے۔ پنجاب کے وزیرداخلہ شجاع خانزادہ اور متحدہ قومی مومنٹ کے رہنما  رشید گوڈیل پر حملہ ان شر پسند کارروائیوں میں سرفہرست ہے۔ دہشت گردی کی اس لہر میں معاملہ سویلین ٹارگٹس تک محدود نہیں رہا بلکہ شوال میں ہونے والی دہشت گردی سے پاکستان کے اعلیٰ سطح کے فوجیوں کی شہادت بہت بڑا قومی المیہ ہے۔

پاک فوج کے سپہ سالارجنرل راحیل شریف اوربرسراقتدار جماعت مسلم لیگ نواز کی جانب سے دہشت گردوں کوسخت پیغام دیا گیاہے۔  افواج پاکستان نے تہیہ کر رکھا ہے کہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملے کرکے ان کے منصوبوں کو خاک میں ملانا ہے۔  ہماری آرمی کی جانب سے جوابی کارروائی سے دہشت گردوں کے تربیتی کیمپوں کو ملبے کا ڈھیر بنادیاگیاہے۔ علاوہ ازیں وزیراعظم پاکستان اور آرمی چیف کا حالیہ دورہ کراچی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

انہیں دنوں ہمارے مشیر خارجہ کے دورہ بھارت سے متعلق بہت سی خبریں ٹی وی چینلوں میں گردش کررہی ہیں۔ پاکستان کی حکومت نے کشمیر کے معاملے میں بھارتی شرائط پر سودے بازی سے انکار کر دیا ہے۔ اس طرح  ہماری سول قیادت نے نہ صرف پوری قوم کا دل جیتا ہے بلکہ اس فیصلے سے کشمیری عوام اور حریت رہنماؤں کے جزبوں کو بھی تقویت ملی ہے۔ کشمیریوں نے بھی پاکستان سے وابستگی اور لگاؤکا بارہا مظاہرہ کیا ہے۔ کشمیریوں نے اس سال بھی بھارت کے یوم جمہوریہ پر ہڑتالیں کی اور پاکستان کا پرچم لہرا کر اپنی محبت کا ثبوت دیاہے۔

کشمیر کی آزادی کی عظیم جدوجہد اور حریت رہنماؤں کی نظربندی سے کافی تشویش پائی جاتی ہے۔ مگر یہ کوئی نئی بات بھی نہیں ہے۔ کشمیرمیں رہنماؤں کی گرفتاریاں اور بھارت کے مظالم کو نصف صدی بیت چکی ہے۔ ہزاروں کشمیریوں کے قتل اور انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کے باوجود کشمیری اپنے مؤقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔  بھارت کو یہ رویہ ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ اس نے اپنی آدھی فوج کوکشمیر میں دن رات گشت پر لگارکھا ہے۔

ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان کے تحت جاری آپریشن میں دہشت گردی کی کمر ٹوٹنے سے جس ملک کو سب سے زیادہ تکلیف ہوئی وہ بھارت ہے جس کا ثبوت بہت واضح ہے۔ پاکستان کے سرحدی علاقوں پر بھارت نے اپنی دراندازیوں کو انہیں دنوں سے تیز کیا ہؤا ہے۔  بھارت فائربندی اورکنٹرول لائن کی مسلسل خلاف ورزی کررہاہے۔ بھارت ایک طویل عرصہ سے کنٹرول لائن پر دونوں ممالک کے درمیان معاہدوں کی خلاف ورزی کررہاہے۔ پاکستان میں جب کبھی دہشت گردی کے خلاف  کسی بڑی کامیابی کی اطلاع ملتی ہے، اسی دن بھارت کی جانب سے ہمارے سرحدی علاقوں اور بعض اوقات شہری آبادیوں پر حملے کی اطلاع بھی سننے کو ملتی ہے۔

پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں  پچاس ہزار سے زائد شہریوں کی جانوں کا نذارنہ پیش کیا ہے۔ ان میں  سویلین اور پاک فوج کے جوانوں یکساں طور سے شامل ہیں۔  پاکستان ایک طویل عرصہ سے حالت جنگ میں ہے۔ پاکستان میں بھارت کی جانب سے مداخلت کا معاملہ پاکستان کو اعلیٰ سطح پر اٹھانا چاہئیے۔ اس کوشش کو ہرگز پس پشت نہیں ڈالنا چاہئیے۔ یوں تو بھارت کی جانب سے جاری اشتعال انگیزیوں کوپوری دنیا ہی جانتی ہے۔ اس سے قبل بھی کئی بار اقوام متحدہ میں ان مسائل کو اٹھایا گیا ہے۔ وہاں  تشویش ظاہر کرنے کے سوا  کوئی فیصلہ نہیں ہاتا۔ 

بھارت کو اپنی طاقت پر اس قدر گھمنڈ ہے کہ وہ پاکستان کی جانب سے کسی بھی شکایت کو خاطر میں نہیں لاتا۔ اس کا جب دل کرتا ہے وہ پاکستان کے شہری علاقوں کو نشانہ بنانا شروع کردیتاہے۔ ان حالات میں  پاکستان کو اپنی سفارت کاری کو مظبوط بناتے ہوئے پوری دنیا میں بھارت کا سامراجی چہرہ بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے۔  پاکستان میں بے شمار ایسے لکھنے والے ہیں جن کی تجزیئے بین الاقوامی سطح پر پڑھے جاتے ہیں اور انہیں اہمیت دی جاتی ہے۔ ایسے بااثر لکھنے والوں سے بھی درخواست ہے کہ وہ  بھارت کی ہٹ دھرمی اور ظلم کا پردہ فاش کریں۔ اسی طرح عالمی سطح پر بھارتی اثر و رسوخ کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔