انسانیت کہاں ہے

  • جمعرات 03 / ستمبر / 2015
  • 4289

جنگ پسند گروہوں اور ممالک کو مبارک ہو کہ انہوں نے ایک اور قلعہ فتح کر لیا جس کا ثبوت سوشل میڈیا پر گردش کرتی، تین سالہ شامی بچے ایلان کی ساحل پر پڑی وہ لاش ہے جسے دیکھ کر کوئی اہل دل اپنے آنسو روک نہیں سکتا۔ اس تصویر نے ہر آنکھ کو اشکبار اور دلوں کو لرزا کر رکھ دیا ہے۔ یہ تصویر دیکھ کر بھی اگر دنیا جنگوں کے خلاف اٹھ کھڑی نہ ہو تو اسے شاید صور اسرافیل بھی جگا نہ سکے۔

سرخ ٹی شرٹ اور نیلی نیکر پہنے ایلان کردی ان 12 شامی تارکین وطن میں سے ایک ہے جنہوں نے بہتر اور پرامن زندگی کا خواب دیکھا۔ اور یہ ننھا فرشتہ یہی خواب آنکھوں میں لئے اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پہنچ گیا۔ یقیناً اس معصوم نے اللہ کی بارگاہ میں یہ ضرور عرض کیا ہو گا کہ ’’ اے پروردگار کرہ ارض پر انسانیت ختم ہو چکی، اب یہ نابود ہو جائے تو بہتر ہے‘‘۔

ایلان کردی کے والد نے بہتر زندگی کے حصول کے لئے جنگ زدہ شام سے ترک وطن کیا اور عازم سفر ہؤا مگر وہ نہیں جانتا تھا کہ اس کے ساتھ موت سے بھی بدتر سلوک ہونے والا ہے۔ ایلان اور 4 مزید بچے، ان 12 شامی مہاجرین میں شامل ہیں جو کشتی ڈوبنے کے باعث جان سے گئے۔ دونوں کشتیوں میں سوار تقریباً 23 افراد میں سے صرف 9 مسافر زندہ بچ سکے، جن میں ایلان کردی کے والد عبداللہ کردی بھی شامل ہیں۔ جبکہ ایلان کا بڑا بھائی 5 سالہ گیلپ اور اس کی والدہ بھی اس حادثے میں جان کی بازی ہار گئے۔ ریسکیو اہلکاروں کے مطابق کشتی صبح 4 بجے کے قریب ڈوبی اور اس کے خیال میں حادثہ کشتی الٹنے کے باعث پیش آیا۔ ریسکیو اہلکار نے بتایا کہ کشتی میں صرف 4 لوگوں کی گنجائش تھی، لیکن اس میں 15 مسافر سوار تھے۔

خبروں کے مطابق ایلان کے خاندان نے کینیڈا میں پناہ لینے کی بھی کوشش کی تھی مگر کینیڈا کی نظر میں شاید تین سالہ ایلان شدت پسند اور دہشتگرد تھا، تبھی ان کی درخواست کو مسترد کر گیا۔ اب ایلان کے والد کی خواہش ہے کہ وہ اپنی اہلیہ اور بچے کی لاشوں کے ہمراہ کوبانی واپس جاکر انہیں اپنی دھرتی پر دفنائے اور خود دہشتگردوں کی سفاکی کا نشانہ بن جائے۔ لیکن ایلان کے اہل خاندان کے ساتھ اس کے باپ کا خون کس کے سر ہو گا یہ جاننے کی زحمت کرنے کا وقت مہذب دنیا کے پاس شاید ابھی نہیں ہے۔

اس المناک سانحہ ۔۔۔۔۔۔ بلکہ اسے عظیم سانحہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا۔۔۔۔۔۔ نے ہماری سیاسی اور معاشرتی زندگی کے مکروہ پہلوؤں کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ مہذب مغربی معاشرے کی اخلاقیات کو ننگا کر دیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ ایلان کی بے جان لاش کی تصویر نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایسا ضرور ہؤا ہوگا مگر دنیا اب بھی مظلوم و بے کس تارکین وطن کی فلاح و بہبود کے لئے کوئی اقدام کرنے کو تیار نظر نہیں آتی۔

اس تصویر نے ہمارے سماج کا انتہائی گھناؤنا چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔ یہ تصویر اپنے اندر انتہائی درد ناک داستان چھپائے ہوئے ہے۔ ایسی بھیانک داستان جو اقتدار کے ایوانوں کو نظر نہیں آتی۔ ایسی داستان جو سیاسی مصلحتوں کے پردوں میں اژدہا بنی اور آج حقیقی زندگی میں مرتسم ہو کر ذہنوں اور دلوں کو ڈس رہی ہے۔ دنیا آج عصبیتوں اور مفادات کے اندھے پن میں مبتلا ہو چکی ہے۔ ترقی یافتہ معاشروں کے احساس تفاخر کا زہر ان کے ذہنوں کو تسخیر کر چکا ہے۔ مفادات کے عفریت نے دنیا کو اتنا خون پلا دیا کہ اب اسے شکست دینا ناممکن سا لگ رہا ہے۔ آج ہمارے معاشرے سے انسانیت کا عنصر کٹ سا گیا ہے۔

یہ تصویر گویا میرے ذہن میں نقش سی ہو کر رہ گئی ہے۔ ایسا لگ رہا کہ ہماری اخلاقیات کا دامن تار تار ہو رہا ہے۔ دنیا آج اصولوں، اعلیٰ قدروں اور کھلے ذہنوں کے بجائے وقتی مصلحتوں ، مفادات اور غیر فطری راستوں کو اہمیت دے رہی ہے۔ آج اگر اقوام عالم اصولوں کاساتھ دے گی اور اقتدار کے رسیا انسانیت کی بقا کیلئے ذاتی مفادات قربان کرنے کا حوصلہ دکھائیں گے تو انسانیت آج بھی بچ سکتی ہے۔ یہ امر محال ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔