مفاہمتی پالیسی اور عوام
- جمعرات 03 / ستمبر / 2015
- 4013
پاکستان اور بھارت کی آزادی میں ایک دن کا فرق ہے لیکن دونوں ممالک میں جمہوریت میں برسوں کا فرق صدیوں جیسا ہے ۔بھارت میں جمہوریت کسی بھی حالت میں ابتداء سے تاحال موجود ہے ۔جبکہ ہمارے یہاں جمہوری ادارے اور جمہوریت کبھی بھی پوری طرح سے پنپ نہیں سکی۔ اس کی وجوہات میں ہم کئی دلیلیں لا سکتے ہیں ، بے شمار پیش کئے جاسکتے ہیں ۔
ہندوستان میں کسی بھی لمحہ آمریت کو فروغ نہیں دیا گیا اورنہ کبھی کسی نے اس کے ہونے کے بارے میں سوچا مگر ہمارے ملک میں جب بھی کوئی افتاد آئی آمرانہ قوتیں حاوی ہوگئیں ۔ان میں فوجی قوتیں بھی تھیں ، بیوروکریسی بھی آڑے آئی اور ہماری سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی آمرانہ پالیسیوں کا اطلاق کیا گیا۔ اس طرح جمہورکے مفادات اور جمہوریت کو ناقابل نقصان پہنچایا ہے۔ملک میں جب جب جمہوریت نے اپنی جڑیں مضبوط کرنا چاہیں تب تب اسے مختلف انداز میں کھوکھلا کیا جاتا رہا ۔ جنرل ضیاء کے بعد ملک میں جمہوریت کو پروان چڑھنے کی امید ہوچلی تھی لیکن بیوروکریسی نے اسے فروغ نہ پانے دیا ۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کی پہلی حکومتوں کوسابق صدر غلام اسحاق خان کے عتاب کا سامنا کرنا پڑا جبکہ پیپلز پارٹی کی دوسری حکومت کو انہی کی پارٹی کے منتخب صدر فاروق خان لغاری نے آرٹیکل 58 ( 2 ) b کے تحت کرپشن اور اقربا پروری کی بنیاد پر ختم کردیا ۔
اسی طرح میاں نواز شریف کا دوسرا جمہوری دور فوجی جرنیل پرویز مشرف نے منوں مٹی میں دفنا دیا اور عوام کا وہ حال کیا کہ وہ اب تک آٹے دال کے بھاؤ سے ہی باہر نہیں سکے ہیں ۔مشرف دور ہر لحاظ سے ملکی تاریخ کا بد ترین دور کہا جاسکتا ہے کیونکہ اس دور میں ایک طرف ملکی سا لمیت داؤ پر لگی تو دوسری جانب سیاسی جماعتوں کی جانب سے کئی غلط فیصلے ہوئے ۔ کئی سیاسی رہنما ایک آمر کے دست و بازو بنے جنہوں نے ملکی تعمیرو ترقی کی آڑ میں نہ صرف ملکی استحکام ، دفاع، بقا اور سالمیت سمیت عوام کو ایک ایسے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں دکھیل دیا جہاں سے نکلنا محال ہے ۔شدت پسندوں اور دہشت گردوں کو مکمل آزادی فراہم کی گئی ، جنہوں نے ملک کو تہس نہس کرڈالا ہے۔
مشرف دور کے اختتام سے ذرا پہلے جب طے پاگیا کہ اب ملک میں ایک بار پھر جمہوریت کا بول بالا ہوگا ۔ ملک کی دوبڑی جماعتوں نے جمہوریت کی آبیاری کیلئے باہم ایک معاہدہ کیا اور اسے میثاق جمہوریت کا نام دیا گیا۔یہ میثاق بھی عوام کیلئے ایک خام خیال منصوبہ تھا ۔جس طرح سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگایا گیا تھا جو پاکستان کی ترقی و خوشحالی کو بنیاد بناکر لگایا گیا تھالیکن اس کے برعکس ہمارے وطن عزیز کو پرائی جنگ میں دکھیل دیا گیا تھا جو ملک کے طول عرض میں آگ کی مانند لگی ہوئی ہے اور لاکھوں افراد اس میں جل کر مر چکے ہیں۔بنیادی طور پر یہ میثاق ایک طرح سے کسی بھی کرپٹ حکومت کی داغ بیل رکھنے کی ابتدائی کوشش تھی جو بہت حد تک کامیاب ہوئی ۔
پی پی کی حکومت معرض وجود میں آئی جس نے اپنے پورے پانچ برسوں میں جمہور اور جمہوریت کا ستیاناس کردیااور پھر تیسری باری کیلئے نواز حکومت میدان میں آگئی، یعنی یہ جمہویت ہی کا حسن ہے کہ چند کرپٹ لوگ ملکر عوامی مینڈیٹ کا جس طرح چاہیں استعمال کریں کرسکتے ہیں ۔کہا جاتا ہے کہ اب پاکستان کے عوام باشعور ہوچکے ہیں شاید یہی وجہ ہے کہ موجودہ حکومت کو اپنے قیام سے تاحال مشکلات اور رکاوٹوں کا سامنا ہے ۔پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان شروع دن سے نواز حکومت کو نہیں مانتے اور اسے ایک جعلی مینڈیٹ کی حامل حکومت کے القاب سے نوازتے رہتے ہیں ۔ طاہرالقادری جن کا کسی صوبائی یا قومی اسمبلی میں کوئی نمائندہ نہیں پھر بھی وہ اس کے مخالف ہیں اور اسے ایک قاتل حکومت کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔ کئی دیگر اہم سیاسی جماعتیں بھی اب موجودہ حکومت سے نالاں ہیں اور ساتھ ساتھ نواز حکومت پر طالبانائزیشن سے ہمدردی کا الزام بھی عائد کیا جاتا ہے۔
پاکستان کو کئی اہم مسائل درپیش ہیں جن میں شدت پسندی اور دہشت گردی سرفہرست ہیں ۔ ضرب عضب شدت پسندوں اور دہشت گرودں کیخلاف نہایت کامیابی سے جاری ہے جبکہ کراچی میں دہشت گردوں کی سرکوبی کیلئے آپریشن ستمبر 2013ء سے صوبہ سندھ کی تمام اسٹیک ہولڈر جماعتوں کی مشاورت اور رضامندی سے جاری ہے۔ البتہ رواں سال اس میں تیزی آئی ہے جو بعض سیاسی جماعتوں کو برداشت نہیں ہورہی ۔ حالانکہ آپریشن کے آغاز پر سب نے اس کی کامیابی کیلئے مکمل حمایت اور تعاون کی یقین دہانی کروائی تھی ۔ لیکن اب صورت حال اس کے برعکس ہے ۔ اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ کئی سیاسی رہنما اور سیاسی جماعتیں اپنے اندر آمرانہ مزاج رکھتی ہیں اور مقتدر رہنے کیلئے کرپشن ، اقرباپرورعناصر کی پشت پناہی کرتی ہیں ۔ ساتھ ہی ان کے سہولت کار کا کردار بھی ادا کرتی ہیں۔
موجودہ حکومت کو سب سے زیادہ غلط قرار دینے والی جماعت پی ٹی آئی اور اس کے بعد پاکستان عوامی تحریک تھی ۔ لیکن وقت کے ساتھ غیر سیاسی رویوں کے باعث کراچی کی سب سے مقبول عام جماعت متحد قومی موومنٹ بھی اس کی حلیف نہیں رہی ۔حالیہ دنوں میں جس قسم کے اقدامات سامنے آئے ہیں اس سے حکومت کی سب سے قریبی اور ہمدرد جماعت پیپلز پارٹی نے بھی نہ صرف ہاتھ کھینچ لیا ہے بلکہ پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری نے صوبہ پنجاب کے سابق صدر قاسم ضیاء، سینیٹر رخسانہ بنگش کے بیٹے اور اپنے دیرینہ دوست اور سابق وفاقی وزیر پیٹرولیم ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور پارٹی کے سینئر رہنما مخدوم امین فہیم کے وارنٹ گرفتاری پر اسے کھلی جنگ قراردیدیا ہے۔ ان اقدامات پر پی پی ملک بھر میں سراپا احتجاج ہے ۔ زرداری نے مسلم لیگ کے ساتھ مفاہمتی پالیسی کو مزید جاری رکھنے سے بھی انکار کردیا ہے ۔ برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں میاں صاحب کو واضح انداز میں کہہ دیا ہے کہ انہوں نے ماضی سے کچھ نہیں سیکھااور 90 ء کی دہائی کی سیاست دوبارہ شروع کردی ہے ۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو نتائج نہایت بھیانک برآمد ہونگے۔وہ کہتے ہیں کہ موجودہ حکومت کے ان کی پارٹی کیخلاف تمام اقدامات سیاسی انتقام کی جانب اشارہ ہیں جبکہ وہ حقیقی دشمن کو چیلنج کرنے کی بجائے پی پی اور دیگر سیاسی جماعتوں کو نشانہ بنارہے ہیں۔وہ اپنے فطری ساتھی یعنی طالبان اور دہشت گرود ں کو بچانے کیلئے دہشتگردی کی جنگ کو کمزور کرنے کیلئے قوم کو تقسیم کررہے ہیں۔
آصف زرداری سندھ میں وفاقی مداخلت کو انتہائی غیر آئینی قراردیتے ہوئے وفاقی ایجنسیوں کی کارروائیوں کو آئین کی کھلی خلاف ورزی سمجھتے ہیں ۔ ان کا یہ بیان موجودہ حکومت کیلئے بہت اہم ہے کہ شریف برادران کا اقتدار میں آنا پی پی کا مرہون منت ہے۔ اس سے ثابت تو یہی ہوا کہ موجودہ حکومت کا عوامی مینڈیٹ کا دعویٰ غلط ہے اور حقیقت صرف یہ ہے کہ ملک میں سیاسی جماعتیں جب چاہیں عوام کو گمراہ کرلیں ۔ان کے سامنے عوام کی کوئی اہمیت نہیں ۔ عمران خان چار حلقے کھولنے کا کہہ رہے تھے۔ تین کا نتیجہ نکل آیا ہے ممکن ہے کہ چوتھا بھی عوامی مینڈیٹ سے مبرا مفاہمت کی پالیسی کا آئینہ دار ہو۔
ن لیگ کی حکومت کا سب سے بڑا مسئلہ یہ رہا ہے کہ اسے سیاست نہیں کرنی آتی ۔ یہ بنیادی طور پر کاروباری حلقوں سے وابستہ افراد کی جماعت ہے ۔ عوام کی ان کو پرواہ اس لئے نہیں کہ یہ عوامی لوگ نہیں۔ ورنہ پیٹرول سستا ہونے پر غائب نہ ہوجاتا ، گیس کی کمی کا رونا نہ رویا جاتا ، توانائی کا بحران سرنہ اٹھاتا۔ یہ لوگ کچھ دو اور کچھ لو کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ جیسا کہ آصف علی زرداری نے مفاہمت کی پالیسی اختیار کی تھی جسے وہ میثاق جمہوریت کا نام دیتے رہے ہیں ۔ اب اس پالیسی کو صرف اس وجہ سے ترک کیا جارہا ہے کہ قوم کا پیسہ لوٹنے والے ان کے ہمنوا ہیں جنہیں گرفتار کیا گیا ہے۔جب پی پی کی حکومت تھی تو مسلم لیگ کے لوگوں کو انہیں تحفظ حاصل رہا۔ اب ن لیگ ان کے ساتھ وہی برتاؤ نہیں کررہی ۔ انہیں نواز شریف سے اس رویہ کی امید نہیں تھی۔
تاہم سوال تو یہ ہے کہ آخر اس مملکت خداد کے عوام اور ان کے مینڈیٹ کا احترام کون کریگا ۔ کیا ہر سیاسی جماعت اپنی ذات کے لئے مفاہمت کریگی اور اس کی غلام گرشوں میں ہی مقید رہے گی۔