یورپ چیخ اُٹھا

  • اتوار 06 / ستمبر / 2015
  • 4280

ایک تین سال کے بچے نے پورے یورپ کوجھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ تین سالہ ایلان کی افسوسناک موت سے پناہ گزینوں کا مسلہ عالمی ایجنڈے پر آسکا ہے۔

کم و بیش پوری اسلامی دنیا اس وقت شورش کا شکار ہے۔ اس میں کچھ حصہ تو اغیار کا ہے اور بہت سارا حصہ ہمارا اپنا ہے۔ مسلمان ممالک حقیقی لیڈروں سے محروم رہے ہیں۔ یا تو انہیں منظر نامہ سے غائب کردیا گیا یا ایسے کٹھ پتلی لیڈر ہم پر مسلط ہوئے جو مسائل کو سمجھنے اور حل کرنے کے قابل نہیں تھے۔

پاکستان بھی اس وقت عملی طور پر حالت جنگ میں ہے۔ ملک کا شاید ہی کوئی حصہ ہو جہاں آپریشن نہ ہو رہا ہے۔ ملت اسلامیہ کا نگہبان سعودی عرب۔۔۔ ایک ہمسایہ ملک کی اینٹ سے اینٹ بجانے میں مصروف ہے۔ یمن حوثیوں کا ہے؟ ایرانیوں کا یا سعودیوں کا؟ یا پھر یمنیوں کا؟ اس بات پر مباحث کی بجائے جنگ جاری ہے۔ مصر میں جمہوریت کے نام پر سالوں سے مسلط آمریت کا خاتمہ ہوا تو جمہوریت کو ایک آمر نے پھر سے محکوم کرلیا۔ اردن میں بھی روشن خیال نگہبان ہیں۔ افریقی مسلمان ملکوں کو تو کبھی سر اٹھانے ہی نہیں دیا گیا۔ افغانستان کا حال کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ حالات سدھرنا شروع ہوئے تو 9/11 ہوگیا۔ ایران کو قوت پرواز سے محروم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے۔ صرف ملائشیااور ترکی ایسے اسلامی ممالک نظر آتے ہیں جو کسی قدر بہتر حالت میں ہیں۔

مسلمان ممالک یورپی ممالک و امریکہ کے طفیلی خطے کی صورت اختیار کرچکے ہیں۔ یہ ممالک کبھی بھی یورپ کے موقف میں دراڑ نہیں ڈال سکے۔ لیکن اب مسلمان مہاجرین کے حوالے سے نہایت سخت موقف رکھنے والا یورپ موم ہونے کے قریب ہے۔ یہ کام ایک تین سالہ بچے نے کیا ہے۔ اس تبدیلی کے لئے تین سالہ ایلان کردی Aylan Kurdi کو اپنی جان قربان کرنا پڑی ہے۔

لیکن یہ کام وہ اپنی زندگی میں نہیں کر سکا۔ اس کی لاش نے یہ کام کیا ہے۔ تاریخ لکھی جائے گی کہ مسلمانوں کی لمبی قطاریں یورپ داخلے کی منتظر تھیں۔ اور ایلان کی لاش نے ان کے روشن مستقبل کے بند دروازے کھول دئے۔ تاریخ کے اوراق میں یہ بھی لکھا جائے گا کہ مسلمان اپنی نسل کو امن نہیں دے پائے اور وہ ساحلوں پر مر گئی۔

شام میں اس وقت خانہ جنگی کی صورت حال ہے۔ حیران کن طور پر عالمی دنیا باغیوں کو اسلحہ دے رہی ہے اور ہم خوش ہو رہے ہیں کہ بشار الاسد سے جان چھوٹے گی۔ عقل کی اندھی مسلم امہ یہ سوچنے سے قاصر ہے کہ بشار الاسد کو ہٹانا ہے تو ہم کیوں نہ ہٹائیں۔ کیا ہم میں اتنی طاقت نہیں کہ اگر اس کی پالیسیاں غلط ہیں تو تمام مسلم ممالک مل کر اس کو اقتدار چھوڑنے پر مجبور کریں؟ لیکن ایسا ہم نہیں کر سکتے۔

ایلان اپنے خاندان کے ساتھ شورش زدہ شام سے یورپ داخلے کی کوشش میں تھا۔ اسے تو شاید پتہ بھی نہ ہو کہ شام اور یورپ میں فرق کیا ہے۔ کشتی بوجھ نہ اٹھا سکی۔ او ر ڈوب گئی۔ ایلان ، اس کا بھائی غالب یا گلبGallip اور اس کی ماں ریحان لہروں کی نظر ہو گئے۔ ان کا باپ ایک بوسیدہ تختے کو پکڑے ان کو ڈوبتے دیکھتا رہا۔ عبد اللہ اس کے علاوہ کر بھی کیا سکتا تھا۔ اور اس کا خاندان 12لوگوں کے ہمراہ سمندر میں گم ہو گیا۔ لہروں نے ایلان کی سانسیں روک دیں لیکن وہ اس کی معصومیت کو ختم نہ کر پائیں۔

لہروں پہ جھولتا ہوا تین سالہ ایلان کا لاشہ ترکی کے ساحلی مقام بودرم Bodrum  پر کیا آیا کہ پوری دنیا میں گویا بھونچال سا آ گیا (پاکستان دنیا میں نہیں آتا اسی لئے یہاں کا سب سے اہم موضوع سیاسی چپقلش ہی رہی)۔ دنیا کے کروڑوں مہاجرین جو یورپی ممالک سمیت دوسرے ممالک کا رخ کرنے کے بے تاب ہیں ان کے لئے ایلان اب ایک ہیرو کی طرح ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگا لیجیے کہ برطانوی میڈیا اپنے وزیر اعظم کے نام ایک درخواست دے چکا ہے۔ جس پر چند لمحوں میں10ہزار لوگوں نے حمایت میں دستخط کئے ہیں۔ روزنامہ "انڈیپنڈنٹ" نے اس درخواست کو اپنے ادارئے کا موضوع بنایا ہے جس کا عنوان " کسی کا بچہ" ہے۔ اس میں اخبارنے برطانوی وزیر اعظم سے درخواست کی ہے کہ تارکین وطن کی آباد کاری میں وہ اپنا کردار ادا کریں۔ ایک اور برطانوی اخبار سن SUN  نے وزیر اعظم کے نام صفحہ اول پر پیغام لکھا کہ وہ ناکردہ گناہوں کی پاداش میں زندگی اور موت کے بیچ جہدوجہد کرنے والوں کی مدد کریں۔ برطانیہ کے ہی اخبار ڈیلی میل نے معصوم ایلان کا خاکہ تقریباً ہر صفحے پر شائع کیا اس سرخی کے ساتھ : " ایک انسانی المیے کا ننھا شکار "۔

ساحل پر اوندھی ایلان کی لاش نے وہ کر دکھایا جو ایک عرصے سے نہیں ہو پایا۔ تارکین وطن پر سخت گیر موقف رکھنے والا یورپی میڈیا چیخ چیخ کر تارکین وطن کے حق میں آواز بلند کر رہا ہے۔ انڈیپنڈنٹ نے ہی اپنے ایک ادارئے میں لکھا کہ اگر ایلان کا ننھا لاشہ یورپ کا سخت موقف تارکین وطن کے حوالے سے تبدیل نہ کر سکا تو پھر کس چیز کی گنجائش رہ جاتی ہے۔

ایلان روشن مستقبل کی منزل پر نہ پہنچ سکا۔ اس بد قسمت خاندان کا صرف سربراہ ہی بچ پایا۔ ایلان کی لاش امت مسلمہ کے منہ پر ایک طمانچے کی صورت ہے۔ یہ ملت اپنے لوگوں کو دنیا بھر کی دولت ہونے کے باوجود تحفظ دینے میں ناکام ہے۔ اس کے نتیجے میں وہ مغربی ممالک میں دوسرے درجے کے شہری بن کر رہنے کو تیار ہیں۔ عالمی طاقتوں کی کٹھ پتلیاں، مسلم دنیا کے حکمران خواب غفلت سے شاید اس وقت جاگیں گے جب پوری امہ ساحلوں پہ مردہ ملے گی ۔