بھارت میں مسلمانوں کی حالت

  • سوموار 07 / ستمبر / 2015
  • 5154

ابھی چند دن قبل بھارتی حکومت نے مذہبی بنیادوں پر آبادی کے اعداد وشمار شائع کئے ہیں۔ جس میں اس بات کا تذکرہ ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی میں اضافہ ہو ا ہے۔رپورٹ پر ہندوتوا کے علمبرداروں نے تشویش ظاہر کی ہے۔ پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا نے بھی مختلف تجزئے شائع کئے۔ہندی اخبار امر اجالا کا کہنا ہے کہ اگلے پینتس سال تک مسلمان ہندوؤں کے نصف بھی نہیں پہنچ پائیں گے۔اس لئے افواہ پھیلانے سے گریز کیا جائے۔

ایک ہندی اخباردینک بھاسکر نے لکھا کہ اگر مسلمان کی آبادی موجودہ شرح سے بڑھتی رہی تو دونوں کو برابر ہونے میں دوسوستّر سال لگیں گے یعنی 2285ء میں ایسا ہونے سے بھارت کی آبادی 13,000کروڑ ہو جائے گی۔ انگلش روزنامہ دی ہندو کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں میں آبادی بڑھنے کی شرح باقی دیگر کے مقابلہ میں سب سے ذیادہ کم ہوئی ہے۔ ان تجزیوں کے علاقہ وشو ہندو پریشد کے لیڈر پروین توگڑیا اپنے متنازعہ مضمون میں لکھتے ہیں کہ اگر مسلمان دو سے زیادہ بچے پیدا کرتے ہیں تو ان کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہئیے۔ اس صورت میں راشن، کام اور تعلیم کی سہولیات بھی ان سے چھین لینا چاہئیں۔توگڑیا کا یہ بیان آرایس ایس کے ترجمان'آرگنائزر'میں شائع ہوا ہے۔

بیان پر خاموشی اختیار کی جائے؟قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا جائے؟یا پھر اس بیان کو فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو زبردست نقصان پہنچانے والا سمجھا جائے؟یہ فیصلہ عام لوگوں کو کرنا ہے۔لیکن فی الوقت اسلام اور مسلمانوں کے حوالے سے ملک کے وزیر اعظم کیا فرماتے ہیں،اس جانب آپ کی توجہ مبذول کراوانا چاہتے ہیں۔مودی جی کہتے ہیں کہ دنیا کے سامنے اسلام کی حقیقی تصویر پیش کی جانی چاہیے۔جس میں صوفی روایات بھی شامل ہیں۔اور بقول ان کے اِن روایات میں شامل محبت اور سخاوت کے پیغام سے پوری انسانیت کو فائدہ پہنچایاجاسکتا ہے۔

آج اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کی ہر ممکن کوشش ہو رہی ہے۔ایک طرف ان لوگوں کی جانب سے جو خود کو مسلمان کہتے ہیں لیکن عمل اسلام کے برخلاف کرتے ہیں۔ دوسری طرف ان لوگوں کی جانب سے جوخود کو ترقی پسند،روشن خیال اورجدید مسلمان کہلانا پسند کرتے ہیں۔ پھر مسلمان دشمن گروہ بھی سرگرم عمل ہیں جن میں سے ایک گروہ ک کی نمائیندگی توگڑیا کررہے ہیں۔ مزید ایک قدم آگے بڑھیں تو معلوم ہوگا کہ اسلام اور مسلمانوں کو صرف بدنام ہی نہیں کیا جا رہا ہے بلکہ ان کا تشخص ختم کرنے اور مٹانے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ان کوششوں میں مسالک کی بنیاد پر تقسیم شامل ہے۔ جمہوریت کے مقابلہ بادشاہت اور ڈکٹیٹرشپ کا فروغ، باہمی جنگیں اور فرقہ وارانہ فسادات بھی اسی رویہ کے مظاہر ہیں۔ اس قسم کی باتوں کو مثال بنا کر مسلمانوں کو بدنام کیا جاتا ہے۔ افراد، اداروؓ اورجماعتوں کے مقاصد و نصب العین کو مشکوک بنایا جاتا ہے۔ پھر دہشت گردی کا حربہ موجود ہے۔ دہشت گردی کے نام پر بیگناہ مسلم نوجوانوں کو قیاس و شک کی بنا پر جیلوں کی کوٹھریوں قید کیا جاتا ہے۔ بھارت میں مسلمانوں کو طویل عرصہ سے معاشی،معاشرتی،تعلیمی،اقتصادی اور سیاسی میدانوں میں ،ملک کے کمزور ترین طبقہ دلت سے بھی گئی گزری حالت میں پہنچانے کی منظم کوششیں کی جاری ہیں۔اس کی زندہ مثال وہ اعداد و شمار اور تجزیے ہیں جو'سچر کمیٹی رپورٹ 'کی صورت میں دنیا کے سامنے آئے ہیں۔ مسلمان مختلف حیثیتوں سے خانوں میں بانٹے جاچکے ہیں اوراس تقسیم و انتشار میں خودمسلمانوں نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔

اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ایک وقت آئے گا جب دنیا مسلمانوں پر ایسے ٹوٹے گی جیسے دستر خوان پر بھوکے ٹوٹ پڑتے ہیں۔صحابہ کرام نے حیرت کا اظہار کیااور پوچھا ،یا رسول اللہ کیا ہم تعداد میں اس وقت بہت کم ہوں گے؟۔آپ نے فرمایا ،نہیں تم تعداد میں بہت زیادہ ہوگے،لیکن تمہارے اندر ایک بیماری پیدا ہو جائے گی،جس کا نام وہن ہے۔صحابہ نے پوچھا وہن کیا ہے؟آپ نے کہا دنیا سے محبت اور موت کا خوف(بخاری و مسلم)۔حقیقت یہ ہے کہ آج جہاں کہیں بھی فساد برپا ہے اور جو ذلتیں و رسوائیاں مسلمانوں کو اٹھانی پڑ رہی ہیں،اس کی بنیادی وجہ دنیا سے بے انتہا محبت اور موت کا خوف ہی ہے ۔دنیا کی محبت میں انسان نے انسانیت سے ناطہ توڑ لیا ہے،ظلم و زیادتیوں میں اضافہ ہوا ہے، حقوق کی ادائیگی میں سرگرم نہیں نتیجتاً قول و عمل میں تضاد ہے۔

اس وقت بھی قلیل ہی صحیح لیکن ایک تعداد ایسی ضرور موجود ہے جو اسلام سے سچی محبت رکھتی ہے۔ اس کی تعلیمات کی روشنی میں اپنے شب و روز کو سنوارتی ہے۔ حقیقی پیغام کو عمل کے ذریعہ عام کرتی ہے۔جس کے نتیجہ میں ڈر،خوف،فسق و فجوراور جھوٹا پروپگنڈاغلط ثابت ہوتا ہے۔ پھر یہ بھی ہوتا ہے کہ ایک جانب ہندوستان کی راجدھانی دہلی میں مخصوص معاشرہ سے وابستہ افراد ظلم و جبر سے نجات کی خاطر،اسلام کے آغوش میں پناہ لیتے ہوئیسابقہ مذہب سے ناطہ توڑلیتے ہیں۔ دوسری جانب براعظم افریقہ کے ملک روانڈا میں ایک چرچ ہی مسجد میں تبدیل ہو جاتا ہے اورسیکڑوں عیسائی مشرف بہ اسلام ہوتے ہیں۔سوال ہے کہ ایک ایسے دور میں جبکہ مسلمان خود چہار جانب حد درجہ ظلم و زیادتیوں اور جبر و تشدد کا شکار ہیں،دنیا اسلام کیوں قبول کر رہی ہے؟کیا وہ نہیں جانتے کہ موجودہ دور میں مسلمانوں پر کیا گزر رہی ہے۔ کیا وہ نا سمجھ اور لاعلم ہیں؟یا اسلام اختیار کرنا دراصل ایک بہانہ ہے،ورنہ پس پشت مقاصد کچھ اور ہیں؟

نہیں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ وہ سمجھ دار بھی ہیں اور علم والے بھی۔ ان کے نزدیک اسلام اختیار کرنے کا مقصد اگر کچھ ہے تو صرف اور صرف ایک مقصد،اور وہ یہ کہ اسلام تمام مسلمانوں کو برابر کا درجہ عطا کرتا ہے۔یہاں ذات پات،اونچ نیچ، کالے گورے کی درجہ بندیاں نہیں ہیں اور نہ ہی یہاں پیشہ کی بنیاد پر کوئی اعلیٰ ہے تو کوئی ادنیٰ ۔تفریق ہے تواعمال کی بنا پر، متقی و پرہیز گار ہونے کی بنا پر۔اس کے باوجود غلطی،گناہ،اور قانون شکنی کی سزا سب کے لئے برابر ہے۔چاہے پرہیز گاری میں وہ اعلیٰ درجہ پر فائز ہو یا ادنیٰ ۔ معاشی اعتبار سے وہ امیر ہو یا غریب، سیاسی اقتدار و طاقت کے لحاظ سے خواہ وہ اعلیٰ ترین مقام ہی پر فائز ہو۔اس کے باوجود سزا سب کے لیے برابر ہے۔ الاّ یہ کہ مظلوم خود ہی بلا زور زبردستی ظالم کی سزا میں کچھ تخفیف کردے یا وہ اسے معاف کردے۔

اسلام انسان کو بندوں کا نہیں بلکہ اس خدا کا غلام بناتا ہے جس نے دنیا میں موجود ہر چیز کو پیدا کیا ہے۔اور آخری بات یہ کہ اسلام اس عقیدۂ آخرت سے باخبر کرتا ہے،جس پر اگر کسی شخص یا گروہ کا یقین ،عمل میں تبدیل ہو جائے ،تو پھر اس کے لیے دنیا و آخرت ہردو مقام پر کامیابی طے شدہ ہے۔اسلام میں داخل ہو کر متذکرہ چند فائدوں کے علاوہ بے شمار فائدے ہیں،جنہیں ہم اور آپ اچھی طرح محسوس کر تے ہیں۔اس کے باوجود مسلمانوں کی ذلت و رسوائی کے چرچے ہرطرف عام ہیں۔کہیں شام میں جاری خانہ جنگی کے حوالے سے تو کہیں میانمار میں انتہا پسند بدھوں کے ذریعہ ان کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ مظلوم فلسطینیوں کی شکل میں تو کہیں فسادات اور حد درجہ ظلم و زیادتیوں کی شکل میں ۔۔۔۔یہی وجہ ہے کہ ملک کا نائب صدر ،ایک اجلاس میں اپنے کلیدی خطبے کے درمیان مجبوراً کہتا کہ ہند وستان میں مسلمان عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

حکومت کو چاہیے کہ وہ 'سب کا وکاس سب کا ساتھ ' نعرے کو یقینی بنائے۔اس پورے پس منظر میں مسلمانوں کی آبادی بڑھنے کی بات کی جائے تو ہم کہیں گے کہ ہاں مسلمانوں کی آبادی بڑھ رہی ہے اوروطن عزیز ہی میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں ۔ لیکن آبادی میں یہ اضافہ بچے پیدا کرکے نہیں بلکہ اسلام کی اعلیٰ تعلیمات سے متاثر ہو نے کی وجہ سے سامنے آرہا ہے۔ایسے میں میں اگر کسی کو اسلام قبول کرنے والوں سے اعتراض ہو تو اعتراض سے قبل خود میں سدھار کی فکرکیجئے۔ صرف اعتراض اور پابندیوں سے مقاصد حاصل نہیں ہو سکتے ۔