خوشنما زہر
- بدھ 02 / ستمبر / 2015
- 4742
محترمہ عائشہ ممتاز کے اقدامات پہ ہر کوئی انگشت بدندان تھا ۔ حیرانگی کی بات یہ تھی کہ کس طرح ایک اتھارٹی کی سربراہ وہ بھی ایک خاتون اور تابڑ توڑ مافیاز کے خلاف سرگرم ہے۔ پھر حیرانی ختم ہو گئی ۔ یہ سن کر حیرانی کے ساتھ خوشی بھی ہوئی کہ وہ معروف مزاحیہ اداکار رنگیلا کی صاحبزادی ہیں۔
ایک دفعہ مرحوم رنگیلا نے کسی پروگرام میں کہا تھا کہ جب میری اداکاری سے لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ ابھرتی ہے تو میں دل میں سکون محسوس کرتا ہوں۔ پاکستانی شو بز میں معدودے چند اداکار ہی ایسے ہیں جو تنازعات سے پاک ہیں۔ جیسے قوی خان، طارق عزیز، مستنصر حسین تارڑ وغیرہ جیسے کچھ فنکار۔ طارق عزیز کچھ عرصہ کے لئے سیاست کی بھول بھلیوں میں گم ضرور ہوئے لیکن جلد ہی انہوں نے اپنی ساکھ بحال کر لی۔ جب کہ مستنصر تارڑ نے صبح کی نشریات سے زیادہ پنجہ آزمائی نہیں کی اور خود کو لکھنے تک ہی محدود رکھا۔ اسی طرح اگر اچھی شہرت کے فنکاروں کا جائزہ لیں تو شاید انگلیوں پر گا جا سکے گا۔
رنگیلا جیسے منکسر المزاج فنکار کے روز و شب تنازعات سے کم و بیش پاک ہی رہے۔ اسی طرح ان کی صاحبزادی بھی اس وقت اپنے کردار اور کام کے حوالے سے مثبت شناخت قائم کر چکی ہیں۔ انہوں نے یہ شناخت بطور ڈائریکٹر پنجاب فوڈ اتھارٹی قائم کی ہے۔ انتہائی خوشگوار حیرت اس بات پر ہوئی کہ حکومتی عہدیداروں سے جس حد تک بھی ان کا واسطہ پڑ رہا ہے، وہ بھی ان سے ہر ممکن تعاون کر رہے ہیں۔ اس کی زندہ مثال DCO راولپنڈی کے اقدامات ہیں۔ انہوں نے عائشہ ممتاز کے شروع کئے گئے کام کو تقویت دیتے ہوئے راولپنڈی میں چند بڑے مقامات کو ناقص صفائی کی وجہ سے پر سیل کر دیا۔ ان اقدامات کے بعد چند بڑے نام رکھنے والے آؤٹ لیٹس نے نہ صر ف باقاعدہ لوگوں کے سامنے اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کیا بلکہ مستقبل میں اپنا کچن لوگوں کے لیے کھولنے کا بھی اعلان کیا۔
DCO راولپنڈی ساجد ظفرصرف جواں صورت ہی نہیں ان کے حوصلے بھی جواں ہیں۔ کیوں کہ انہوں نے حقائق عوام کے سامنے لانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔ اس سے عوام کی آنکھیں کھل گئی ہیں کہ کس طرح خوبصورت پیکنگ میں زہر ان کو پیش کیا جا رہا ہے۔ ایک مثبت تبدیلی یہ بھی محسوس کی گئی کہ ساجد ظفر نے تمام اقدامات سوشل میڈیا پر پبلک کر دئے ۔ یعنی عوام کے سامنے تصاویر کے ساتھ پیش کر دئے کہ کسی کو یہ گلہ نہ رہے کہ اقدامات میں کسی بھی قسم کی جانبداری کی گئی ۔
پنجاب فوڈ اتھارٹی کی ڈائریکٹر اور DCOراولپنڈی کے مختلف مقامات پر چھاپے اور اعلیٰ برانڈ سیل کرنے سے اس خوف ناک حقیقت کا بھی پتہ چلا کہ زہر کو کس خوبصورت انداز میں ہمارے جسموں میں انڈیلا جا رہا ہے۔ ہم اپنے ہاتھوں سے یہ زہر اپنے اندر اتار رہے ہیں اور ہمیں اس کا احساس تک بھی نہیں ہوتا۔ جب کسی بیماری کے علاج کے دوران ڈاکٹر باہر کے کھانے سے منع کرتا ہے تو ہمیں مذاق لگتا ہے۔ لیکن اب اس حقیقت کا ادراک ہؤا ہے کہ زہر کی فروخت تو ہر شاہراہ، ہر گلی، ہر محلے میں دھڑلے سے جاری ہے ۔ تاہم اس مہم کا حقیقی فائدہ اسی صورت میں ہو گا کہ مستقل بنیادوں پر معیار بہتر بنانے کے لیے اقدامات کئے جائیں۔ ورنہ صرف ایک دفعہ کی مہم سے کسی بھی قسم کا فائدہ نہیں ہو گا۔ بڑے ناموں کے علاوہ گلی محلوں میں بکھرے زہر بیچتے ٹھیلوں، چھوٹے ریستورانوں، اور بے نام دوکانوں کے خلاف بھی ایسے ہی اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس کے لئے مرکزی شاہراہوں سے تھوڑآگے بڑھ کر چھوٹے راستوں کی طرف بھی سفر کرنا ہو گا۔ تب ہی حقیقی معنوں میں اس مہم کا فائدہ عوام تک پہنچ سکتا ہے۔
عائشہ ممتاز اور سجاد ظفر جیسی شخصیات اسی وقت کامیاب ہو سکتی ہیں جب عوام ان کا ساتھ دیں۔ عوام کو اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ سوشل میڈیا پر رابطہ نمبرز اور رابطہ کرنے کے دیگر ذرائع بھی دیے گئے ہیں۔ اب عوام کا کام ہے کہ وہ خود بھی ایسے عناصر کی نشاندہی کریں جو عوام میں زہر بانٹ رہے ہیں۔ ایک صحت مند اور توانا پاکستان کی تعمیر کے لئے عوام کا کردار یقیناًسب سے اہم ہے۔